مقالات

 

ایک بیٹی کو بہترین باپ کی طرف سے خوبصورت تحفہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

صدیقہ طاہرہ (س)مدینے میں اپنے والد گرامی خاتم الانبیاء کا انتظار کررہی ہیں ، کافی دن ہوگئے اس نونہال رسالت اور پیکر عصمت و طہارت نے ٹوٹ کر پیار کرنے والے باپ کی زیارت نہیں کی ہے ، دل بے چین ہے ، مضطرب ہے ، صبح سے رسول کی زیارت کے لئے آنکھیں فرش راہ بنی ہوئی ہیں ،کبھی بچوں کو سینے سے لگاکر پیار کرتی ہیں تو کبھی گھر کے کاموں میں فضہ کا ہاتھ بٹاتی ہیں لیکن باپ کی یادیں ہیں جو کسی صورت پیچھا چھوڑنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔
ایسا نہیں تھا کہ یہ محبت و الفت یک طرفہ تھی ، بلکہ یہ بیٹی جس قدر اپنے باپ سے پیار کرتی تھی اس سے کہیں زیادہ باپ اپنی بیٹی سے محبت کرتاتھا ،بعض لوگوں نے یہ بھی کہاہے کہ جب یہ بیٹی باپ کے سامنے ہوتی تھی تو وہ باپ اس طرح لپک کر اپنی بیٹی کے پاس جاتاتھا جیسے ایک بیٹا اپنی ماں کے پاس جاتا ہے۔اس باپ کا معمول تھا کہ روزانہ سونے سے پہلے اس بیٹی کے رخسار کا بوسہ لیتاتھا اور اپنے ہاتھوں کو بلند کرکے اسے ڈھیروں دعائیں دیتاتھا ۔اسی کا کہنا تھا کہ میری بیٹی کائنات کی تمام عورتوں کی سردار ہے ، وہ میرا ٹکڑا ہے...میری آنکھوں کا نور ہے ...میرا میوۂ دل ہے...میرے بدن میں میری روح ہے ...وہ تو انسانی شکل میں ایک حور ہے ۔(١)
پوری کائنات میں باپ بیٹی کی اس منفرد محبت و الفت کو دیکھ کر استعارے کی زبان میں یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ دونوں ایک جاں دو قالب تھے ، اگر کوئی ایک کو اذیت پہونچاتا تو دوسرا خود بخود اذیت محسوس کرتاتھا ، اگر کوئی ایک کو ناراض کرتاتھا تو دوسرا خود بخود ناراضگی کا اظہار کرتاتھا۔(٢)
اس باپ کو اپنی بیٹی کی جدائی قطعی برداشت نہیں تھی ، اسی لئے جب دین الٰہی کی تقویت اور مسلمانوں کی ترقی و کامرانی کے لئے مدینہ سے باہر جاناہوتاتھا تواپنے جذبۂ الفت و محبت اور شفقت کی تسکین کے لئے سب سے آخرمیں اپنی اس اکلوتی بیٹی کے پاس جاکر رخصت ہوتاتھا اسی طرح جب وہ اپنے سفر سے واپس مدینہ آتاتھا تو سب سے پہلے اپنی بیٹی کی زیارت کرکے سفر کی تھکاوٹ دور کرتا تھا ۔
ہاں ! یہ سچ ہے کہ رسول خدا(ص) اپنی بیٹی ، اکلوٹی بیٹی کی زیارت کے ذریعہ اپنے مضطرب دل کو سکون پہونچاتے تھے اور صدیقۂ طاہرہ کو دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پہونچاتاتھا ۔(3)
آج رسول خدا(ص) خیبر و فدک کو فتح کر کے فاتحانہ انداز میں مدینہ واپس آرہے ہیں ، سفر کی تھکن ان کے چہرے سے ظاہر ہے ، دل مضطرب ہے ، قلب و نظر کو سکون و آرام کی ضرورت ہے۔ اس اضطراب کی وجہ یہ ہے کہ آپ کا دل اپنی بیٹی کے لئے تنگ ہے ، بہت دنوں سے آپ نے جان سے زیادہ عزیز بیٹی کی زیارت نہیں کی ہے ؛ اسی لئے آپ معمول کے مطابق سب سے پہلے اپنی بیٹی کے گھر پہونچے اور دق الباب کیا۔
صدیقہ طاہرہ نے دروازہ کھولا ، سامنے اپنے والد گرامی کو دیکھ کر خوش ہوئیں اور اپنے مرکز سکون سے جا لگیں ، رسول خدا(ص) دیر تک اپنی بیٹی کو سینے سے لگائے رہے ۔
آپ گھر کے اندر تشریف لائے ، صحن خانہ پر ایک نظر دوڑائی ، دیکھا کہ ام ایمن گھر میں موجود ہیں ، وہ فاطمہ زہراء (س) سے ملاقات کرنے آئی تھیں ۔ آپ نے پہچانا یہ ام ایمن ان عورتوں میں سے ہیں جنہیں رسول خدا(ص)نے جنت کی بشارت دی ہے، یہ خاندان عصمت و طہارت سے والہانہ محبت کرتی ہیں اوران کے شوہر لشکر اسلام کے سردار ہیں ۔(4)
رسول خدا(ص) اپنی بیٹی کے پاس بیٹھ جاتے ہیں ، پہلو میں ان کے دو نواسے حسن و حسین علیہما السلام بھی موجود ہیں ، آپ اپنے دل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں ، اس لئے کہ یہی وہ افراد ہیں جو رسول کے لئے خوشی و مسرت کا سامان فراہم کرتے ہیں ، انہیں دیکھ کر رسول کو سکون ملتاہے ۔
تبھی اس خوشی کے ماحول میں جبرئیل امین نازل ہوتے ہیں اور رسول اور ان کے اہل بیت کو سلام کرکے قرآن مجید کی آیت پڑھتے ہیں :
(وَآتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّہُ)''اے رسول !آپ اپنے قرابت داروں کو ان کا حق دے دیجئے ''۔(5)
رسول خدا(ص) سوچنے لگے ، آخر خدا کے اس خصوصی فرمان کا مقصد کیاہے ، خداوند عالم اپنے اس فرمان کے ذریعہ کن لوگوں کو ان کے حقوق دلوانا چاہتاہے...؟
آپ نے جبرئیل امین سے فرمایا: اے جبرئیل !مجھ سے بیان کرو کہ میں کن لوگوں کے حقوق ادا کروں ...خدا کن لوگوں کے حقوق دلوانا چاہتاہے ...؟
جبرئیل نے عرض کی : اے حبیب خدا(ص)!تھوڑی دیر صبر کیجئے ، میں خداوندعالم سے اس کا مقصود معلوم کرکے آتاہوں ....تھوڑی دیر بعد جبرئیل امین دوبارہ نازل ہوئے اور عرض کی : خداوندعالم فرماتاہے کہ خیبر کی فتح کے بعد فدک کا جو علاقہ آپ کے اختیار میں آیا ہے اسے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا(س) کو ہبہ کردیجئے ، آج کے بعد فدک فاطمہ زہراء (س) کی ملکیت ہوگی۔(6)
رسول خدا(ص) نے خوشی سے اپنی بیٹی فاطمہ کو دیکھا اور فرمایا: بیٹی فاطمہ !خدانے مجھے حکم دیاہے کہ میں فدک تمہارے حوالے کردوں ، میں فدک کی سرزمین تمہیں ہبہ کرتاہوں ۔(7)
جی ہاں!صدر اسلام میں صدیقۂ طاہرہ کی مادر گرامی نے اپنی تمام دولت و ثروت کو اسلام کی حقانیت اور اس کی نشر و اشاعت کے لئے وقف کردیا تھا ، اپنی دولت کی ایک ایک پائی اسلام کی راہ میں لٹا دی تھی ...آج خدا نے ارادہ فرمایا کہ جس دولت و ثروت کو خدیجہ نے اسلام کی راہ میں قربان کیا تھا اسے ان کی بیٹی فاطمہ کو واپس کردیاجائے ۔
ظاہر ہے بیٹی کو ایک باپ نے حسین اور خوبصورت تحفہ دیاتھا ، خوشی کا ماحول تھا ، رسول خدا(ص) مسکرا رہے تھے ، تبھی اچانک ان کے چہرے سے تشویش ظاہر ہونے لگی ،اس وقت نگاہ رسالت نے کیا دیکھا اور کیا محسوس کیا نہیں معلوم لیکن اچانک اپنی پیاری بیٹی سے فرمایا : بیٹی !قلم و دوات لائو تاکہ میں فدک کے ہبہ کاوثیقہ لکھ دوں ۔
صدیقہ طاہرہ (س) نے اپنے والد گرامی کو دیکھا ،آنکھوں سے کہنا چاہتی ہوں : بابا جان !اس وثیقہ کی کیا ضرورت ہے ، کیا آپ کو کسی بات کا خوف ہے ، کیا آپ نے کسی خطرے کا احساس کیاہے ...؟
لیکن صدیقہ (س)نے اس وقت کچھ نہیں کہا ، اپنے بابا کی خدمت میں حکم کی تعمیل کے بطور فوراًقلم و دوات پیش کردیا ، اور پھر رسول خدا(ص) اپنے مبارک ہاتھوں سے ہبہ نامہ لکھنے لگے :
وقف محمد ابن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ھاشم بن عبد مناف ھذہ القریة المعلومة بحدودھا علی فاطمہ وقفا محرما علی غیرھا مویدا علیھا و من بعد ھا علی ذریتھا فمن بدلہ بعد ما سمعہ فانما اثما علی الذین یبدلونہ ان اللہ سمیع علیم ''محمد بن عبداللہ ... بن عبد مناف نے اس قریہ کو جس کی حد معلوم ہے ، اپنی بیٹی فاطمہ زہراء (س) کے لئے وقف کیا ، یہ فاطمہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے حرام ہے اور اس کے بعد اس کی ذریت کی ملکیت ہے پس جو اسے سننے کے بعد اس میں تبدیلی کرے تو اس کا گناہ اس تبدیلی کرنے والے پر ہوگا اور خدا سمیع بھی ہے اور علیم بھی ''۔(8)

حوالہ جات
١۔بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج٤٣ ص ٤٢؛ مناقب ابن شہر آشوب ج٣ ص ١١٤؛ امالی شیخ صدوق ص ١٠٠؛ بیت الاحزان ص 31
٢۔ متواتر حدیث ہے جسے فریقین نے متفقہ طور پر اپنی کتابوں میں لکھاہے ۔
3۔خادم کا بیان ہے کہ پیغمبر اسلام کا معمول تھا کہ جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں جناب فاطمہ سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس آتے تھے تو سب سے پہلے جس سے ملاقات کرتے تھے وہ حضرت فاطمہ ہوتی تھیں ۔(بحار الانوار ، علامہ مجلسی ج٤٣ ص ٣٩ ؛ کشف الغمہ اربلی ج٢ ص ٦ ؛ مناقب ابن شہر آشوب ج٣ ص ١١٣
4۔مستدرک حاکم ج٤ ص ٦٣؛طبقات ابن سعد ج٨ ص ٢٢٣
5۔اسراء ٢٦
6۔اصول کافی ، کلینی ج١ ص ٥٤٣؛بحار الانوار ج٤٨ ص ١٥٦؛شواہد التنزیل ، حسکانی ج١ ص ٤٤١؛در منثور ، سیوطی ج٤ ص ١٧٧؛تفسیر آلوسی ج١٥ ص ٦٢؛کنز العمال ج٣ ص ٧٦٧...۔
7۔مجمع الزوائد ج٧ ص ٤٩؛ شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید معتزلی ج١٦ ص ٢٦٨ ؛ کنزالعمال ج٣ ص ٧٦٧؛ شواہد التنزیل ، حسکانی ج١ ص ٤٤٣؛ اصول کافی ، کلینی ج١ ص ٥٣٤....۔
8۔ فتاوی عزیز ص٦٥؛ نقل از تاریخ فدک تحقیق کے آئینہ میں ص١٣٣

مقالات کی طرف جائیے