مقالات

 

باغ فدک

شعور ولایت فاؤنڈیشن

خداوند عالم فرماتاہے : (وَآتِ ذَا الْقُرْبیٰ حَقَّہُ)اے میرے رسول! اپنے قرابتداروں کا حق ادا کیجئے۔(١)
حق وباطل کو پرکھنے کا ایک انمول ترازوجس کا سرچشمہ حکمت الٰہی اورعلوم اہل بیتؑ ہے اور اس کے ذریعہ حقانیت آل محمد(ص)ثابت ہوتی ہے وہ باغ فدک کا مسئلہ ہے۔
١٤/ذی الحجہ جنگ خیبر کے بعد فقط رسول اکرم(ص) اورحضرت علیؑ کے ہاتھوں تقریباً دس دس کیلومیٹر کی لمبائی چوڑائی پر مشتمل فدک نامی رقبہ فتح کیاگیا، چونکہ قرآن کے مطابق اس فتح میں اصحاب پیغمبر کی شرکت نہ کرنے کی بناپر اس میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھالہٰذا مکمل فدک رسول اسلام(ص)کی جاگیر قرار پاتی ہے لہٰذا حکم خداندی نازل ہوا کہ اے رسول! اپنے قرابتداروں کو ان کا حق دے دیجئے، پیغمبر اکرم(ص)نے سوال کیا: یہ کس کا حق ہے؟ جبرئیل نے خدا سے پوچھا اور جواب لے کر دوبارہ خدمت رسول(ص)میں آئے اور کہا کہ یہ فدک فاطمہ زہرا کو دے دیجئے کیونکہ یہ انہیں کا حق ہے۔
کیونکہ پیغمبراکرم(ص)جناب خدیجہ کا مہر اپنے ذمہ سمجھتے تھے اسی لئے اس کے عوض یہ رقبہ (فدک) فاطمہ زہراعلیہا السلام کو عطا کیا(لہٰذا یہ صرف ایک بخشش نہیں بلکہ حق تھا جو ادا کیاگیا)، آپ(ص)نے بہانہ تراشی کا سدّ باب کرنے کے لئے قبالہ بھی لکھا جس پر امام علی ، امام حسن ، امام حسین اور ام ایمن نے دستخط کئے۔ لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کے لئے اس زمین کی ملکیت بھی فاطمہ زہرا کو سونپ دی۔
جناب فاطمہ نے اپنے عمال کو وہاں مستقر کیا،آپ ہر سال اس زمین کی در آمد سے ازواج رسول(ص)کو وظیفہ بھی عطا کرتی تھیںاور مدینہ کے فقیروں کو بھی سیروسیراب کرتی تھیں، دختر رسول کا یہ عمل زباں زد خاص و عام ہوچکا تھا۔
ایک روز مہدی عباسی نے امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : آپ مجھے فدک کے حدود بتائیے تاکہ میں آپ کا حق واپس کروں!، امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: اس کا ایک سرا بین النہرین، ایک سرا افریقہ، ایک سرا... مہدی عباسی نے کہا: یہ تو میری پوری مملکت ہے!۔ امام نے جواب دیا: فدک کے حدود یہی ہیں۔(2)

آیۂ کریمہ سے حقانیت تشیع پر استدلال
١۔ اس آیت میں خدا نے فاطمہ زہرا کو رسول (ص)کا ذوی القربیٰ قرار دیا ہے اور سورۂ شوریٰ کی آیت٢٣ میں اجررسالت کو ان کی مودت پر منحصر کیاہے لہٰذا اگر کوئی فاطمہ سے محبت نہ کرے تو اس نے اجر رسالت ادا نہیں کیا۔
٢۔ ایک مقام پر خدا نے فرمایا کہ اگر میں نے تم سے اجررسالت طلب کیا ہے تو وہ خود تمہارے لئے ہی ہے:(مَاسَئَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ)(3)؛ایک مقام پر فرمایا: (قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَائَ اَنْ یَتَّخِذَ اِلَیٰ رَبِّہِ سَبِیْلًا) میں تم سے اجر رسالت صرف اس لئے طلب کررہا ہوں کہ تم اپنے رب کی راہ پر گامزن ہوجاؤ(4)؛ یعنی خدا تک پہنچنے کا واحد راستہ فاطمہ زہرااور ان کی آل و اولادکی محبت ہے اور احادیث و روایات میں ان کی محبت کی شرط یہ بھی قرار دی گئی ہے کہ ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کیا جائے۔
٣۔ جب خدا تک پہنچنے کا واحد راستہ صرف محبت حضرت فاطمہ ہے تو اس کا مفہوم یہ ہواکہ شیطانی راستہ فاطمہ زہرا سے عداوت ودشمنی اور ان پر ظلم وستم روا رکھنا ہے۔
٤۔ سقیفہ میں ایک گروہ ایسا تھا جس نے قریش ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہم رسول(ص)کے نزدیکی ہیں لہٰذا پیغمبر(ص)کے بعد ہم خلافت کے مستحق ہیں اور یہ کہہ کر خلیفہ مسلمین کا انتخاب کرلیا گیا، اگر اس استدلال کو صحیح بھی شمار کیا جائے تب بھی حضرت علی زیادہ حقدار ہیں کیونکہ آپ اصحاب رسول (ص)کی بہ نسبت رسول (ص)سے زیادہ نزدیکی تھے۔
٥۔ اہل بیت کے حقوق کا ادا کرنا واجب ہے، چاہے وہ مادی حق ہو یا معنوی یاپھر اطاعت کا حق، جب پیغمبر(ص)کو سختی کے ساتھ حکم دیا جارہا ہے کہ اپنے اہل بیت کا حق ادا کیجئے تو ہماری کیا حیثیت ہے! بدرجۂ اولیٰ واجب ہے کہ ہم ان کے حقوق ادا کریں۔
٦۔ مذکورہ آیت میں لفظ ''آتِ'' کا استعمال کیا گیا ہے جو عربی گرامر کے اعتبار سے فعل امر ہے، امر کا مطلب یہ ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانا واجب اور مخالفت حرام ہے لہٰذا اگر حقوق اہل بیت کی ادائیگی سے قاصر رہے تو خدا کی نافرمانی صادق آتی ہے جو انسان کو کفر کے زمرے میں لے جاتی ہے۔
٧۔ اہل بیت ، جناب فاطمہ کی اولاد ہیں اور ان کے ذوی القربیٰ بھی ہیں لہٰذا قرآن کے اعتبار سے ان کے حقوق کی ادائیگی واجب ہے ۔
٨۔ خداوند عالم نے فدک کا واقعہ کچھ اس انداز سے بیان کیا کہ بہت آسانی سے حق و باطل میں امتیاز کیا جاسکے اور اہل باطل کو باآسانی پہچانا جاسکے۔
٩۔ خداوندعالم کا ارشاد ہے: (اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤذُوْنَ اللہَ وَ رَسُوْلَہُ لَعَنَھُمُ اللہُ...)بے شک خدا وند عالم ان لوگوں پر لعنت کرتا ہے جو اللہ و رسول کو اذیت دیتے ہیں۔ اور دوسری جانب رسول اکرم(ص)فرماتے ہیں: فاطمة بضعة منی من آذاھا فقد آذانی''فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی''۔ اس میں کسی قسم کا شک نہیں کہ پیغمبر کی آل کو اذیت دینا خود آنحضرت(ص)کو اذیت دینا ہے اور یہ سلسلہ خدا وند عالم کی لعنت کے استحقاق پر جاکر ختم ہوگا۔
(ماخوذ از انوار غدیر ؛ ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن)

حوالہ جات
١۔ سورۂ حشر٦
2۔اصول کافی: ج١، ص٥٤٣۔
3۔سورۂ سبائ٤٧
4۔سورۂ فرقان٥٧

مقالات کی طرف جائیے