مقالات

 

کتاب غدیر ؛ عالم اسلام کا عظیم سرمایہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

غدیر ہمارے عقائد و کردار کی بنیاد ہے ، ہماری ثقافت کی شہ رگ حیات ہے ، ہم اسی سے لو لگائے جیتے آئے ہیں اور اسی پر مرتے رہیں گے ، اس کا سر چشمہ قرآن کی ابد آثار آیات سے ملتاہے اور اس کی آبیاری مسلسل تیس سالہ سیرت رسول نے کی ہے ۔ آنحضرت نے اعلان غدیر کی اہمیت و عظمت کے پیش نظر اسے آنے والی تمام نسلوں کو زیادہ سے زیادہ عام کرنے کا خصوصی حکم دیاہے چنانچہ آپ کا ارشاد ہے : الا فیبلغ الشاھد الغائب ''خبردار ! حاضرین ، غائب افراد تک یہ پیغام پہونچا دیں''۔آنحضرت کا یہ آفاقی اعلان آج بھی ہمارے ذہنوں کو ٹہوکا دے رہاہے کہ ہم اس دینی فریضہ سے غافل نہ ہوںاوراپنی مقدور بھر کوشش کر کے غدیر کی بات معاشرے میں عام کریں اور دنیا کے گوشے گوشے میں پہونچائیں۔
قابل مبارکباد ہیں وہ افراد جو '' الا فیبلغ الشاھد الغائب''کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد سمجھتے ہوئے زبان و قلم کے ذریعہ غدیر کی صحیح تصویر اور حقیقی پیغام مودت و ولایت دنیا کے گوشے گوشے میں پہونچا کر رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ کی تائید حاصل کررہے ہیں۔'' کتاب غدیر ''اسی سلسلے کی عمدہ اور اہم ترین کڑی ہے ، جسے وقت کے جید عالم حضرت علامہ شیخ عبدالحسین امینی طاب ثراہ نے ہزاروں کتابوں کی چھان بین کے بعد تحریر کیاہے ۔ یہ کتاب صرف صاحبان تحقیق کی آرزو ہی نہیں بلکہ ایسا آبشار حقیقت اور بے نظیر دائرة المعارف ہے جس کے ذریعہ ہر شخص غدیر کی واقعی شناخت حاصل کرسکتاہے ۔
یہ کتاب علامہ امینیکی عرفان انگیز پیش کش اور معرکة الآراء کارنامہ ہے ، یہ آپ کی خانوادہ ٔ عصمت و طہارت سے بے پناہ عقیدت کا بین ثبوت بھی ہے ، اس میں جہاں حق کی حمایت دیدہ زیبی اور عرق ریزی سے کی گئی ہے وہیں باطل اور باطل پرستوں کے کریہہ چہروں سے نقاب کشائی بھی نہایت سلجھے اور موثر انداز میں کی گئی ہے۔
ظاہر ہے جس کتاب میں حقائق و معارف کا سمندر موجزن ہو اس کا ترجمہ دنیا کی ہر ترقی یافتہ زبان میں ہونا چاہئے تاکہ یہ انوکھا پیغام مودت دنیا کے گوشے گوشے میں عام ہوسکے ۔ادیب عصر عالی جناب مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری مرحوم نے وقت کی اہم ترین ضرورت کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج سے تقریباًبیس سال قبل اس عظیم کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا تھا ۔
حضرت ادیب عصر ؒکی اہل بیت کرام سے ارادت و عقیدت بڑی شدید ، والہانہ اور فطری ہے ، توارث و ماحول کے علاوہ ان کی اپنی تحقیق و کاوش بہت وقیع ہے پھر یہ کہ وہ وکیل آل محمد کی حیثیت تقریر و تحریر دونوں میدانوں میں سرگرم عمل رہے ہیں ، آپ نے فضائل اہل بیت اور ولایت کو اپنی تحریر و تقریر میں بڑی شدت سے پیش کیاہے ، آپ ہمیشہ کوشاں رہتے تھے کہ اردو داں طبقہ حقیقی ولایت و فضائل اہل بیت سے آشنا ہو چنانچہ آپ نے اس سلسلے میں متعدد مضامین قلم بند کئے ، کچھ کتابیں بھی لکھ رہے تھے لیکن ادھوری رہ گئیں ، اسی دوران آپ کی نظر الغدیر جیسی عظیم کتاب پر پڑی ، آپ نے تمام اہم کام چھوڑ کر حضرت آیة اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی کی فرمائش پر اس کے ترجمہ میں لگ گئے اور بہت کم مدت میں ساری جلدوں کا ترجمہ مکمل کرلیا ۔جس کی صرف ایک جلد١٩٩٣ئ میں منظر عام پر آچکی تھی لیکن پھر حالات نامساعد ہوتے چلے گئے اور اس عظیم دائرة المعارف کی اشاعت کا سلسلہ رک گیا ۔الحمد اللہ ٢٠١٠ء؁ میں پھر سے حالات مساعد ہوئے اور قرآن و عترت فائونڈیشن نے اس کتاب کی اشاعت کی ذمہ داری اپنے کاندھے پر اٹھائی اور نامساعد اور نا گفتہ بہ حالات و ماحول میں بھی اس کتاب کو بہترین انداز میں شائع کیا ، خدا ادارہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح دینی کاموں میں سرگرم عمل رہے ۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس عظیم کتاب کی دو ( چھٹی اور گیارہویں )جلدیں ایک سفر کے دوران مولانا مرحوم سے چرا لی گئی تھیں جس کا قلق مولانا مرحوم کو آخر عمر تک تھا لیکن جب اشاعت کا زمینہ فراہم ہوا تو راقم الحروف سید شاہد جمال رضوی ( فرزند مترجم الغدیر ) نے اپنی استطاعت بھر کوشش کرکے غائب شدہ جلدوں کا ترجمہ مکمل کیا تاکہ ترجمۂ الغدیر کا یہ سیٹ بطور کامل منظر عام پر آسکے ۔
یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ اصل کتاب الغدیر گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے لیکن کتاب کی ضخامت اور اردو داں حضرات کی سہولت کو پیش نظر رکھتے ہوئے گیارہ جلدوں کو چھ جلدوں میں شائع کیاگیاہے ، پہلی جلد جداگانہ طور پر شائع ہوئی ہے جس میں صرف حدیث غدیر سے متعلق بحث و گفتگو ہوئی ہے ، شروع میں مترجم الغدیر ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری کی اجمالی سوانح حیات کے ساتھ ساتھ ان کے متعلق علماء کے تاثرات بھی موجود ہیں جنہیں'' گوشۂ شعور'' کے عنوان کے تحت شامل کیاگیاہے ، بہت سے علماء نے کتاب اور مؤلف و مترجم الغدیر کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیاہے جن میں سرکار شمیم الملة مولانا سید شمیم الحسن ، آفتاب شریعت مولانا سید کلب جواد ، استاد الاساتذہ مولانا محمد شاکر امروہوی ، مولانا سید احمد حسن ، مولانا سید محمد جابر جوراسی، مولانا ناظم علی خیرآبادی ، مولانا نیاز علی ، مولانا سید ممتاز علی اور مولانا سید ضمیر الحسن شامل ہیں ۔متذکرہ علماء نے مترجم الغدیر کی علمی و ادبی حیثیت کو بیان کرنے کے بعد عہد حاضر میں اس کتاب کی شدید ضرورت پر روشنی ڈالی ہے اور اس بات کی صراحت کی ہے کہ مترجم الغدیر نے اس عظیم کتاب کو اردو زبان میں منتقل کرکے عالم تشیع پر بہت بڑا احسان کیاہے ۔
گوشۂ شعور کے بعد مؤ لف الغدیر کی مفصل سوانح حیات ملاحظہ کی جاسکتی ہے جسے راقم الحروف نے متعدد کتابوں سے استخراج کرکے ایک جامع سوانح حیات مرتب کی ہے تاکہ اردو داں حضرات بھی علم و دانش کے اس درخشاں آفتاب کی جھلک دیکھ لیں۔ اس سوانح حیات میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ مؤلف عالی قدر کی زندگی و بندگی کا کوئی بھی اہم اور قابل قدر گوشہ قلم زد نہ ہونے پائے ۔
یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ یہ کتاب اب تک دو مرتبہ شائع ہوچکی ہے ، جسے لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور پہلے ایڈیشن کی تمام کاپیاں بہت جلد ختم ہوگئیں ، پہلی مرتبہ قم ایران سے قرآن و عترت فائونڈیشن نے شائع کیا اور اس کے چھ مہینے بعد پاکستان سے بھی شائع ہوئی اور اب تیسری مرتبہ ہندوستان سے شائع ہورہی ہے ،اس سلسلے میں ہمیں آپ کے کسی بھی طرح کے تعاون کی شدید ضرورت ہے ، خدا سے دعا ہے کہ ہندوستان میں بھی اس کتاب کا اسی طرح استقبال ہو جس طرح ایران اور پاکستان میں ہوا تھا ۔

مقالات کی طرف جائیے