مقالات

 

الٰہی امانتیں حضرت علی علیہ السلام کے سپرد کرنا

شعور ولایت فاؤنڈیشن

''اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ یَأمُرُکَ اَنْ تُعَلِّمَہُ مَا عَلَّمَکَ وَ تَسْتَحْفِظَہُ جَمِیْعَ مَا حَفَّظَکَ وَ اسْتَوْدِعَکَ فَاِنَّہُ الاَمِیْنُ الْمَؤتَمَنُ''۔
سنت الٰہی یہی ہے کہ جب ایک پیغمبرۂپر داعی اجل کو لبیک کہنے کی وحی ہوتی ہے تو وہ اپنے وصی کا اعلان کرتا ہے اور لوگوں کو یہ بتاتا ہے کہ یہ میرے بعد حجت خدا اور میرا خلیفہ ہے،یہی بات اس شخص کی وصایت و خلافت پر واضح دلیل ہوتی ہے۔
حجة الوداع کے موقع پر پیغمبراکرم(ص) نے حج کے امور انجام دینے کے بعدحکم خداوندی کے تحت گزشتہ پیغمبروں کی وراثت حضرت علی ؑکے سپرد کی۔ پھر یہ میراث حضرت علی کے بعد امام حسن اور ان کے بعد امام حسینؑ ... اسی طرح یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ امام عصر(عج) تک منتقل ہوئی۔
گزشتہ پیغمبروں کی میراث مثلاً: حضرت یوسفؑ کا پیرہن، حضرت موسیٰؑ کا عصا، حضرت سلیمان ؑکی انگوٹھی، اسلحہ اور صندوق(بنی اسرائیل کا تابوت) اور سب سے اہم علم وحکمت الٰہی،اسم اعظم اور پیغمبروں کا علم جیسی تمام امانتیں بطور کامل امیر المومنین کے سپردکر دی گئیں ۔
سلمان فارسی کا بیان ہے: ایک روز مجھے مولا علی مدینہ سے باہر لے گئے اور میرے کان میں ایسی بات کہی کہ جس میں گزشتہ اور آئندہ کے تمام علوم پنہاں تھے، میں یہ جملہ سن کر وجد میں آگیا اور عرض کی: کچھ اوربیان کیجئے! تو آپ نے فرمایا: آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
یہ ایک نمونہ ہے کہ علوم الٰہی حضرت علیؑ کی طرف منتقل ہوئے ہیں۔
ایک مثال یہ ہے کہ جناب یوسف کا جو پیرہن امام زمانہ کے پاس ہے اور آپ اسی پیرہن میں ظہور فرمائیں گے وہ جناب ابراہیم کا وہی پیرہن ہے جس سے آتش نمرود گلزار بنی تھی اور جس بدن پر یہ پیرہن ہو وہی حجت خدا ہے۔
جناب موسیٰ کا عصا، ایسی لکڑی ہے جو ہمیشہ تروتازہ رہتی ہے؛حجت خدا کی طرف سے جو حکم صادر ہوتا ہے اس کو عملی جامہ پہناتی ہے، اگر اس سے گفتگو کرے تو جواب دیتی ہے؛ جب عصائے موسیٰ کو امام زمانہ زمین پر ماریں گے تو زمین آپ کے مقابل کو نگل لے گی۔
اسم اعظم کی تاثیر یہ ہے کہ چشم زدن میں ہزاروں میل کی دوری کے باوجود تخت بلقیس حاضر ہوجاتا ہے، یہ امانت بھی امام زمانہ کے پاس محفوظ ہے...۔

حدیث شریف سے حقانیت تشیع پر استدلال
١۔ جس طرح ایک پیغمبر سے دوسرے پیغمبر کی طرف پیغمبری کا عہدہ منتقل ہوتا ہے مثلاً حضرت دائود سے حضرت سلیمان کی طرف اور سلیمان سے عاصف برخیا کی طرف یا ابراہیم سے اسحاق کی طرف اور اسحاق سے یعقوب کی طرف؛ یہ عہدے کا منتقل ہونا دلیل ہے کہ گزشتہ پیغمبر کا وارث وہی ہے جس کی طرف یہ عہدہ منتقل ہوا ہے اور وہی حجت خدا ہے۔ یہ بات بھی امیر المومنین علیؑ کی وصایت کو ثابت کررہی ہے سوائے اس کے کہ آپ کو پیغمبر نہیں کہا جاسکتا کیونکہ پیغمبراسلام(ص) نے ببانگ دہل اعلان کردیا تھا کہ ''لانبی بعدی'' میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
٢۔ پیغمبرکے وصی کا انتخاب خود پیغمبر کے دست قدرت میں نہیں ہوتا بلکہ یہ انتخاب خداوندعالم کے حکم سے وحی کے ذریعہ انجام پذیر ہوتاہے ۔
٣۔ علی کا جوان ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ آپ وصی رسول نہیں بن سکتے کیونکہ دائود بھی جوان تھے، یہاں تک کہ حضرت یحییٰ بچے تھے اور اس سے بھی بڑھ کر جناب عیسیٰ جو کہ نومولود تھے۔ لہٰذا جوانی کا بہانہ بناکر علی کو خلافت سے بر طرف کرنا قطعی صحیح نہیں۔
٤۔ بزرگ اصحاب رسول (ص)کی موجودگی میں امیر المومنین علی کا اس عہدہ سے سرفراز ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ امر خداوندعالم کی جانب سے محقق ہوا ہے کیونکہ رسول(ص)کی گفتار پر وحی الٰہی کا پہرہ ہے:(وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوَیٰ اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْی یُوْحی)''یہ تو کچھ کہتے ہی نہیں سوائے اس کے کہ جو وحی ہوتی ہے''۔(2)
٥۔ حدیث ثقلین میں موجود''لن یفترقا''(3)؛ اس بات کی دلیل ہے کہ تمام الٰہی علوم اور حکمتیں امیر المومنین کی جانب منتقل ہوچکی ہیں لہٰذا آپ قرآن ناطق ہیں۔
٦۔ پیغمبراکرم(ص)نے امام علی کی شان میں فرمایا: ''اذن واعیہ''(4)؛ یعنی فراموش نہ کرنے والے کان۔اس کا مطلب یہ ہے کہ علی ایسے محافظ ہیں کہ کبھی بھی امانت الٰہی کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کریں گے، خداوندعالم نے اپنی کتاب کی حفاظت کے متعلق فرمایا: ( ''نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ)(5) ''بے شک ہم نے ہی اس کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے''۔
٧۔ پیغمبراکرم(ص)نے علی کی شان میں فرمایا: ''علی مع الحق و الحق مع علی یدور حیثما دار'' علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے، حق بھی ادھر ہی گھومتا ہے جدھر علی مڑتے ہیں؛یا فرمایا کہ انبیاء الٰہی کی میراث علی کے پاس ہے؛ ان جیسی احادیث سے یہی سمجھ میں آتا ہے کہ امیر المومنین کے تمام اعمال علم وحکمت الٰہی کے تحت انجام پاتے ہیں اور ان میں کوئی کوتاہی نہیں پائی جاتی، اور اصطلاح میں اسی امر کو عصمت سے تعبیر کیاجاتا ہے جیساکہ قرآن کے لئے ارشاد ہوتا ہے:(لَا یَاتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہ)''قرآن کریم میں کسی بھی جانب سے باطل نفوذ نہیں کرسکتا''۔(6)
٨۔ ایک طرف سے تو قرآن کا یہ ارشاد:(لَا یَمَسُّہُ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ)اس کو صرف پاک افراد ہی مس کرسکتے ہیں(7)؛ اور دوسری جانب سے پیغمبراکرم کی یہ حدیث: ''تمام علوم و معارف علی کی جانب منتقل کردیئے گئے ہیں'' دلالت ہے کہ علی پاک ،مطہر اورمعصوم ہیں۔
٩۔ مذکورہ حدیث میں علم و حکمت کے خزانے صرف علیؑ کی جانب منتقل کئے گئے ہیں، اسی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ علی و اولاد علی ہی معدن رسالت ہیں؛''السلام علیکم یا اہل بیت النبوة و معدن الرسالة''۔ یا رسول خدا (ص)کی حدیث: انا و علی من شجرة واحدة و سائر الناس من شجر شتّی ''میں اور علی ایک درخت کی دو شاخیں ہیں اور باقی لوگ مختلف درختوں سے ہیں''۔(8)؛ یا آیۂ مباہلہ جو علی کو نفس رسول(ص) کی حیثیت سے پہنچنوارہی ہے۔
١٠۔ جو علی کے عمل کی مخالفت کرے گویا اس نے عمل رسول(ص)کی مخالفت کی ہے کیونکہ دونوں کی حکمت کا سرچشمہ ایک ہے، جب شوریٰ میں علی سے شیخین کی سیرت پر عمل کرنے کو کہا تو آپ نے فرمایا: میں شیخین کی سیرت پر عمل نہیں کروں گابلکہ رسول (ص)کی سیرت اور اپنے طریقۂ کار پر عمل کروں گا؛ یہ اس بات کی دلیل ہے سیرت شیخین سیرت پیغمبروعلی کے مخالف ہے یعنی راہ خدا کے مخالف ہے۔
١١۔ امیر المومنین جنت و دوزخ کے تقسیم کرنے والے ہیں:علی حبہ جنة قسیم النار والجنة''علی کی محبت آتش دوزخ سے سپر ہے اور وہی جنت و جہنم کے تقسیم کرنے والے ہیں''۔(9)قاسم اور ہر وہ شخص جو کسی کو تعلیم دے، وہ حق پدری رکھتاہے اور چونکہ پیغمبر(ص) نے علی کو تمام علوم کی تعلیم دی لہٰذا آپ ابو القاسم کہلائے(امام جعفر صادق کی حدیث سے ماخوذ)۔(10)

حوالہ جات
١۔ بحار الانوار: ج٢٨، ص٩٦
2۔سورۂ نجم٣
3۔ اصول کافی: ج٢، ص٤١٥
4۔ سورۂ الحاقہ١٢
5۔سورۂ حجر٩
6۔ سورۂ فصلت٤٢
7۔ سورۂ واقعہ٧٩
8۔ کشف الغمہ: ج١، ص٥٢
9۔ اصول کافی: ج٤، ص٥٧
٣10 عیون اخبار الرضا: ج٢، ص٨٥

مقالات کی طرف جائیے