مقالات

 

حدیث ثقلین

شعور ولایت فاؤنڈیشن

حدیث ثقلین، ائمہ اطہار کی عصمت، افضلیت اور ان کے قرآن کے ہم پلہ ہونے پر بہترین دلیل ہے۔ پیغمبر اسلام ؐنے متعدد مقامات پر کئی طریقہ سے اس حدیث کو ارشاد فرمایا اور آنحضرت کے بہت سے اصحاب نے اسے نقل بھی کیا ہے، یہ حدیث اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان متفق علیہ شمار ہوتی ہے۔
جن مقامات پر آنحضرت نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ان میں سے ایک مقام ''مسجد خیف'' بھی ہے، آپ نے ١٢ذی الحجہ کو خطبہ دیا جس میں اس حدیث کی جانب متوجہ کیا، امام باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے یہ حدیث میدان منیٰ میں بھی ارشاد فرمائی جو اس انداز سے تھی:
یا ایھاالناس! انی تارک فیکم الثقلین ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا ابداً، کتاب اللہ و عترتی اہل بیتی فانھما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض ( فلا تقدموھما فتھلکوا)''اے لوگو! میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم ان سے وابستہ رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت اہل بیت ، یہ دونوں ہرگزایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کریں (ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا کہ ہلاک ہوجائوگے)۔(١)

شیعی عقائد کی حقانیت کے اثبات کے لئے حدیث ثقلین سے استدلال
١۔ جس طرح قرآن کی پیروی واجب ہے اسی طرح اہل بیت اطہار سے تمسک کرنا اور ان کی پیروی کرنا واجب ہے۔
٢۔'' حَسبنا کتاب اللہ'' کا شعار ،ارشاد رسول اور حکم خدا کا مخالف ہے ، اس طرح کے جملے گمراہی کا سبب ہیں کیونکہ اہل بیت کے بغیرقرآن ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم ...۔
٣۔ رسول اسلام کے دہن مبارک سے ''ثقلین'' کاصدور اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت علیہم السلام عظیم المرتبت ہستیاں ہیں۔
٤۔ اہل بیت سے جدا ئی گمراہی کا باعث ہے چاہے وہ جدائی ایک لمحہ کی ہی کیوں نہ ہو۔نیز ان سے تمسک اختیار کرنا ہدایت کا سبب ہے۔
٥۔ جب تک لوگوں کے درمیان قرآن کا وجود ہے تب تک ان کے درمیان امام معصوم کا وجود بھی ہے کیونکہ پیغمبراکرم نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے ۔ لہٰذا حدیث ثقلین ہر زمانہ میں امام زمانہ کے وجود پر بہترین دلیل ہے۔
٦۔ جس طرح قرآن کریم ہر عیب ونقص سے منزہ ہے اور اس کی پیروی لازم ہے اسی طرح اہل بیت اطہار بھی ہر برائی سے پاک ہیں اور ان کی پیروی واجب ہے۔
٧۔ جس طرح جعلی احادیث کو قرآن کے ذریعہ پرکھا جاتا ہے اسی طرح منافق اصحاب کو پہچاننے کا معیار اہل بیت کی ذوات مقدسہ ہیں۔
٨۔ حدیث ثقلین، دوسرے لوگوں کی بہ نسبت اہل بیت کی افضلیت اور دوسری کتابوں کی بہ نسبت قرآن کی افضلیت کو ثابت کرتی ہے۔
٩۔ جس طرح قرآن سے آگے نہیں نکلنا چاہئے اور اپنی رائے کو قرآن میں داخل نہیں کرنا چاہئے اسی طرح اہل بیت سے بھی آگے نہیں بڑھنا چاہئے کیونکہ بعض احادیث میں وارد ہوا ہے: فلا تقدموھما فتھلکوا'' ان دونوں سے آگے نہ بڑھنا ورنہ ہلاک ہوجائوگے۔(١)
١٠۔ قرآن کریم، حق و باطل میں جدائی ڈالنے والا ہے، اسی طرح اہل بیت بھی مومن وکافر کی شناخت کا معیار اور حق وباطل میں جدائی ڈالنے والے ہیں۔
١١۔ پیغمبراکرم نے بغیرکسی قید وشرط کے اہل بیت کی پیروی کا حکم دیا ہے جو اہل بیت کی عصمت کا منھ بولتا شاہکارہے کیونکہ کسی گنہگار کی پیروی حکم خدا کے خلاف ہے اور پیغمبراکرمۖ خدا وندعالم کے حکم کی کبھی مخالفت نہیں کریں گے۔
١٢۔ جس طرح قرآن کی برابری نہیں کی جاسکتی اسی طرح اہل بیت کی بھی برابری نہیں کی جاسکتی ۔
١٣۔ اگر تمام جن و انس جمع ہوجائیں تب بھی قرآن کا مثل نہیں لاسکتے، بالکل ایسے ہی اگر وہ اہل بیت کی مثال تلاش کرنا چاہیں تو ان کی تمام کوششیں ناکام ہوں گی۔
١٤۔ پیغمبراکرمۖ کی رحلت کے بعد امیر المومنین علی کی خلافت کو(تین خلفاء کے) بعد میں قرار دینا اور ان کو قرآن سے جدا کرنا، قرآن کریم کی مخالفت ہے۔
١٥۔ جس طرح قرآن کریم ظاہر و باطن کا حامل ہے اسی طرح اہل بیت بھی ظاہر وباطن کے حامل ہیں، اگر ان کو ظاہری خلافت سے محروم کردیا گیا تب بھی ان کی باطنی خلافت قائم و دائم رہے گی۔
(ماخوذ از : انوار غدیر ؛ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن)

حوالہ جات
١۔بصائر الدرجات ج١ص٤١٣
۲۔اثبات الھدیٰ: ج٢، ص٣٢٠

مقالات کی طرف جائیے