مقالات

 

امیر المومنینؑ کے توسط سے سورہؐ برائت کی تبلیغ

شعور ولایت فاؤنڈیشن

فتح مکہ کے بعد ذی الحجہ کے مہینے میں سورۂ برائت کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں مشرکین کو دوباتوں میں سے ایک کا اختیار دیاگیاکہ یا تو وہ اسلام کے دائرے میں داخل ہوجائیں یا پھر مکہ سے باہر نکل جائیں ۔لیکن سوال یہ تھا کہ اس توحیدی اور تطہیر مکہ کے پیغام کی تبلیغ کون کرے ؟
بعض لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ ان آیات کی تبلیغ کے لئے ابوبکر کو جانا چاہئے اس لئے کہ جنگوں کے دوران کوئی بھی مشرک ان کے ہاتھوں سے قتل نہیں ہوا ہے اور مشرکین مکہ کے دل میں ان کے متعلق کوئی کینہ و دشمنی نہیں ہے ۔ رسول خداؐنے ابو بکر کو بلا یا اور سورۂ برائت کی ابتدائی آیات کو دے کر فرمایا کہ ان آیات کو حج کے مراسم میں شرکت کرنے والے افراد کے درمیان قرائت کریں ۔ابھی تھوڑی دیر نہیں ہوئی تھی کہ جبرئیل امین آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی :
یا محمد !انہ لا یودی عنک الا انت او رجل منک ''اے محمد !یہ کام آپ خود انجام دیں یا اس شخص کے حوالے کریں جو آپ سے (آپ جیسا )ہے ،کسی اور کے ذریعہ سے یہ کام قابل قبول نہیں ''۔
اس حکم کے آتے ہی رسول خداۖنے حضرت علی کو سورۂ برائت کی تبلیغ کے لئے مکہ کی جانب روانہ کیا اور ابوبکر کو اس کام سے معزول کردیا ۔ ابوبکر نے کہا : کیا میرے متعلق کوئی حکم نازل ہوا ہے ؟
حضرت علی نے فرمایا :رسول خداؐنے مجھے حکم دیاہے کہ آیات برائت میرے حوالے کریں اس لئے کہ اس کی تبلیغ آپ کا کام نہیں ہے ۔پھر حضرت علی نے وہ آیتیں لیں اور مکہ کی جانب روانہ ہوگئے ۔ مراسم حج کے دوران آپ انتہائی شجاعت و صلابت کے ساتھ مشرکین مکہ کے درمیان کھڑے ہوئے اور متعدد مرتبہ کئی روز تک ان آیات کی قرائت کرتے رہے ۔(١) یہ واقعہ ١٠ ذی الحجہ ٩ ھ؁ کو رونما ہوا ۔ ایک روایت کے مطابق امیر المومنین نے ١١، ١٢ اور ١٣ ذی الحجہ کو بھی مشرکین کے درمیان آیات برائت کی تبلیغ فرمائی تھی۔

تبلیغ آیات برائت کی کہانی ؛ امیر المومنین کی زبانی
حضرت علی نے آیات برائت کی تبلیغ کا واقعہ اس طرح نقل فرمایاہے : جب میں مشرکین کے درمیان آیات برائت کی تبلیغ کے لئے مکہ میں داخل ہوا تو اس وقت حالت یہ تھی کہ مکہ کا ہر شخص یہ چاہتاتھا کہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کردے اور میرے جسم کے ہر ٹکڑے کو پہاڑ پر رکھے چاہے اس راہ اس کی جان ، مال اور اس کا خاندان ہی کیوں نہ نیست و نابود ہوجائے ۔جب میں نے ان آیات کی تبلیغ کی تو سب نے دھمکی بھرا جواب دیا اور مرد و عورت سب نے مجھ سے کینہ و دشمنی کا اظہار کیا لیکن میں نے ثبات قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سب کا دوٹوک جواب دیا ...۔(۲)

امیر المومنین کی حقانیت کے سلسلے میں تبلیغ آیات برائت سے استدلال اور نکات
١۔ ابو بکر کا اعزام کرنا پھر انہیں معزول کردینا ، ایک عظیم مقصد کے تحت تھا ، وہ یہ کہ ان کے اندر مسلمانوں کی رہبری کی صلاحیت نہیں ہے ۔
٢۔ امیر المومنین کا اعزام خداوندعالم کے حکم سے تھا تاکہ آئندہ اسلامی معاشرے کی امامت کے لئے زمینہ سازی ہوسکے ۔
٣۔ اس واقعہ میں رسول خداؐاور امیر المومنین کو ایک حقیقت کی حیثیت سے پہچنوایاگیا ہے؛'' انہ لا یؤدی عنک لا انت اورجل منک ''۔ اور یہی آیۂ مبارکہ (انفسنا و انفسکم )کی واقعی تفسیر ہے ۔
٤۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی ایک منزلت ، رسالت میں ان کی شراکت ہے (واشرکہ فی امری)اور سورۂ برائت کی تبلیغ بھی ایک طرح سے رسالت میں شراکت ہے ؛'' انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ''۔
٥۔ جس کے اندر رسالت کے بعض امور کی تبلیغ کی صلاحیت نہیں ہے وہ بطریق اولیٰ رسول خداۖکا جانشین و خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔
٦۔ کفار و منافقین کے مرکز میں سورۂ برائت کی تبلیغ کے دوران امیر المومنین کی شجاعت و جوانمردی سے تمام انبیائے الٰہی پر آپ کی افضلیت ثابت ہوتی ہے ۔
٧۔ مشرکین سے متعلق آیات برائت کی تبلیغ اسی کو کرنا چاہئے جو خود بھی ہر طرح کے شرک سے مبرہ و محفوظ ہو اور جو شخص ہر طرح کے شرک سے محفوظ ہو اور جس کے اندرآیات برائت کی صلاحیت ہو وہی معصوم ہوتاہے ۔
(ماخوذ از : انوار غدیر ؛ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن)

حوالہ جات
١۔خصال ، شیخ صدوق ج٢ ص ٣٦٩
۲۔خصال شیخ صدوق ج٢ ص ١٢٨

مقالات کی طرف جائیے