مقالات

 

عید الاضحیٰ

شعور ولایت فاؤنڈیشن

١٠ /ذی الحجہ کو عید الاضحی ہے جو اسلام کی چار اہم ترین عیدوں '' غدیر ، فطر جمعہ اور قربان '' میں سے ایک ہے ، اس دن کو عید کا دن قرار دینے اور اسے اہمیت دینے کے متعدد اسباب بیان کئے گئے ہیں ؛ جن میں سے بعض کی جانب اختصار کے ساتھ اشارہ کیاجا رہا ہے :

ولادت امیر المومنین کا ولیمہ
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
''....حضرت ابو طالب علیہ السلام نے اپنے عزیز فرزند حضرت علی کی ولادت کے بعد ایک عظیم ولیمہ کا اہتمام فرمایا جس میں ٣٠٠/اونٹ اور ١٠٠٠گائے اور گوسفند کو ذبح کیا ۔ جناب ابوطالب نے علیہ السلام اس ولیمہ کا اہتمام کرنے کے بعد فرمایا : اے لوگو!جو بھی میرے فرزند کے کھانے سے بہرہ مند ہونا چاہتاہے اسے چاہئے کہ وہ خانۂ خدا کا سات مرتبہ طواف کرے ، پھر میرے فرزند کے پاس آکر سلام کرے کیونکہ خدا نے اسے شرافت عطا فرمائی ہے ۔ جناب ابوطالب کے اسی عظیم عمل کی وجہ سے یوم نحر کے بعد '' عید الاضحی'' کو اہمیت دی جانے لگی'' ۔(١)

لقاء کے لئے حضرت آدم کی آمادگی
جبرئیل امین نے خدا کی طرف سے حضرت آدم کو حکم دیا کہ اعمال حج کے بعد اپنے سر کے بال کو تراشیں(٢)اور پنجتن پاک علیہم السلام کے انوار کو دریافت کرنے اور ان سے ملاقات کے لئے آمادہ ہوجائیں۔(۳)

حضرت ابراہیم کی عظیم قربانی
حضرت ابراہیم نے ارادہ فرمایا کہ خدا وندعالم کے حکم کے مطابق اپنے فرزند اسماعیل کو قربان کریں لیکن خدا نے انہیں معاف کردیا ۔ اس صورتحال سے جناب ابراہیم بہت غمزدہ ہوئے اور عرض کی : خدایا!میں اپنے فرزند کی قربانی میں بہائے گئے آنسوئوں اور غم و اندوہ کے ذریعہ تیرا تقرب حاصل کروں لیکن میں اس سے محروم رہا ۔ خداوندعالم نے جبرئیل کو بھیجا تاکہ وہ خاتم الانبیاء کے فرزند حضرت امام حسین کے مصائب و آلام کو جناب ابراہیم سے بیان کریں ۔ جبرئیل نے مصائب کربلا بیان کئے اور جناب ابراہیم نے بہت زیادہ گریہ کیا ۔ خدانے فرمایا : اے ابراہیم ! حسین پر تمہاری یہ اشک فشانی اور یہ غم و اندوہ تمہارے فرزند اسماعیل کے ذبح کی جگہ پرہیں اور تم عظیم کمالات کے حامل ہوگئے ،یہی ذبح عظیم کا مفہوم ہے ۔(۴)

جناب موسیٰ پر نور الٰہی کی جلوہ گری
جب جناب موسیٰ نے کوہ طور پر چالیس رات دن تک مناجات کیا تو خدا وندعالم نے عید الاضحی کے دن ان پر اپنے نور کی تجلی کی اور انہیں توریت کی تختیاں عنایت کیں۔(۳)

حدیث ثقلین کا صدور
عید الاضحی کے دن منیٰ کی مسجد خیف اور واقعۂ حجة الوداع میں رسول خداؐنے حدیث ثقلین ارشاد فرمائی ۔

واقعات عید الاضحی اور چند نکات
١۔ امیر المومنین کی ولادت کے وقت ہی سے لوگ یہ سمجھ گئے تھے کہ جناب ابوطالب کی نظر میں حضرت علی کی بہت زیادہ اہمیت و عظمت ہے ۔
٢۔ مکہ کے رہنے والے خانۂ کعبہ کے طواف کے بعد امیر المومنین سے ملاقات کے لئے ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔
٣۔ زمان و مکان کی اہمیت اہل بیت سے رابطہ کی وجہ ہے جس طرح یوم النحر کو امیر المومنین کی ولادت کی وجہ سے اہمیت حاصل ہوئی ۔
٤۔ امام حسین پر عید کے دن بھی گریہ و زاری کیا جاسکتاہے جس طرح جبرئیل امین نے اس دن ابراہیم سے کربلا کے مصائب و آلام بیان کئے تو انہوںنے گریہ کیا ۔
٥۔ حدیث ثقلین جسے آنحضرت نے عید قربان کے علاوہ متعدد موقعوں پر ارشاد فرمائی ہے،سے معلوم ہوتاہے کہ اہل بیت بعنوان مفسر و مترجم ، ہمیشہ قرآن کے ہمراہ رہے ہیں۔
(ماخوذ از : انوار غدیر ؛ترجمہ : شعور ولایت فاؤنڈیشن)

حوالہ جات :
١۔امالی شیخ طوسی ص ٧٠٩؛چونکہ زمانۂ جاہلیت میں حج کے ایام کو جا بجا کر دیاجاتاتھا جس کی جانب خداوندعال نے بھی قرآن مجید میں اشارہ فرمایاہے :(انما النسی ء زیادة فی الکفر )۔(توبہ ٣٧)اس لئے اس بات کا احتمال ہے کہ امیر المومنین کی ولادت کے وقت حج کے ایام رجب کے مہینہ میں منتقل ہوگئے ہوں۔
٢۔تفسیر قمی ج١ ص ٤٥
٣۔ اصول کافی ج٤ ص ٥٤٩
۴۔الخصال ج١ ص ٥٨
۵۔تفسیر صافی ج٣ ص ٣١٧

مقالات کی طرف جائیے