مقالات

 

حدیث سدّالابواب

شعور ولایت فاؤنڈیشن

رسول خداؐنے فرمایا :انّ اللّہَ تَعالیٰ اَمَرَھُم بِسَدِّ الاَبوَابِ و استثنا منھم رسولہ و انتم نفس رسول اللہ ۔(١)
ایک اہم ترین فضیلت جو شیعہ و سنی دونوں طریق سے بطور قطعی اور متواتر نقل ہوئی ہے وہ "واقعۂ سدّ الابواب "ہے ،علامہ مجلسی نے ٩ذی الحجہ کو اس واقعہ کے رونماہونے کی نشاندہی کی ہے ۔
رسول خداؐکے زمانے میں جب مسجد تعمیر کی گئی تو بعض اصحاب اور بنی ہاشم نے اپنے گھر کو اس طرح سے بنایا کہ اس کا ایک دروازہ مسجد کی طرف کھلے تاکہ وہ جلدی سے مسجد میں پہونچ جائیں ، کبھی کبھی وہ طہارت کے بغیر بھی مسجد میں داخل ہوجاتے تھے ، تبھی ایک دن رسول خداؐنے حکم دیا کہ جن لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھول رکھے ہیں وہ انہیں بند کردیں سوائے میرے اور علی کے گھر کے دروازے ، جنہیں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے دروازے کھلا رکھیں ۔یہ حکم سن کر رسولؐ کے چچا عباس اور بعض دوسرے افراد رسول کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسو ل اللہؐ!آپ نے علی کو اس حکم میں داخل کیوں نہیں کیا اور ہمیں کیوں کیا ؟ رسول نے فرمایا : میں نے یہ کام خدا کے حکم سے انجام دیاہے ، لہذا تم بھی حکم خدا کے آگے سر تسلیم خم رکھو ، یہ جبرئیل ہیں جنہوں نے خدا کی طرف سے مجھے حکم دیاہے کہ میں علی کا دروازہ کھلا رکھنے اور تمہیں بند کرنے کا حکم دوں۔
اس واقعہ کو مناقب ابن مغازلی اور دوسری کتابوں میں بھی دیکھاجاسکتاہے ، علامہ ابن شہر آشوب نے اس حدیث کو تقریباً٣٠اصحاب سے نقل کیاہے ۔یہ بھی منقول ہے کہ بعض اصحاب نے یہ درخواست کی کہ کم از کم ہمارے گھروں کی کھڑکیاں مسجد کی طرف کھلی رکھی جائیں ، رسول ؐنے اس بات کی بھی اجازت نہیں دی ۔

شیعی عقائد کی حقانیت کے اثبات کے سلسلے میں حدیث سد الابواب سے استدلال
١۔ جس طرح آیۂ مباہلہ میں حضرت علی کو نفس رسول کی حیثیت سے پہچنوایا گیاہے اس واقعہ میں بھی خداوندعالم نے رسول خداؐاور حضرت علی میں کوئی فرق نہیں رکھاہے (اور حضرت علی کو نفس رسول کی حیثیت سے پہچنوایا گیاہے )۔
٢۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا :لا یحل لاحد ان یجنب فی ھذا المسجد الا انا و علی و فاطمة و والحسن والحسین علیہم السلام(۲)''کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس مسجد میں مجنب ہوسوائے میرے ، علی ، فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کے، پس یہ ہر حالت میں پاک و پاکیزہ ہیں ''۔
٣۔ رسول خداؐنے حدیث سدّ الابواب کے بعد مزید فرمایا: یہ واقعہ موسیٰ و ہارون کے واقعہ کے مانند ہے ، جس طرح جناب موسیٰ ایک مسجد کی تعمیر پر مامور تھے ، جس میں مجنب رات بسر نہیں کرسکتے تھے سوائے ہارون اور ان کی ذریت کے ؛لہذا جناب ہارون جن خصوصیات کے حامل تھے حضرت علی بھی ان خصوصیات کے حامل ہیں''۔
٤۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں :''اس واقعہ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وفات رسول ؐکے بعد حضرت علی ہی خلافت کے حقدار ہیں ، اس لئے کہ حضرت حمزہ ، سید الشہداء جیسی عظیم فضیلت کے باوجود اس امتیاز و خصوصیت سے محروم رہے ۔
٥۔ خداوندعالم نے واضح طور پر اس بات کی نشاندہی فرمائی ہے کہ اہل بیت کا کسی دوسرے سے مقایسہ و موازنہ نہیں کیاجاسکتا ،''لا یقاس بنا احد ''۔
٦۔ نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر سے لوگوں نے سوال کیا کہ رسول کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے ؟ انہوں نے کہا: وہی جس کے لئے ہر وہ چیز حلال ہے جو پیغمبر اسلام کے لئے حلال ہے اور اس کے لئے ہر وہ چیز حرام ہے جو رسول کے لئے حرام ہے ۔ نافع نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ ابن عمر نے کہا : وہ علی بن ابی طالب ہیں جن کے بارے میں رسول ؐنے فرمایا: لک فی المسجد ما لی و علیک ما علی انت وارثی و وصیی ''اے علی !اس مسجد میں جو چیز میرے لئے حلال ہے وہ تمہارے لئے بھی حلال ہے اور اس مسجد میں جو احترام میراہے وہی تمہارا بھی ہے ، تم میرے وارث اور وصی ہو''۔(۳)
نوٹ : یہ بات پیش نظر رہے کہ امیر المومنین حضرت علی ؑنے واقعۂ شوریٰ میں بھی اپنی اس فضیلت سے احتجاج و استدلال فرمایا ہے۔

حوالہ جات:
۱۔بحار الانوار ج٣٩ ص ٢٣
۲۔من لا یحضرہ الفقیہ ج٣ ص ٥٥٧
۳۔کشف الغمہ ج١ ص ٣٣٣
نقل از انوار غدیر (غدیر ایام کی مناسبتوں پر مشتمل ۲۶/ اسباق کا مجموعہ ؛ ترجمہ شعور ولایت فاؤنڈیشن لکھنؤ)

مقالات کی طرف جائیے