مقالات

 

امام حسین علیہ السلام ؛ پیکر محبت

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

امام حسین علیہ السلام کو ایک جنگجو کی حیثیت سے متعارف کرایا گیاہے ، ان کے مزاج کی خشونت کے انہونے نمونے تلاش کئے جارہے ہیں جنہیں اموی ذلہ خواروں نے آئندہ کے لئے جمع کردیاتھا ۔چنانچہ امام حسن کے صلح کے موقع پر امام حسین کی شدید مخالفت کی روایات بھی مل جاتی ہیں لیکن امام حسین پیکر محبت ، مجسمہ ٔلطف و کرم تھے ، وہ اس اللہ کے مظہر صفات و جلال و جمال تھے جس نے موسی کی بددعا کے باوجود فرعون کے محل پر عذاب نازل نہیں کیا۔ یونس کی بددعا کے باوجود عذاب کا نمونہ دکھا کر ٹال دیا۔
امام حسین علیہ السلام کی پیکار، تحفظ دین الٰہی کے لئے تھی ، آپ کی ذات کو انبیاء کی مساعی کا محافظ بنایاگیاتھا ، اس لئے انبیاء کی محنتوں کی بقا کا جو بھی مناسب اور متوازن طریقہ ہوسکتاتھا اسے آپ نے بڑے پیار بھرے انداز میں برتا ۔
آپ کی پیکار یا آپ کا جہاد مدینے کے سفر سے شروع ہوچکاتھا جب ولید نے آپ کو بیعت یزید کے لئے دار الامارہ میں طلب کیاتھا ۔ اگر آپ کے مزاج میں محبت کے بجائے خشونت ہوتی تو اثنائے سفر یا معرکۂ کربلامیں صرف نفرت اور تشدد کے واقعات ہی نظر آتے ، جس طرح انسان صورت جانوروں کی ٹولی ایک کثیر تعداد میں آپ کے خون کی پیاسی نظر آرہی تھی ان کے لئے آپ کے دل میں رحم کی ذرا بھی گنجائش نہ ہوتی ۔
لیکن سفر کربلا کے دوران اور معرکہ کربلا میں اس کے برخلاف آپ کے سلوک و برتائو میں پیار کی محیر العقول روایتیں نظر آتی ہیں جنہیں پڑھ کر عقیدہ امامت باغ و بہار بن جاتاہے ۔ ملاحظہ فرمائیے:
امام حسین منزل شراف سے کوچ کرتے ہیں ، ابھی تھوڑی دور گئے تھے کہ ظہر کے وقت آپ کے ایک صحابی نے نعرۂ تکبیر بلند کی ۔ امام کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ آگے ہریالی دیکھ رہاہوں۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد حر ایک ہزار دستے کے ساتھ سامنے کھڑا تھا ، یہ لشکر حر آپ کے خون کا پیاسہ تھا لیکن اس وقت خود پیاس سے جاں بلب تھا ، شدت عطش سے زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔
و طلع علیہم الحر الریاحی مع الف فارس بعثہ ابن زیاد لیحبس الحسین عن الرجوع الی المدینة اینما یجدہ او یقدم بہ الکوفة فوقف الحر و اصحابہ مقابل الحسین فی حر الظھیر ة فلما رای سید الشھداء ما بالقوم من العطش امر اصحابہ ان یسقوھم و یرشفوا الخیل فسقوھم و خیولھم...۔(١)
''لشکر حسین کے سامنے حر ریاحی ایک ہزار فوج کے ساتھ نمودار ہوا ، ابن زیاد نے اس کو مامور کیاتھا کہ امام حسین کو جہاں پائے قید کر لے ، انہیں مدینہ واپس نہ جانے دے یا پھر انہیں کوفہ لے آئے ۔ ابن زیاد کا حکم پاکر حر نکل پڑا اور منزل شراف سے آگے بڑھتے ہی ظہر کے وقت امام حسین کے سامنے کھڑا ہوگیا ۔ امام حسین نے اپنے اس خون کے پیاسے کی حالت دیکھی کہ پیاس سے جاں بلب ہے تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ ان سب کو سیراب کرو ، ان کے جانوروں کو بھی سیراب کرو ، آدمی اور جانور میں کوئی بھی باقی نہ رہے ۔اول سے آخر تک سب کو سیراب کرو ، تین تین چار چار بار ان پیاسوں کے سامنے پانی کے برتن رکھو تاکہ وہ جھک کر پانی پی لیں''۔
اس سلسلے میں علی بن طحان محاربی کا واقعہ اور بھی تحیر خیز ہے ، وہ سب کے آخر میں تھا اور سب سے زیادہ پیاسہ تھا ۔ امام حسین نے خود بہ نفس نفیس جاکر اسے سیراب کیا اور بہت اچھی طرح سیراب کیا۔(۲)
سید الشہداء کے اس جلوۂ لطف و محبت کا نقشہ بحار الانوار میں ان لفظوں کے ساتھ ہے؛ امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
اسقوا القوم و ارووھم من الماء و رشفوا الخیل و ترشیفا ففعلوا واقبلوا یملئون القصاع والطسان من الماء '' حر اور اس کے ساتھیوں کو پانی سے اچھی طرح سیراب کرو ، ان کے گھوڑوں کو بھی اچھی طرح سیراب کرو ۔ اس کے بعد حر اوراس کے ساتھی آئے اور انہوں نے اپنے برتن پانی سے بھر لئے ''۔(۳)
یہ تھابے آب و گیاہ صحراء میں دوپہر کے تپتے سورج کے سامنے فرزند زہرا (س)کے لطف وکرم اور محبت و مہربانی کا ایک نمونہ۔ حالانکہ آپ جانتے تھے کہ کل ایسا وقت بھی آئے گا جب پانی کی شدید ضرورت ہوگی ، بچے پیاس سے جاں بلب ہوںگے اور خود یہی لشکر ان پر پانی کی بندش عائد کرے گا لیکن آپ نے تمام خیالات کو جھٹکتے ہوئے نبوی و علوی کرامت و شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان کے دشمنوں کو سیراب کیا اور مہر و محبت کی انوکھی مثال قائم کی۔

حوالے :
١۔مقتل الحسین ، المقرم ص ٢١٣؛ ترجمہ مقتل مقرم ص١١٤۔١١٥؛ نفس المہموم ص ٩٣ ؛ ارشاد شیخ مفید ج٢ ص ٨٠؛ نیز مقتل خوارزمی اور تاریخ طبری میں بھی یہ روایت ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
۲۔مقتل کے فقرے ہیں :علی بن طحان کا بیان ہے کہ میں اس دن حر کے لشکر میں تھا ، میں آخری شخص تھا جسے پانی پلایاگیا ،اس وقت حسین میرے پاس آئے اور فرمایا : انخ الراویة ۔ حجازی زبان میں راویہ '' اونٹ '' کو کہتے ہیں اور عراقی زبان میں مشک کو راویہ کہاجاتاتھا ۔اس کا بیان ہے کہ میں حضرت کا مطلب نہیں سمجھ پایا اسی لئے وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور عراقی زبان میں فرمایا: انخ الجمل '' اونٹ کوبٹھائو''۔ چنانچہ میں نے اونٹ کو بٹھادیا اور پانی پینے کی کوشش کرنے لگا لیکن شدت تشنگی کی وجہ پانی میرے ہاتھ سے گر جاتاتھا ۔ریحانہ رسول نے یہ صورت حال دیکھ کر فرمایا :آرام سے پیو۔ لیکن شدت تشنگی کی وجہ سے میری سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ کیاکروں ۔ یہ دیکھ کر حضرت اباعبداللہ مشک کو لے کر آہستہ آہستہ میرے ہاتھوں پر گرانے لگے ۔ پھر میرے گھوڑے کے پاس گئے اور اسے بھی اپنے ہاتھوں سے سیراب کیا۔(ملاحظہ ہو: ترجمہ مقتل مقرم ص ١١٤؛ نفس المہموم ص٩٣)
۳۔بحار الانوار ج٤٤ ص ٣٧٦؛ نفس المہموم ص ١٨٧

مقالات کی طرف جائیے