مقالات

 

عکس زندگی ؛حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج مولانامجتبیٰ علی خان ادیب الہندی طاب ثراہ

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

اسم گرامی: مجتبیٰ علی خان
عرفیت : عابد،گھروالوں کے لئے
شہرت :ادیب الہندی
تخلص:ادیب
وطن : عبد اللہ بہارپور،ضلع سلطان پور
تاریخ ولادت: ۱۵؍رمضان المبارک ۱۳۶۴ھ؁مطابق ۲۳؍اگست ۱۹۴۵ء؁
ولدیت:جناب الحاج محمد ضیغم علی خان مرحوم (رئیس بہارپور)
ابتدائی تعلیم :جامعہ ناظمیہ لکھنؤ
اعلیٰ تعلیم: حوزہ علمیہ نجف اشرف ؛(۱۴؍مئی ۱۹۶۴ء؁کونجف اشرف روانہ ہوئے اورتقریباً۱۲سال تک اساطین فقہ واصول سے کسب فیض کرنے کے بعد۱۹۷۶ء؁میںہندوستان واپس ائے)
اسناد:عالم ،فاضل ،ادیب ماہر،ادیب کامل،بی اے (B.A)ایم اے(M.A)ایل ایل بی (L.L.B)
اساتذئہ کرام :آیۃ اللہ العظمیٰ حکیمؒ ،آیۃ اللہ العظمیٰ خمینی ؒ،آیۃ اللہ العظمیٰ خوئی ؒ،آیۃ اللہ راستی ،آیۃ اللہ کریمی ،مفتی اعظم مولاناسیداحمد علی ؒ، استاذ الاساتذہ مولانامحمد شاکرامروہوی ،علامہ اخترعلی تلہری صاحب ،مولاناابن حیدرصاحب وغیرہ
احباب وہم عصر: آیۃ اللہ سید صادق حسینی شیرازی دام عزہ،آیۃ اللہ سید مجتبیٰ شیرازی دام عزہ ،حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سیدتقی الحیدری صاحب،حجۃ الاسلام سید محمد کاظم کریمی صاحب ،مولاناسیدعلی اختر رضوی شعور ؔگوپال پوری ؒ،عالی جناب قمراحسن صاحب،و۔۔۔

تبلیغی سفر:
الف:عشرئہ مجالس :آپ نے ہندوستان کے اکثرشہرو ںمیں عشرئہ مجالس خطاب کیانیزاسی غرض سے امریکا،کناڈا،انگلینڈ،افریقا،اور امارات متحدہ تشریف لے گئے ۔
ب:مذہبی کانفرنس:آپ نے دینی اورمذہبی کانفرنس کے سلسلے میں کئی شہروں کاسفرکیاجن میںمجلس علماء وواعظین کے زیراہتمام دہلی ، میرٹھ اور بنگلور میں منعقدہ کانفرنسیں نمایاں حیثیت کی حامل ہیں ۔
وکالت اورنمائندگی : آپ آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی اعلی اللہ مقامہ کے وکیل تھے ،ا س کے علاوہ جن آیات اعظام نے مختلف اجازے عطا کئے تھے ان کی تعدادچوبیس (۲۴)ہے ،جن میںآیۃ اللہ العظمیٰ حکیمؒ ، آیۃ اللہ العظمیٰ اراکیؒ، آیۃ اللہ العظمیٰ کلپائیگانیؒ،آیۃ اللہ العظمیٰ خمینی ؒ،اورآیۃ العظمیٰ خوئی ؒ سرفہرست ہیں ۔

مناصب اورعہدے :
۱۔وائس پرنسپل مدرسۃ الواعظین لکھنؤ (۱۹۸۰ء؁میں )
۲۔پرنسپل منصبیہ عربی کالج میرٹھ (۱۹۹۸ء؁میں )
۳۔جنرل سیکرٹری مجلس علماء وواعظین
۴۔ مدرس وثیقہ عربی کالج فیض آباد()
نجف اشرف سے واپسی پر فخرالاتقیاء مولاناسیدوصی محمدصاحب مرحوم نے مدرسہ میں آکرشرح لمعہ وغیرہ کادرس دینے کی فرمائش کی ۔وثیقہ کے قیام ہی کے دوران آپ نے انگریزی سیکھی اورمختلف امتحانات دیتے ہوئے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی ۔

آثار اورکارنامے:
الف :ترجمے :قانون اساسی جمہوری اسلامی ایران ،بعض عربی اورفارسی کے طویل مقالوں کاترجمہ بھی شامل ہے ۔

ب:تصانیف وتألیفات :
۱۔الامام:علی میاں ندوی نے سیرت امیرالمومنین ؑ پرایک کتاب ’’المرتضیٰ ‘‘لکھی جس میں حقائق کوتوڑمروڑکرپیش کیاگیا تھا ،مولاناموصوف نے اس فتنہ پرورکتاب کاعالمانہ جواب ’’الامام‘‘ کے نام سے ۱۹۹۴؁ء میں شائع کیا
۲۔انقلاب ایران :اس کتاب میں انقلاب اسلامی ایران کے سلسلہ میں عدم معرفت اور نادانی کی بنا پر زبان اعتراض کھولنے والوں کے لئے دعوت دی گئی ہے۔ ۱۳۹۹؁ ھ میں ادارہ نور اسلام ،فیض آباد سے شائع ہوئی ۔
۳۔انوار:اقوال چھاردہ معصومین پرمشتمل ’’انوار‘‘نامی کتاب مرتب کی جومقبولیت کے پیش نظرمختلف اداروں سے شائع ہوتی رہی ہے اس کاہندی ترجمہ بھی شائع ہوچکا ہے۔
۴۔افتخارالعلماء :یہ کتاب افتخارالعلماء مولانا سعادت حسین خان صاحب مرحوم کی حیات وخدمات پرمشتمل ہے ۔
۵۔جدیدفارسی ادب پرانقلاب اسلامی ایران کے اثرات (غیرمطبوعہ)یہ کتاب اصل میں مولانا مرحوم کی پی ،ایچ،ڈی (Phd)کی Thesisتھی۔
ج:مضامین :آپ نے بہت سے مضامین تحریر کئے جوہندوپاک کے مختلف رسالوں میں شائع ہوئے جن میں الواعظ،توحید،اصلاح، سرفراز، صداقت اورتنظیم المکاتب سرفہرست ہیں۔
مضامین کی تنظیم وترتیب کاکام چل رہاہے عنقریب ویب سائٹ کے ذریعہ مومنین کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے ۔

دینی خدمات :
۱۔مختلف شہروں اوردیہاتوں میں مساجداورامامباڑوں کی بنیادرکھی اوران کی تعمیرمیں مالی تعاون کیانیزتعمیرمساجدکمیٹی کی بنیادبھی رکھی ۔
۲۔بہارپورکے آبائی امام باڑے کی تعمیرنو کروائی اور اپنی وصیت کے مطابق اسی میں سپردلحدہوئے ۔
۳۔آپ نے متعدداداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیاجن میں مجلس علماء وواعظین اورتعمیرمساجدکمیٹی شامل ہیں۔
۴۔مدرسۃ الواعظین کے وائس پرنسپل ہونے کے بعدآپ نے مدرسہ میں بہت سے ترقیاتی کام کئے ۔کتب خانے کے لئے جدید کتابیں حاصل کیں ۔بوسیدہ عمارت کی تعمیرنوکی مہم چلائی اورمتعددکمرے تعمیرکروائے ،ماہنامہ الواعظ کوعلمی اورمالی تعاون کے ذریعہ کافی ترقی دی نیز مدرسہ میں دینی معلومات کاہفتہ وارپروگرام ہوتاتھا جس میں اہل شہربھی شامل ہوتے تھے۔
۵۔وقت کی اہم ترین ضرورت کے پیش نظرآپ نے مجلس علماء وواعظین سے بہت سی کتابیں شائع کروائیں جن میں علی ؑفی القرآن ،اہل البیت ؑفی القرآن ،شہرشہادت ،امام مہدی (عج )حدیث کی روشنی میں،ایسا ہی ہے حکم اسلام کاوغیرہ شامل ہیں
ادبی خدمات:شعروشاعری کے علاوہ ادبی مضامین اورانشائیے شامل ہیں جومختلف ناموں سرفراز میں شائع ہوئے ۔

معاشرتی اوراجتماعی سرگرمیاں:
۱۔لکھنؤکی تحریک عزاداری میں نمایاں حصہ لیا۔
۲۔عراق کے قیام کے دوران آیۃ اللہ یوسف حکیم کی حفاظت کے لئے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔
آپ اس سلسلے میں اتنے سرگرم تھے کہ حکومت کی بلیک لیسٹ میں نام آگیاتھالیکن اس کے باوجود اپنی ذمہ داری سے دست بردارنہیں ہوئے آخرکارآیۃ اللہ حکیم کے خانوادہ کی طرف سے آپ کوشام بھیجنے کاانتظام کیاگیااورآپ بحفاظت حدودعراق سے نکل آئے ۔
۳۳۔آیۃ اللہ خمینی ؒ نجف اشرف میں رہ کرایران کی شاہی حکومت کے خلاف تحریک چلارہے تھے آپ نے اس تحریک میں بھی غیرمعمولی حصہ لیا جس کے نتیجے میں حکومت کے معتوبین میں شمارہونے لگے اورنام بدل کرہندوستان واپس آناپڑا۔

شخصیت کی خوبیاں :
۱۔حق کے لئے جانثاری کاجذبہ :عراق وایران کی تحریکیں اس بات کی گواہ ہیں۔
۲۔جلدی معاف کردینا۔ ۳۔اپنے دشمنوںسے نیک برتائوکرنا۔
۴۔مادی چیزوں سے بے رغبتی ۔ ۵۔غیبت کرنے والوں سے دوری ۔
۶۔اہل بیت طاہرین ؑکے دشمنوں سے شدید نفرت اوراظہاربیزاری ۔

اولادـ:
۱۔حجۃ الاسلام مولانامصطفیٰ علی خان (شمیل)آپ حوزہ علمیہ قم میں زیرتعلیم ہیں اوراپنے والدگرامی کے کارناموں کومنظرعام پرلانے اوران کے ادھورے کاموں کومکمل کرنے کی جدوجہدکر رہے ہیں، خداان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے ۔
۲۔مرتضیٰ علی خان (کمیل)
۳۔احمدعلی خان (زہیر)
۴۔مہدی علی خان (سہیل)

وفات :
آپ کے گردے خراب ہوچکے تھے بڑے فرزندبرادرعزیزمولانامصطفیٰ علی خان(شمیل)صاحب نے اپنے گردے کی پیشکش کی جسے انھوں نے ایک عرصہ تک ٹالاآخرڈاکٹروں کے اصرارسے مجبورہوکر۳۱؍دسمبر۱۹۹۹ء؁کوگردے کی تبدیلی کاآپریشن ہواڈاکٹروں نے چھ مہینے تک سخت حفاظت اوراحتیاط کامشورہ دیاتھاکہ انفکشن نہ ہوجائے لیکن دوہی مہینے میں لکھنؤ آگئے اورعیادت کرنے والوں میں ایساگھرے کی سخت انفکشن ہوگیادوبارہ دہلی گئے لیکن وقت موعود آچکاتھا۴؍محرم۱۴۲۱ھ؁دارفانی سے داربقا کی طرف کو چ کرگئے ۔۱۱؍اپریل کومیت لکھنوہوتے ہوئے وطن (بہارپور)پہنچی نمازمیت مرحوم کے فرزنداکبرمولانامصطفی علی خان شمیل نے پڑھائی ۔
مدفن:حسینیہ بہارپور،ضلع سلطان پور ۔

ایک یادگارلمحہ:
عراق میں قیام کے دوران ایک مرتبہ درسی مذاکرہ میں جاسوسوں نے عراق پولس کومولانامرحوم کی موجودگی کی اطلاع پہنچادی ،پولس صرف انہیں کوتلاش کرنے وہاں پہنچی تھی لیکن ان میںذرابھی اضطراب پیدانہ ہوازیرلب یہ آیت پڑھتے رہے ’’وجعلنامن بین ایدیھم سداومن خلفھم سداًفاغشیناھم فھم لایبصرون ۔‘‘ (یس ؍۹)
ہم نے ایک دیواران کے آگے کھڑی کردی اورایک دیواران کے پیچھے ،ہم انھیں ڈھانک دیااب انھیں کچھ نہیں سوجھتا۔
پولس وہاں کچھ دیرتک کھڑی رہی اورپھرواپس چلی گئی توان کے رفقاء کی جان میں جان آئی سب نے ا س لرزہ خیزواقعہ پردیرتک تبصرے کئے لیکن یہ تمام تبصروں کاجواب ہلکی سی مسکراہٹ سے دیتے رہے ۔

مقالات کی طرف جائیے