مقالات

 

ولایت امیر المومنین علیہ السلام نصوصِ رحمة للعالمین کے آئینہ میں

آقای مہدی مظفری

ترجمہ : کاشف رضا گھوسوی
ولایت کامسئلہ اسلام کااہم ترین مسئلہ ہے، جسے دینی منابع یعنی قرآن وحدیث میں بیان کیاگیاہے اوریہ اہم مسئلہ رسول اسلام ؐسے مختلف طریقوں سے بیان کیاگیاہے ۔بنیادی ترین نکتہ اورقابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ '' نظام ولایت'' ایک خاص مفہوم ہی نہیں بلکہ ایک پائداراورمحکم عقیدہ ہے جومسئلہ رہبری وسرپرستی کورسول خداؐکے بعد امت مسلمہ کے لئے واضح و آشکار کرتاہے ، ظاہر سی بات ہے کہ ولایت وسرپرستی اجتماعی ضرورتوں سے بہت نزدیک ہے، کیونکہ ہرکوئی بغیرچون وچرا اس بات کومانتا ہے کہ بعدوفات رسول ؐمعاشرے کے لئے ایک ولی وسرپرست کا ہونا ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرہ ہرج ومرج میں مبتلانہ ہو۔
جس نظام ولایت کا تذکرہ اسلامی منابع میں کیاگیاہے اور اسلامی معاشرے کے لئے جس کی شدت سے ضرورت بیان کی گئی ہے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مسلمان مکاتب فکر کے اعتبار سے یکساںہوتے ہوئے ولی اورولایت کے مصداق ومفہوم کے سلسلے میں دوگانگی کے شکارنہ ہوں،بلکہ بعدرسول ہی امت مسلمہ متعددفرقوں میں تقسیم ہوگئی ،چونکہ انہوں نے ولایت کے مفہوم و حدود کے ساتھ ساتھ ولی کے مصداق کے سلسلے میں بھی اختلاف کیااسی لئے مندرجہ ذیل حقیقتوں سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی:
الف۔علمائے شیعہ وسنی نے عملی طورسے ولی وخلفاء کی ولایت واطاعت کے بارے میں نظریات پیش کئے ہیں،جس طرح علمائے شیعہ اپنے اماموں کی اطاعت اپنے اوپرواجب ولازم جانتے ہیں اور ان کے لئے عظیم مرتبہ کے قائل ہیں، اسی طرح اہل سنت حضرات بھی اپنے خلفاء کوواجب الاطاعت اور اپناولی وسرپرست سمجھتے ہیں ، یہاں تک کہ فاسق خلفاء کے دستورات کی مخالفت کرنا بھی صحیح نہیں ہے ۔
ب۔شیعی عقیدہ کے اعتبارسے ائمہ سے کسی طرح کی لغزش یا خطا سرزد نہیں ہوتے ، بلکہ وہ خدا کے منتخب نمائندے ہیں جوصاحب عصمت اوربرترعلم کے حامل ہیں، سوائے حق وحقیقت ، اورحق پسندی کے علاوہ ان کی زندگی میںکوئی دوسری چیزنہیں آسکتی۔ جب کہ اہل سنت، شیعہ عقیدہ کے بالکل برخلاف ہیںاور خلفاء کے لئے خطاء و نسیان کو جائز سمجھتے ہیں ۔
ج۔ حقیقت وماہیت میں فرق؛ ولی وولایت کی حقیقت شیعی نقطۂ نظر سے یہ ہے کہ ولایت ایک الٰہی منصب ومقام ہے جس میں انسان کاکوئی دخل نہیں ہے، خداوندعالم نے لوگوں کی ہدایت و رہبری کے لئے رسالت وولایت کے منصب کو ایک ساتھ رسول وامام کے لئے خلق فرمایاہے۔
لیکن اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ مقام رسول وولی ایک دوسرے سے جداہیں، اس اعتبارسے کہ خلیفہ رسول اوران کے جانشین کے لئے امت کاانتخاب اہم ہے، اس میں خداوندعالم کی کوئی دخالت نہیں ہے اورامت جس کومنتخب کرے وہی ولی وسرپرست اورواجب الاطاعت ہوگا۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ جوانسان ذاتی اعتبار سے دوسروں پر کوئی ولایت وسرپرستی نہیں رکھتا، وہ انسان کس دینی وعقلی دلیل کے تحت یہ حق رکھتاہے کہ وہ رسول کے بعد جس شخص کا جانشینی کی حیثیت سے انتخاب کرے وہ واجب الاطاعت ہو اوراس کی پیروی سب پرلازم ہو اوراس کی مخالفت کسی صورت صحیح نہیں ۔ بلکہ اس کو ماننے پر سبھی مجبور ہیں، سلطان اعظم اور ولی کے عنوان سے اس کو ماننا سب کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

نظام ولایت؛ روایات کی روشنی میں :
روایت میں ولی وولایت کالفظ بہت زیادہ استعمال ہواہے، جس کازیادہ ترمعنی لوگوں پرتصرف اورایک خاص گروہ کاولی وسرپرست ہونابیان کیاگیا ہے۔ نیز دوسروں کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ نمائندۂ الٰہی کی ولایت کو قبول کریں ۔ درحقیقت احادیث کی روشنی میں نظام ولایت ایک پائداراورمحکم ذریعہ ہے بشری ہدایت و تکامل کے لئے، جسے اہم ترین فریضہ کے عنوان سے تمام فرائض الٰہیہ میں بیان کیاگیاہے اور معرفت الٰہی کابہترین سرچشمہ بھی بتایاگیاہے ، لہٰذاولایت کی قبولیت یا اس کا انکار ، انسانوں کے اعمال میں انتہائی مؤثر ہے ۔
زرارہ سے مروی ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : بنی الاسلام علی خمسة اشیاء :علی الصلاة والزکات والحج والصوم والولایة، قال زرارہ فقلت: وای شیٔ من ذالک افضل ؟ فقال الولایة لانھامفتاحھن والوالی ھوالدلیل علیھن(١)''اسلام کی بنیادپانچ چیزوں پراستوارہے : نماز، زکات ، حج ، روزہ ، ولایت۔ زرارہ نے کہا: میں نے امام سے پوچھاکہ ان میں کون سب سے بہترہے؟ امام نے فرمایا: ولایت۔ کیونکہ ولایت بقیہ چیزوں کی کنجی ہے اوران سب پرولی وراہنماہے''۔
دوسری حدیث میں پانچویں امام سے اس طرح نقل ہواہے :امالوان رجلاقام لیلہ وصام نھارہ وتصدق بجمیع مالہ وحج جمیع دھرہ ولم یعرف ولایة ولی اللہ فیوالیہ ویکون بجمیع اعمالہ بدلالتہ الیہ ماکان علی اللہ حق فی ثوابہ(٢) ''آگاہ ہوجائوکہ اگرکوئی شخص شب بیداری کرے اوردن میں روزے رکھے اور اپنے تمام اموال کوصدقہ کردے، اورہردن حج انجام دے،لیکن ولایت ولی خداکے بارے میں اعتقادنہ رکھتاہوتوجب تک اس کی ولایت کوقبول نہ کرے اوراپنے اعمال کواس کے احکام کے پیش نظرانجام نہ دے، توخداپرلازم نہیں ہے کہ اس کوکوئی ثواب دے''۔
ان دوحدیثوں سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ صاحبان ولایت کی ولایت وسرپرستی اللہ کی طرف سے مؤیدہے جوانسان کے اعمال کونکھارتی ہے یعنی درحقیقت ان کی ولایت نیکیوں کی طرف ہدایت کاچراغ ہے۔
دوسری حدیث میں رسول خداؐسے نقل ہواہے :فوالذی نفسی بیدہ لاینفع عبداتحملہ الابمعرفتناوولایتنا(٣)'' اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمدکی جان ہے کسی بھی شخص کاعمل اس کواس وقت تک فائدہ نہیں پہونچاسکتاجب تک کہ وہ ہماری معرفت وولایت کوقبول نہ کرے''۔
بعض روایتوں میں اسلام کے دوسرے فرائض پرولایت کی برتری کی طرف اشارہ کیاگیاہے: اگرنماز، زکات،روزہ اور حج کسی وجہ سے بربادہوجائیں، تواس کی قضاوبھرپائی ہے، لیکن ولایت اتنی اہم ہے کہ اگربربادہوجائے توپھرکوئی دوسری شئے اس کی جگہ نہیں لے سکتی اس کی پھرپائی نہیں ہوسکتی۔
ولایت کامسئلہ اور پیغمبروں کے ذریعہ اس کوپہونچانے کامسئلہ اتنااہم اورزندگی ساز ہے کہ رسول اسلام نے فرمایا :''آخری حج جوہم نے انجام دیاتوحج کے مواقف میں سے ایک موقف پرجبرئیل آئے اورکہا: آپ کی زندگی کے آخری لمحات نزدیک ہیں ، اپنی امت کویادآوری کریں؛عھدی الذی عھدت الیھم من ولایة ولیی ومولاھم ولاکل مؤمن ومؤمنةعلی بن ابی طالب فانی لم اقتض نبیامن الانبیاالامن بعداکمال دینی واتمام نعمتی علی خلقی بولایة اولیائی ومعاداة اعدائی وذالک کمال توحیدی ودینی واتمام نعمتی علی خلقی باتباع ولیی وطاعتہ(٤)''وہ عہدوپیمان جوان لوگوں سے لیاتھا اپنے ولی کی ولایت اور ان کے مولااورتمام مردوعورت کے مولاعلی ابن ابی طالب کے بارے میں ، میںنے نبیوں میں سے کسی نبی کی روح قبض نہیں کی مگراپنی نعمت تمام کرنے کے بعداپنے بندوں پراپنے ولی کی ولایت کے ذریعہ اوراپنے دشمنوں سے بیزاری کے ذریعہ، یہ نہایت توحیدودین ہے اوراپنی نعمتوں کااتمام ہے اپنی مخلوقات پرتاکہ وہ ہمارے اولیاء کی اطاعت وفرمانبرداری کریں''۔
اسی طرح ابلاغ ولایت کے بارے میں رسول کافرمان ہے کہ جبرئیل نے مجھے خداکی طرف سے یہ پیغام دیاہے کہ: علم الناس ولایتھم کماعلمتھم من صلاتھم وزکاتھم وصومھم وحجھم(٥)'' لوگوں کواولیاء کی ولایت سے آگاہ کریں، جس طرح نماز، زکات، روزہ اور حج سے آگاہ کیاہے''۔
لہٰذاامامت وولایت تقرب الہی کے لئے راہ کوہموارکرتی ہے، اورانسان کے اعمال وکردار میں روح کاکام کرتی ہے، یعنی اگرکوئی ولایت کوقبول رکھتاہواوراولیائے الہی کے آگے سرتسلیم خم کرے توان کے زیرحمایت ہوگا۔

امیر المومنین کی ولایت ؛ آیۂ ولایت کی تفسیری احادیث کے تناظر میں:
رسول اکرم کے بعدامامت وجانشینی، شیعی نقطۂ نظر سے الٰہی منصب ہے ،خداوندعالم نے مقام نبوت کے دوام کے لئے منصب خلافت وامامت کوقراردیاہے، یعنی درحقیقت شیعہ جس امامت کا عقیدہ رکھتے ہیں اس کی کچھ شان وعظمت ہے جس میں سے ایک یہ ہے کہ وہ خداوندعالم کی طرف سے تائید شدہ ہے جس میں سے اہم ترین مرتبہ ولایت وسرپرستی ہے ، اس میں ہدایت گری کے اسرارو رموز پوشیدہ ہیں، چونکہ ولی کے سلسلے میں شیعہ جس ولایت کے قائل ہیں وہ خدا اور اس کے رسول کی ولایت جیسی ہے، جس کا انسانوں کے قبول کرنے اورنہ کرنے سے کوئی رابطہ نہیں ہے، بلکہ جس کوبھی خداوندعالم نے رسول اسلام کے بعدامت کی رہبری کے لئے منتخب کیاوہ الٰہی ولایت کاشاہکارہے اوراسے اللہ کی طرف سے حق حاصل ہے کہ وہ دوسروں کے امور میں تصرف کرے، اوریہی مفہوم آیۂ ولایت(اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْاالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلَاةَ وَیُؤتُوْنَ الزَّکَاةَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ) (٦) سے بھی نکلتاہے کہ یہ آیت امیرالمومنین کی شان میں نازل ہوئی، اسی آیت میں پروردگارعالم نے امیرالمومنین کی ولایت کو اپنی اوررسول خداکی ولایت کے ہمراہ بیان فرمایاہے۔
اسی طرح سورۂ کہف میں ولایت کے بارے میں خداوندعالم ارشاد فرماتاہے:(ھُنَالِکَ الْوِلَایَةُ لِلّٰہِ الْحَقّ ھُوَخَیْرُثَوَاباًوَخَیْرُعُقْبا)۔(٧) اس سے یہ بات واضح و ثابت ہوجاتی ہے کہ ولایت وقدرت خداوندعالم سے مخوص ہے ،وہی ہے جو بہترین ثواب اور بہترین عاقبت (فرمانبرداروں کو) عطا فرماتاہے ۔
علامہ طباطبائی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہاں کلمہ'' اللہ'' جو حق ہے باطل کے مقابلے میں ہے، اور کلمۂ'' اللہ'' حق سے توصیف ہواہے، پس آیت میں ولایت کامعنی امورمیں سلطنت وتدبیر ہے نہ کہ نصرت، کیونکہ اگر نصرت مرادہوتی تو کلمہ'' اللہ'' کو عزت، قدرت یاغلبہ سے توصیف کرنا چاہئے تھا، اس کے علاوہ ''خیرثوابا'' اور'' خیرعقبا'' نصرت کے ساتھ سازگارنہیں ہے۔(٨)
حافظ حسکانی اپنی کتاب شواھدالتنزیل میں (ھنالک الولایة للہ الحق)کی تفسیر میں ، امام باقر سے نقل کرتے ہیں : تلک ولایة امیرالمومنین التی لم یبعث نبی قط الابھا(٩) ''اس آیت میںولایت سے مراد، امیرالمومنین کی ولایت ہے اور کوئی بھی پیغمبرنہیں بھیجاگیامگر یہ کہ اس ولایت کی تبلیغ کرے ''۔ آیہ مبارکہ میں امیر المومنین علی کی ولایت سے ولایت کی تفسیر کرنا اس بنیادپرہے کہ آنحضرت خداوندعالم کی ولایت وسلطنت کے مظہرہیں اوران کی ولایت حقانیت کے لحاظ سے اور خطاسے محفوظ ہونے کے اعتبارسے اللہ کی ولایت کے مترادف ہے ۔ اسی طرح آیۂ مذکورہ کے ذیل میں ایک تفسیری حدیث امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے جس میں ولایت سے مراد حضرت علی کی ولایت کو قرار دیاگیاہے۔(١٠)
اسی طرح صادق آل محمدؐسے منقول ہے : ولایتناولایة اللہ عزوجل التی لم تبعث قط الا بھا(١٢)'' ہماری ولایت اللہ کی ولایت ہے جس نے کسی بھی پیغمبر کونہیں بھیجامگراس کی تبلیغ کے لئے''، ولایت پیغمبر اور ولی وجانشین کی ولایت کے درمیان رابطہ کے اثبات کے لئے یہی کہاجاسکتاہے کہ جس طرح قرآن نے پیغمبراسلام کے بارے میں فرمایا:(اَلنَّبِیُّ اَوْلیٰ بِالْمَؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ)(١٣)''پیغمبرمومنین کے نفوس پر ان سے زیادہ اولویت رکھتے ہیں''،یہی اولویت مومنین کے اوپر رسول اسلام کے بعد ان کے برحق اولیاء اور خلفاء کے لئے بھی ثابت ہے۔(١١)اسی طرح خود رسول اسلام نے اپنی ولایت اور اپنے معصوم جانشینوں کی ولایت کے رابطہ کے بارے میں ابن عباس سے فرمایا:یابن عباس ولایتھم ولایتی و ولایتی ولایة اللّٰہ حربھم حربی وحربی حرب اللّٰہ، سلمھم سلمی وسلمی سلم اللّٰہ (١٤)''اے ابن عباس !ان(ائمہ طاہرین ) کی ولایت میری ولایت ہے اورمیری ولایت اللہ کی ولایت ہے، ان سے جنگ مجھ سے جنگ ہے اورمجھ سے جنگ اللہ سے جنگ ہے، ان سے صلح مجھ سے صلح ہے اور مجھ سے صلح خدا سے صلح ہے ''۔
دوسری روایتوں میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ خدا ، رسول اور ائمہ اطہار کی ولایت کے درمیان ایک خاص رابطہ پایاجاتاہے جسے خداوندعالم نے قرار دیاہے ۔(١٥) اور اس رابطہ کے عملی اوراعتقادی آثاروفوائدکے بارے میں یہ کہاجاسکتاہے کہ آیۂ مبارکہ (اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُخْرِجُھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلیٰ النُّوْرِ)(١٦)کے تناظر میں جس طرح خداوند عالم کی ولایت تکامل کا ذریعہ اور تاریکیوں سے نجات کا وسیلہ ہے اسی طرح رسول اوران کے اولیاء کی ولایت بھی رسول کے بعد ان افراد کے لئے تکامل و ترقی کا ذریعہ اور روشن راستہ ہے جو اس ولایت کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں۔
مذکورہ آیات و روایت کے پیش نظر یہ نتیجہ حاصل ہوتاہے کہ ولایت کامفہوم شیعی متکلمین اور علماء کے درمیان ایک خاص منزلت کاحامل ہے اور عقیدتی اور کلامی اعتبارسے امام و ولی بے پناہ خصوصیات کا حامل ہوتاہے جو حق کی طرف دعوت دینے والا،خدا کی حجت اور دینی امور کا ناظم ہوتاہے۔(١٧)
لہٰذا قرآنی آیات اور رسول خداکی ولایت کو خاص اہمیت دی گئی ہے جس کو امامت کی شکل میں بیان کیاگیاہے یعنی ولایت عملی اعتبار سے امامت کا اہم ترین پہلو ہے کیونکہ امام ولایت قبول کرنے والوں کا ہاتھ پکڑ کر ضلالت و گمراہی اور کج روی سے نکال کر خدا کی معرفت و شناخت کی راہ پرلے آتا ہے اور ان کی ہدایت کرتاہے ۔
علامہ طباطبائی اس بارے میں فرماتے ہیں:مقام نبوت اورمقام ولایت دوایسے مستقل سبب ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم نے ہمیں ضلالت و گمراہی سے نجات دلائی ۔(١٨) انھوں نے دوسری جگہ ولایت کودینی ظواہر کے لئے ایک باطنی امر اور روح کے مانند قرار دیاہے کہ دینی قوانین ودستورات اسی ولایت کی وجہ سے قائم ہیں اور استحکام پاتے ہیں۔(١٩)
استاد شہید مرتضی مطہری نے امامت کے مراتب بیان کرتے ہوئے تین باتیں بیان کی ہیں:
الف۔ معاشرے کی عمومی ریاست و زعامت ،رسول خداکے بعد امام کے کاندھے پر ہے ، شیعہ و سنی دونوں فریق کا اس بات پر اتفاق ہے ۔
ب۔ امامت کا مطلب دینی مرجعیت ہے ، امام غیبی طریقے سے اسلامی علوم و معارف کو رسول سے حاصل کرتاہے جس میں خطا و نسیان کی گنجائش نہیں ہوتی ۔لیکن برادران اہل سنت کسی کے لئے بھی اس مقام ومنزلت کے قائل نہیں ہیں ، وہ لوگ اس مرتبہ میں نہ امام کے قائل ہیں نہ امامت کے، اور قائل بھی نہیں ہوناچاہتے ۔ شیعوں سے ا ن کاجواختلاف ہے وہ مصداق کے سلسلے میں ہے۔
ج۔ولایت تیسرے مرتبہ میں، امامت کے بلندترین مفہوم کا حامل ہے ،اس اعتبار سے شیعوں کی نظر میں امامت کی ایک خاص منزلت ہے ، اسی مفہوم کو دعائوںاوردینی نصوص میں متعدد مرتبہ بیان کیاگیاہے کہ زمین کبھی بھی امام سے خالی نہیں ہوسکتی ، یعنی ہرزمانے میں ایک ایسے انسان کامل کا وجود ضروری ہے جوانسانیت کے تمام معنویت کاحامل ہو۔(٢٠)
شیعی نقطۂ نظرسے ولایت کے مصادیق کوپہچانناہوتو وہی بارہ معصومین ہیں جورسول اسلام کے جانشین، خداکی طرف سے قراردئیے گئے ہیں جن میں علی ابن ابی طالب سب سے پہلے اوربلافصل خلیفہ وجانشین پیغمبرہیں اور ان کے بارہویں بیٹے ، حضرت مہدی آخرالزمان(عج) ہیں جن پرخلافت ختم ہوگی۔(٢١)
شیعی عقیدہ کے اعتبارسے امام کی ولایت کی حد ، حکومتی وسیاسی حدودسے بالاترہے ، اگرچہ سیاسی و حکومتی قیادت بھی امام کی ولایت کاایک حصہ ہے لیکن ولایت کی اہم ترین ذمہ داری دینی رہبری اور معاشرے کی معنویت ہے جو تشریعی ہدایت کے ساتھ پاک نفوس کی ہدایت ورہنمائی کرتے ہوئے حقیقی و آسمانی کمال کی طرف لے جاتاہے۔(٢٢) اور اس ولایت کی وجہ سے امام دین کاالٰہی پیشوا ، مسلمانوں کے امور کا ناظم ، مومنین کے لئے باعث عزت ونجات ، خداوندعالم کاامین اور اس کے بندوں پراس کی حجت ہوتاہے۔(٢٣)
مختصر یہ کہ شیعی وامامی عقیدے کے لحاظ سے ولی وولایت کا مفہوم ومصداق ،آیات الٰہیہ اور رسول اسلامۖ کی روایت نیز ائمہ معصومین کی احادیث سے ان کے الٰہی ہونے پرنقل ہواہے۔(٢٤)

رسول خداکی احادیث میں ولایت امیر المومنین کے مصداق کا تعین:
انصاف کی بات تویہی ہے کہ رسول اکرم کی روایتیں اہم ترین اور اطمینان بخش دلیلیں ہیں جن کے ذریعہ واقعیت تک پہونچا جاسکتاہے اور تعصب و ہٹ دھرمی سے پرے نزاع وجدال کوبرطرف کیا جاسکتا ہے۔
اسی بناپرمسئلہ ولی و ولایت کے سلسلے میں شیعہ وسنی کی روائی کتابوں میں بہت زیادہ احادیث موجودہیں جو ولایت امیرالمومنین کوثابت کرتی ہیں۔ اس واقعیت کی مزید وضاحت کے لئے بعض روایتوں کی جانب اشارہ کیاجارہاہے جن میں ولی و ولایت کے مفہوم و مصداق کو معین کیاگیاہے :
عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول خدانے فرمایا:علیامنی وانامنہ وھوولی کل مومن(٢٥) '' بیشک علی مجھ سے ہیں اورمیں علی سے اورعلی میرے بعدمومنوں کے ولی ہیں ''۔
اوربریدہ سے روایت ہے کہ پیغمبرنے دولشکریمن کی طرف روانہ کئے ،ایک علی کی سپہ سالاری میں ، اورایک خالیدبن ولید کی سپہ سالاری میں۔ قبیلۂ بنی زبید کے ساتھ جنگ کے بعد مسلمان فتحیاب ہوئے تو خالدنے ایک خط علی کی شکایتوں سے بھراہوامجھ کودیاتاکہ رسول اسلام تک پہونچادوں۔ جب وہ خط لے کررسول کی خدمت میں آیا اور ان کودیاتو ان کے چہرے سے ناراضگی عیاںتھی اور مجھ سے ارشادفرمایا: لاتقع فی علی فانہ منی وانامنہ وھوولیکم بعدی (٢٦)'' علی کی شکایت نہ کرو، بیشک وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں اور علی میرے بعدتم لوگوں کے ولی اورخلیفہ ہیں ''۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے علی سے فرمایا: أنت ولی کل مومن بعدی(٢٧)''آپ (اے علی ) میرے بعد تمام مومنین کے ولی ہیں''۔
ایک حدیث میں زیدبن ارقم سے نقل ہے کہ رسول خدانے ارشادفرمایا: من اراد ان یحیی حیاتی ویموت موتی ویسکن جنة الخلد التی وعدنی ربی فلیتول علی بن ابی طالب فانہ لن یخرجکم من ھدی ولن یدخلکم فی ضلالة(٢٨) ''جوکوئی بھی یہ چاہتا ہو کہ میرے جیسی زندگی بسرکرے اورمیری جیسی موت سے ہمکنار اورہمیشہ جنت میں سکونت اختیار کرے جس کااللہ نے مجھ سے وعدہ کیاہے توا س کو چاہئے کہ علی کواپناولی وخلیفہ تسلیم کرے اس لئے کہ علی تم کو ہر گزراہ ہدایت سے دورنہیں کرسکتے اور ضلالت وگمراہی میں نہیںجانے دیں گے''۔
اسی طرح عماربن یاسر سے نقل ہواہے کہ رسول خدانے فرمایا:من آمن بی وصدقنی فلیتول علی بن ابی طالب فان ولایتہ وولایتی ولایة اللہ(٢٩)'' جوشخص بھی مجھ پرایمان لے آیااور اس نے میری تصدیق کی، اس کوچاہیے کہ علی ابن ابی طالب کوبھی اپناولی تسلیم کرے کیونکہ ان کی ولایت، میری ولایت ہے اورمیری ولایت، اللہ کی ولایت ہے''۔
اسی طرح حذیفہ سے نقل ہے کہ رسول اکرم نے ارشادفرمایا:ان تولوعلیاتجدوہ ھادیا(٣٠) ''اگر علی کواپناسرپرست بنائوگے تو ان کو ہادی اورہدایت کرنے والاپائوگے''۔
یہاں تک جو کچھ نقل کیاگیا وہ اہل سنت کی کتابوں میں موجود روایتوں کے کچھ نمونے تھے ، اسی طرح کی بہت ساری روایتیں شیعی منابع میں بھی واردہوئی ہیںجن میں ولی اور ولایت کے وسیع تر مفاہیم کو پیش کیاگیاہے ؛ امام صادق فرماتے ہیں : ماخلق اللّٰہ خلقا الا وقدعرض ولایتناعلیہ واحتج بناعلیہ فمومن بنا وکافر وجاد حتی السموات والارض والجبال(٣١) ''خدوندعالم نے کسی مخلوق کوپیدانہیں کیامگریہ کہ ہماری ولایت کواس کے سامنے پیش کیا اور اس پر ہمارے ذریعہ حجت قائم کی، بعض ان میں ایمان لے آئے اور بعض کافرہوگئے، اور بعض نے انکار کردیا، یہاں تک کہ آسمان وزمین اورپہاڑبھی (ان میں شامل ہیں)''۔
اسی طرح دوسری حدیث میں حضرت علی اور ائمہ معصومین کی ولایت کے ادوار کوبیان کرتے ہوئے فرمایا ہے : قال اللّٰہ تبارک وتعالی استکمال حجتی علی الاشقیاء من امتک من ترک ولایة علی والاوصیاء من بعدک فان فیھم لسنتک وسنة الانبیاء من قبلک وھم خزانی علمی من بعدک(٣٢) ''خدائے وحدہ لاشریک نے فرمایا:میری حجت تمہاری قوم کے شقی لوگوں پرتمام ہے، جنہوں نے علی اور تمہارے اوصیاء کی ولایت کوترک کیا۔ کیونکہ علی اور اوصیاء کی ولایت میں تمہاری اور تمام پیغمبروں کی ولایت موجودہے اوروہی لوگ تمہارے بعد میرے علم کے مخزن ہیں''۔
اسی طرح ایک حدیث میں رسول اسلام سے مروی ہے کہ میرے اہل بیت کے بارہ افراد میرے بعد ولی اورروئے زمین پر خداوندعالم کی حجت ہوں گے، پھراس کے بعد ان بارہ افراد میں سے ایک ایک کا نام لیا، جو ان بارہ اماموں کے نام سے مطابقت رکھتے ہیں جن کے شیعہ قائل ہیں۔(٣٢)
مقدادسے ایک حدیث نقل ہوئی ہے کہ پیغمبرنے فرمایا: پیغمبرکے اہل بیت کوپہچاننا جہنم کی آگ سے دوری کاسبب ہے، اور رسول کے اہل بیت سے دوستی پل صراط سے گزرنے کاجوازہے اور آل محمدکی ولایت پناہ گاہ ہے عذاب سے بچنے کے لئے''۔
اسی طرح رسول خدانے علی کومخاطب کرکے فرمایا: یاعلی والذی بعثنی بالنبوہ واصطفانی علی جمیع اھل البریہ لوان عبدا عبداللّٰہ الف عام ماقبل ذالک الا بولایتک و ولایتہ الائمة من ولدک(٣٤) ''اے علی ! اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے، اگر کوئی شخص قیامت کے دن ایسے اعمال کے ساتھ آئے کہ اس کاعمل ایک ہزار سال کی عبادت کے برابرہو، توبھی خدااس کو قبول نہیں کرے گا، مگریہ کہ وہ خداسے ہماری اورتمہاری ولایت کے ساتھ ملاقات کرے''۔
حضرت علی کی ولایت اوررسول کی ولایت کے درمیان ارتباط کے سلسلے میں جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل ہے کہ ایک مرتبہ رسول خدا نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: من آمن بی وصدقنی فلیتول علیامن بعدی فان ولایتہ ولایتی وولایتی ولایة اللہ''(٣٥) ''جوشخص بھی مجھ پرایمان لے آیا اور اس نے میری تصدیق کی اس کوچاہئے کہ علی ابن ابی طالب کواپناولی بنائے کیونکہ ان کی ولایت، میری ولایت ہے، اورمیری ولایت، اللہ کی ولایت ہے''۔
ایک روایت میں آیاہے کہ رسول خدانے لوگوں کومخاطب کرکے فرمایا:'' معاشرالناس ألیس اللّٰہ اَولیٰ بی من نفس یامرنی وینھانی مالی علیٰ اللّٰہ امر ونھی قالوا: بلی یارسول اللّٰہ قال من کان اللّٰہ وانا مولاہ فھذا علی مولاہ یامرکم وینھاکم مالکم علیہ من امر و لانھی(٣٦) ''اے لوگو! کیا خداوندعالم مجھ سے زیادہ مجھ پرحق نہیں رکھتامجھے حکم دیتاہے اور روکتاہے، اورمیری طرف سے خداپرامرونہی نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا:ایساہی ہے یارسول خداۖ۔ اس کے بعد حضرتۖ نے فرمایا: پس جس جس کامیں مولاہوں، میرے بعدعلی اس کے مولاہیں وہ تم پرامرو نہی کریں گے اور تمہاری طر ف سے ان پرکوئی امرونہی نہیں ہے''۔
اسی طرح حضرت علی کی ولایت کے متعلق بحارالانوار(٣٧)میں ایک حدیث تھوڑی تفصیل کے ساتھ رسول خداۖسے نقل ہوئی ہے ان دونوں حدیثوں میں صریحی طورپر علی کی ولایت اور ان کالوگوں پراولیٰ بالتصرف ہونا خداورسول کی طرح اولیٰ بالتصرف ہونابیان کیاگیاہے۔
اہل بیت کی ولایت کے بارے میں امیر المومنین سے منقول ہے :لایقاس بآل محمد من ھذہ الامة احد ولھم خصائص حق الولایة وفیھم الوراثة والوصیة(٣٨) ''اس امت کی کسی فرد کا موازنہ اہل بیت سے نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اہل بیت کے لئے حق ولایت کومختص کیاگیا ہے اور ان کے درمیان وراثت و وصیت قراردی گئی ہے''۔
مذکورہ روایتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ جس طرح رسول خدانے اصل ولایت اور اس کی ضرورت کو معاشرے کے لئے بارہا بیان کیاہے، اسی طرح ولایت کے مصداق کو پہچاننے کے لئے بھی واضح روایتیں بیان کی ہیں تاکہ حق پسند افرادمیں سے کسی کے لئے کوئی عذر وبہانہ باقی نہ رہے، لیکن بعض لوگوں نے مصداق ولایت و امامت میں بہانہ تراشی کی اور ایسے راستہ کاانتخاب کیاجس میں صرف قدرت طلبی تھی نہ کہ رضایت خداوندی۔

حوالہ جات
١۔کلینی، الکافی، ج٢،ص١٨۔
٢۔وسائل الشیعہ، ج٨، ص٤٤۔
٣۔شیخ مفید، امالی، ص٨٢۔
٤۔وسائل الشیعہ، ج١، ص١٨۔
٥۔سیدہاشم بحرانی، غایة المرام، ج١،ص٣٢٧؛ سیدبن طاووس، الیقین، ص٣٧٣۔
٦۔قاضی نعمان، شرح الاخبار، ص١٠٤۔
٧۔مائدہ٥٥۔
٨۔کہف٤٢۔
٩۔المیزان، ج١٣، ص٣١٧۔
١٠۔شواہدالتنزیل، ج١، ص٣٥٦؛ بحرانی، البرہان فی تفسیرالقرآن، ج٢، ص٤٦٩۔
١١۔امالی طوسی، ص٦٧١۔
١٢۔امالی مفید، ص١٤٢۔
١٣۔احزاب٦۔
١٤۔البرہان، ج٢، ص٣٧٨؛ مجمع البحرین، ج٤، ص٥٥٥۔
١٥۔کفایة الابرار، ص١٨۔
١٦۔امالی صدوق، ص٦٢٤؛ تحف العقول، ص٤٣٤۔
١٧۔بقرہ٢٥٧۔
١٨۔بحارالانوار، ج٧٨، ص١٨٣۔
١٩۔المیزان،ج٤، ص٦٧٥۔
٢٠۔المیزان، ج١، ص٤١١۔
٢١۔امامت ورہبری، ص٥١ تا ٥٥۔
٢٢۔بحارالانور،ج ٥٢، ص١٦١؛ حمدامین۔
٢٣۔شیخ محمدسند، امامت الہیہ، ج٢، ص١٠٦۔
۲٤۔کلینی، اصول کافی، ج١، ص٢٨٣۔
٢٥۔نسائی، سنن الکبریٰ، ج٥، ص٤٥؛ مسنداحمد، ج٥، ص٢٥١؛ تاریخ بغدای، ج٤، ص٣٣٩۔
٢٦۔ مسنداحمد، ج٥، ص٣٥٦؛ المستدرک علی الصحیحین، ج٣، ص١٣٤؛ مجمع الزوائد، ج٩ ص١٢٨؛ فرائدالسمطین، ج١، ص٢٩٨۔
٢٧۔مستدرک علی الصحیحین، ج٣، ص١٣٤؛ مسنداحمد، ج١، ص٣٣١۔
٢٨۔مستدرک علی الصحیحین، ج٣، ص١٣٩۔
٢٩۔کنزالعمال، ج١١، ص٦١۔
٣٠۔الاستیعاب ، ص٤٧٨؛ حلیة الاولیا، ج١، ص٦٣۔
٣١۔بحارالانوار، ج٢٧، ص٤٦۔
٣٢۔کلینی ، اصول کافی، ج١، ص٣٦٨۔
٣٣۔الاحتجاج، طبرسی، ج١، ص١٨٢۔
٣٤۔بحارالانوار، ج٢٧، ص١٩٩۔
٣٥۔امالی طوسی، ص٣١٨۔
٣٦۔الغدیر، ج١، ص٣٨٧۔
٣٧۔بحارالانوار، ج٣٧، ص٢٢٢ ۔
٣٨۔طبری، دلائل الامامہ، ص٢١۔

مقالات کی طرف جائیے