مقالات

 

ابو طالب علیہ السلام ،مظلوم تاریخ

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

ابو طالب ؑکافر تھے ؟ اس لئے کہ وہ کل ایمان کے باپ تھے ۔
ابو طالب ؑپر عذاب ہورہاہے ؟ اس لئے کہ انہوں نے رحمۃ للعالمین کو اپنی آغوش میں پالا ہے ۔
ابو طالب ؑ پر ٹخنوں ٹخنوں جہنم کی آگ دہک رہی ہے ، تلوؤ ں کی آگ سے ان کا دماغ پھنک رہاہے اس لئے کہ ان کی وقیع شخصیت اور برودت آمیز زندگی سے قلب رسالت کو ٹھنڈک پہونچتی تھی ۔
ابوطالب ؑ کو قرآن میں مختلف انداز سے ڈانٹ پلائی گئی ہے اس لئے کہ ان کے آتشیں رجز سے دشمنان رسالت کے کلیجے دہلتے تھے ، ان کے اشعار کی گھن گرج سے کفار قریش کے پتے پانی ہوتے تھے ۔
مظلوم ابوطالب کا صرف ایک گناہ تھا ، اور وہ گناہ تمام گناہوں سے بھیانک تر تھا کہ انہوں نے خاتم الانبیاء کی پرورش کی اور آخر تک حمایت کرکے جاہلی نظام کو خاک چٹائی ، اسلام کو اس قدر توانا کردیا کہ ان کے بعد کسی کو موثر طریقے پر نقصان پہونچانے کی طاقت نہیں رہ گئی ، اپنے فرزند کو بستر رسول پر سلانے کی ایسی عادت ڈالی کہ فرزند کا نفس خدا نے خرید لیا اور قیمت میں اپنی مرضی عطا کردی ۔
شعب ابو طالب کے لرزہ خیر مصائب ایمان ابو طالب کی واضح دلیل اور اسلام کے لئے عظیم ترین فداکاری کے ابد آثار ثبوت ہیں ، کفار قریش نے مسلمانوں کو ایسے اقتصادی و معاشرتی محاصرے میں لے لیا تھا کہ اگر حضرت ابو طالب ؑ کی حمایت شامل حال نہ ہوتی تو اسلام قطعی ختم ہوجاتا۔ حضرت ابو طالب ؑ نے تین سال تک مکہ کے ایک پہاڑ پر سکونت اختیار کر لی جسے شعب ابوطالب کہاجاتا ہے ، آپ کا معمول تھا کہ ہر شب رسول خداؐ کو ان کے بستر سے اٹھا کر اپنے فرزندوں کو ان کے بستر پر سلا دیتے تھے تاکہ اگر کفار قریش اچانک حملہ کردیں تو میرا کوئی فرزند قتل ہوجائے اور رسول خداؐ بچ جائیں ۔
تفسیر نمونہ میں اس موقع کا ایک بڑا حساس واقعہ لکھا گیا ہے ، جس وقت حضرت علی ؑ فرماتے تھے : اے بابا جان ! اس طرح تو میں ہی قتل ہوجاؤ ں گا۔ جواب میں ابو طالب ؑ فرماتے : فرزند ! بردباری اور اطاعت شعاری کا رویہ اپناؤ جو بھی زندہ ہے اسے مرنا ہے ، میں تمہیں فرزند عبداللہ کا فدیہ بنا رہاہوں ۔ اس سلسلے میں لائق توجہ نکتہ یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے ابوطالب کی خدمت میں عرض کی : بابا جان !میں اس لئے نہیں کہہ رہاہوں کہ محمد ؐ کی راہ میں قتل ہونے سے حراساں ہوں بلکہ میں نے یہ بات اس لئے کہی ہے کہ میں آپ کو بتانا چاہتاہوں کہ اس معاملے میں آپ کا کس قدر اطاعت شعار فرزند ہوں اور یہ کہ میں رسول خداؐ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ کی مدد و حمایت میں حد درجہ آپ کا مطیع ہوں ۔(۱)
"میں تمہیں فرزند عبداللہ کا فدیہ بنارہاہوں "یہ فقرہ جس قدر نازش آفریں ہے اسی قدر فکر انگیز بھی ؛ قرآن میں ایمان کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ جان و مال ، خاندان اور جائیداد نیز کنبے قبیلے سے زیادہ رسول سے محبت کرنی چاہئے ۔
سورۂ توبہ کی ۲۴ویں آیت میں ارشاد قدرت ہے :
" اے رسول !آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ ، تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں ، تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے مال جو تم نے کھائے ہیں اور وہ کاروبار جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تمہارے سامنے اپنا فیصلہ لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا "۔
یہ آیت حضرت ابوطالب ؑ کی عظیم ترین قربانیوں کا عظیم ترین قصیدہ ہے ، حضرت ابوطالب ؑ نے خدا و رسول کی والہانہ محبت میں اپنے باپ کی وصیت کو آخری سانسوں تک اچھی طرح نبھایا ، اپنے بچوں کو فدا کیا ، اپنے دوستوں کو چھوڑا ، اپنی زوجہ کو مصائب میں برابر کا شریک بنایا ، اپنے خاندان والوں کو چھوڑ ا، اپنی دولت اور عیش و آرام سے چشم پوشی کی ، سماجی ، سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کی ، گھر بار چھوڑ کر ایک پہاڑ کے غار میں پناہ لی تاکہ رسول کو پناہ مل سکے اور خدا کا دین محفوظ رہے ، ایسے محسن اسلام پر کفر کا الزام لگانا دین اسلام اور قرآن کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے ؟
حضرت امام چہارم علی ابن الحسین علیہ السلام نے ان لوگوں کی پست ذہنیت پر انتہائی حیرت اور تعجب کا اظہار فرمایاہے جو حضرت ابوطالب ؑ کے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ آپ کافر تھے ۔
اعجبا کل العجب ا یطعنون علی بن ابی طالب او علی رسول اللہ و قد نھاہ اللہ ان تقر مومنۃ مع کافر غیر آیۃ من القرآن و لا یشک احد ان فاطمۃ بنت اسد رضی اللہ تعالی عنھا من المومنات السابقات فانھا لم تزل تحت ابی طالب حتی مات ابو طالب رضی اللہ عنہ" واقعی مجھے بڑا تعجب ہے ، لوگ ابو طالب ؑ کو کافر کیوں سمجھتے ہیں ، ارے وہ علی بن ابی طالب پر طعنہ زنی کررہے ہیں ، یا رسول خدا ؐ پر ؟ کیا بہت سی آیتوں میں اس بات سے منع نہیں کیاگیا ہے کہ کوئی مومنہ ایمان لانے کے بعد کافر کی زوجیت میں نہ رہے ۔ یہ بات مسلم ہے کہ فاطمہ بنت اسد جو ان مومن عورتوں میں تھیں جو ابتدائے بعثت میں اسلام لائیں بلکہ سب سے پہلے اسلام لائیں ، اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک ابوطالب ؑ کے حبالۂ عقد میں رہیں "۔(۲)
امام چہارم کا یہ ارشاد ایمان ابوطالب کا ناقابل تردید ثبوت ہے ، گھر کے بارے میں گھر والوں کا بیان اثباتی اور فطری ہوتاہے ، امام نے اپنے ارشاد میں اثباتی کے بجائے استدلالی طریقۂ کار اپنایا ہے۔ اور یہ دلیل ایسی ہے کہ اس کا انکار وہی کرسکتاہے جس کی رگوں میں شام کے بیت المال کا خون دوڑ رہاہو ، شجرۂ ملعونہ نے پروپگنڈوں کے ذریعہ ایمان ابوطالب ؑکے بارے میں عام مسلمانوں کا ذہن اس قدر تشکیک سے آغشتہ کردیاہے کہ گھر والوں کا بھی استدلالی طرز بیان اختیار کرنا پڑا ۔
خود رسول اکرم ؐ کا نوحہ و ماتم ایمان ابو طالب کی واضح دلیل ہے ،آپ تشییع جنازہ میں یوں سر و سینہ پیٹ کر نوحہ پڑھ رہے تھے:
وا ابتاہ وا ابا طالباہ !واحزناہ علیک کیف اسلوا علیک یا من دبیتنی صغیرا واحبتبنی کبیرا و کنت عند ک بحیرلۃ لعین من الحدقۃ والروح من الجسد ۔(۳)
"ہائے میرے بابا ، ہائے ابوطالب ! ہائے ذرا دیکھئے تو میں آپ کے انتقال پر کس قدر غمگین اور رنجیدہ ہوں ، میں آپ کی مصیبت کو کیسے برداشت کر سکتاہوں ، کیسے فراموش کرسکتاہوں ، اے وہ ذات کہ جس نے بچپن میں میری پرورش کی اور جب میں بڑا ہوا تو میری دعوت اسلام پر لبیک کہی ، میں آپ کے نزدیک اس طرح تھا جیسے حدقے میں آنکھ ہوتی ہے یا روح بدن میں "۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے اس مظاہرۂ غم سے جہاں حضرت ابو طالب ؑ اور رسول اکرم ؐ کی شدید ترین وابستگی کا اندازہ ہوتاہے ، انتہائی حزن و اندوہ کی نشاندہی ہوتی ہے کہ کسی محسن اسلام کی موت پر ایسا نوحہ و ماتم جس سے دین کو تقویت ملے ، اس کی سیرت و کردار کے نقوش کو اجاگر کرنا سیرت رسول ہے ، جن سے کردار کے فدا کارانہ جذبات اجاگر ہوں ، یہ عمل اس کے عملی احسان کا شکریہ بھی ہے اور دوسروں کے لئے نمونۂ عمل اور باعث تشویق بھی ۔
حضرت ابو طالبؑ کے جہاد فی سبیل اللہ کی گواہی خود رسول اکرم نے ان الفاظ میں دی ہے : ما نالت القریش شیئا اکرھہ حتی مات ابوطالب " قریش مجھے ذرا بھی نقصان ہرگز نہ پہونچا سکے جب تک ابو طالب زندہ تھے "۔
آپ کے اس فقرے کو تشییع جنازہ کے فقروں کے تناظر میں سمجھا جاسکتاہے جس میں آپ نے فرمایا ہے : و کنت عندک بمنزلۃ العین من الحدقۃ والروح من الجسد " آپ میرے تحفظ میں وہی طریقۂ کار اپنائے ہوئے تھے جیسے انسان کے حدقۂ چشم میں آنکھوں کی حیثیت ہوتی ہے ، آنکھوں کی حفاظت کا سب سے قریب اور حساس حصہ حدقہ ہی ہوتاہے ، مزید یہ کہ میری حیثیت وہی تھی جو انسان کے جسم میں روح کی ہوتی ہے "۔
رسول اللہ نے اظہار بیان کے لئے جو تشبیہیں اپنائی ہیں وہ اپنائیت ، وابستگی ، والہانہ تحفظ اور جذبۂ فداکاری کے لئے آخری اور انتہائی مثالیں کہیں جاسکتی ہیں ، خدا نے اس وقیع عمل کا اجر ابو طالب ؑ کو یوں کرامت فرمایا کہ جس طرح حضرت ابراہیم کی آل کا اصطفیٰ فرمایا اسی طرح آپ کی آل کا بھی اصطفیٰ فرمایا، ارشاد قدرت ہے :
ان اللہ اصطفیٰ آدم و نوحا و آل ابراہیم ا ٓل عمران علی العالمین " بلا شبہ خداوندعالم نے اصطفیٰ فرمایا آدم کو ، نوح کو ،آل ابراہیم اور آل عمران کو تمام عالموں پر "(۴)
آل عمران میں حضرت موسیٰ و ہارون کو شامل کرنا یا جناب عیسی کو جو مریم بنت عمران کے فرزند ہیں ، تفسیری عدم بصیرت کا ثبوت ہے ، واضح بات ہے کہ آل ابراہیم میں سبھی انبیاء آجاتے ہیں ، بلکہ حضرت خاتم الانبیاء بھی آجاتے ہیں ۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس آیت میں معیار اصطفیٰ دو ہے کیونکہ دو خاندانوں کا اصطفیٰ ہوا ہے : ایک معیار اصطفیٰ میں نبوت آجاتی ہے جو آل ابراہیم کی وسیع احاطہ بندی کرتی ہے ، دوسرے خاندان کا معیار ِاصطفیٰ ،امامت سے متعلق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تمام ائمہ معصومین حضرت عمران ( ابوطالب ) کی ذریت ہیں ۔
چنانچہ تفسیر عیاشی میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے اس آیت کی تلاوت فرما کر اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا : نحن منھم و نحن بقیۃ تلک العترۃ " ہم انہیں میں سے ہیں اور ہم ہی اس پاکیزہ نسل کے بقیہ ہیں "۔
حضرت امام رضا علیہ السلام نے مامون رشید کے دربار میں عترت نبوی کی فضیلت میں اسی آیت کی تلاوت فرمائی ۔
تفسیر عیاشی اور تفسیر نیشاپوری میں ابو وائل کا بیان مذکور ہے کہ اس آیت کے سلسلے میں عبداللہ بن مسعود کی قرائت یوں تھی :وآل عمران و آل محمد علی العالمین ۔
واضح بات ہے کہ قرآن میں نہ تحریف ہوئی ہے ، نہ زیادتی ہوئی ، نہ کمی ۔ عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں جو لفظ آل محمد ہے، اس کی حیثیت یہ ہے کہ جب بھی قرآن کی آیت نازل ہوتی تو رسول خدا اپنے اصحاب کو اس کی تفسیر و تاویل بتا دیتے تھے۔اصحاب اپنی یاداشت کے ضعف کی وجہ سے تنزیلی عبارت کے درمیان اسے لکھ دیتے تھے جس کی حیثیت بین القوسین کی ہوتی تھی ، وہ فقرہ تشریحی ہوتا تھا ، یہاں آل عمران کا مطلب ہے آل محمد یا حضرت ابو طالب کی ذریت ۔
خداوندعالم نے نبوت کے بعد ان ذوات مقدسہ کا اصطفیٰ فرمایا ہے جو ابوطالب کی ذریت میں عہدۂ امامت و عصمت سے سرفراز ہیں ۔

حوالے :
۱۔تفسیر نمونہ ج۵ ص ۱۹۸بحوالہ الغدیر
۲۔ تفسیر نمونہ ۵ ص ۱۹۲ بحوالہ کتاب الحجۃ درجات الرفیہ بنقل از الغدیر جلد /۸)
۳۔شیخ الاباطح ، ابو طالب مومن قریش
۴۔ آل عمران /۳۳

مقالات کی طرف جائیے