مقالات

 

دنیا کی بے ثباتی

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

دنیا جس کا زوال ایک اٹل حقیقت ہے جس کی فنا یقینی ہے ، جو کوچ کی جگہ اور بدمزگی کا مقام ہے ، اس میں قیام پذیر ہر ذی روح چل چلاؤ پر مجبور ہے ، یہ اپنے رہنے والوں سمیت اس طرح ڈانواڈول ہے جیسے سمندروں میں کشتی ، جسے تند ہوائیں ہچکولے دیتی ہیں ، کچھ تو ان میں سے ہلاک و غرق ہوجاتے ہیں اور جو بچ جاتے ہیں وہ موجوں کی سطح پر تھپیڑے کھاتے رہتے ہیں ، ہوائیں اپنے وسیع دامن سے انہیں ڈھکیلتی ہیں اور ہولناکیوں کی طرف کھینچے لے جاتی ہیں جو غرق ہوچکا ہوتاہے وہ ہاتھ نہیں آتا اور جو بچ جاتاہے وہ مہلکوں میں پڑا رہتاہے ۔
دنیاجسے قرآن مجید نے متاع غرور کے لقب سے پکارا ، جس کی دیانت و پستی اس کے نام ہی سے واضح و آشکار ہے لیکن پھر بھی لوگ اس کے گرویدہ ہیں ، یہ جس قدر بے وفا ہے لوگ اسی قدر اس کے حق میں وفادار ہیں ، یہ جتنا کنارہ کشی اختیار کرتی ہے لوگ اتناہی اس کے قریب تر ہوتے جارہے ہیں ، آخر کیوں ...؟ ایک لمحۂ فکریہ ہے ۔
قرآن مجید نے جن الفاظ میں دنیا کی تعریف کی ہے اس سے حیات انسانی کی منظر کشی ہوجاتی ہے ، خداوندعالم فرماتاہے :(َانَّمَا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا لَعِب وَلَہْو وَزِینَة وَتَفَاخُر بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُر فِی الْامْوَالِ وَالْاَوْلَاد)''یاد رکھو زندگانی دنیا لہو و لعب ، زینت ، باہمی تفاخر اور مال و اولاد کی فکر کثرت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ''۔(حدید ٢٠)
اس آیۂ مبارکہ کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے شیخ بہائی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں زندگی کے ارتقاء اور تغیرو تحول کی بڑی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے اس لئے کہ انسان جب بچہ ہوتاہے تو اس کی تمام تر دلچسپی کا محور و مرکز کھیل کود قرار پاتاہے ، جب حد بلوغ تک پہونچتا ہے تو دل لبھانے اور غافل کردینے والی اشیاء سے دل لگاتاہے اور جب شباب کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تو اس کی پوری توجہ زینت و آرائش سے متعلق ہوتی ہے اور جب اپنے قدم آگے بڑھاتاہے تو اپنے قدیم کارناموں پر فخر و مباہات کرتاہے اور جب منزل ضعیفی میں قدم رکھتاہے تو صرف اموال و اولاد کی کثرت کا خواہاں رہتاہے ۔
گویا ہر عمر کا انسان اس دنیا سے وہی کام لیتاہے جو اس کی عمر سے میل کھاتا ہے اور یہ اس قدر مکار ہے کہ ہر ایک کے سامنے خود کو کار آمد اور سکون بخش بنا کر پیش کرتی ہے ، بچہ اسے کھلونا سمجھ کر کھیلتاہے ، بالغ سر مستیوں کا سرچشمہ سمجھتاہے اور سرور و مستی کی کیفیت میں پڑا رہتاہے ، جوان شخص اس کی زینت و آرائش میں کھویا رہتاہے اور ادھیڑ عمری میں یہ وسیلۂ تفاخر بن جاتی ہے اور منزل ضعیفی میں صرف اور صرف مال و اولاد کی کثرت ہی رہ جاتی ہے اور بس۔
یہ دنیا جو دار فانی ہے اس سے حضرت علی علیہ السلام حد درجہ بیزار تھے ، انہوں نے بارہا دنیا کو مخاطب کرکے فرمایا :غری غیری ''جا میرے علاوہ کسی اور کو دھوکادے میں نے تجھے طلاق بائن دے دیا ہے جس کے بعد رجوع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ''۔
مولا نے جو دنیا کی تعریف کی ہے وہ قرآن مجید کے مفاہیم سے حد درجہ مماثلت رکھی ہے ، مولا نے فرمایا : '' دنیا ایک ڈھلتا ہوا سایہ ہے ، سایہ میں انسان کو سکون ضرور ملتاہے لیکن سایہ کو کبھی دوام نہیں ہوتا اور تھوڑی دیر میں اپنی بساط سمیٹ لیتاہے اورمسافر پھر کسی دوسرے سکون کی تلاش میں حیران و سرگرداں ہوجاتاہے ''۔
امیر المومنین نے دنیا کو ڈھلتے ہوئے سایہ سے تشبیہ دے کر دو باتوں کی وضاحت فرمائی ہے :
اول: ایک سکون بخش درخت کا سایہ تھکے ہوئے مسافر کے لئے ؛
ایک مسافر ہے جو کافی تھکا ہوا ہے ، خستہ حال ہے ، تا حد نگاہ صحرا ہی صحرا ہے ، اسے اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لئے ایک سایہ دار درخت کی شدید ضرورت ہے ، ایسے میں اگر اسے ایک درخت نظر آجائے تو اس کی خوشی دیدنی ہوگی ، خوشی سے اس کی آنکھوں میں چمک آجائے گی ، پھر تو وہ ہر چیز سے بے نیاز اپنی تھکاوٹ کو دور کرنے کے لئے سایہ دار درخت کو استعمال میں لائے گا لیکن کچھ ہی وقفوں بعد وہ سایہ ڈھل جائے ، چلچلاتی ہوئی دھوپ ہوتو وہ چمک معدوم پڑ جائے گی جو تھوڑی دیر قبل آنکھوں میں تھی ، ایسی پریشان کن صورت میں اسے ایک دوسرے سکون کی تلاش ہوگی جس کے لئے وہ حیران و سرگرداں رہے گا ۔
اسی ڈھلتے ہوئے سایہ سے مولا نے دنیا کی تشبیہ فرمائی ہے جو کچھ دیر کے لئے باعث سکون و اطمینان رہتاہے ، اس کے بعد پھر وہی پریشانی و حیرانی رہ جاتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ دنیا خود کو تھوڑی دیر کے لئے اس انسان کے سپرد کرتی ہے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا لیکن جب یہ منھ موڑ لیتی ہے تو اس کی خوشی معدوم پڑ جاتی ہے پھر تو وہ ہاتھ ہی ملتا رہ جاتاہے ، بالکل اسی طرح جیسے ایک خوش رنگ اور خوبصورت پرندہ ہاتھ سے چھوٹ کر رفو چکر ہوگیاہو۔
دوم : انسانی وجود کا سایہ ؛
سایہ سے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جب تک انسان اسے تلاش کرتاہے اسے اپنی گرفت میں لینا چاہتاہے وہ آگے ہی بڑھتا چلا جاتاہے ، اس کے ہاتھ نہیں آتا لیکن اس کے بعد جب انسان اس سے رخ پھیر کر دوسری طرف چلنے لگتاہے تو وہ سایہ خود بخود اس کے پیچھے پیچھے چلا آتاہے ۔
دنیا کا حال ہمیشہ یہی رہاہے جس نے اس کی خاطر دوڑ دھوپ کی ، سرگرداں رہا اس نے اسے برباد کردیا ، کسی کو غرق آب کیا ، کسی کوزمین میں دھنسایا ، کسی کو نظر آتش کردیا اور جس نے اس دنیا سے منھ موڑ لیا اسے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں ، مثالیں آپ حضرات کے مد نظر ہیں ۔ ظاہر ہے جس دنیا کی دیانت اس کے نام ہی سے واضح ہو اس کے حقائق بھی انتہائی تلخ اور پست ترین ہوں گے ۔
ابن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت علی علیہ السلام نے جابر بن عبداللہ انصاری کو لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے دیکھا تو سوال کیا : اے جابر !کیا یہ آہ سرد دنیا کے لئے ہے ؟ جابر نے عرض کی : ہاں مولا !ایسا ہی ہے ۔ یہ سن کر مولانے فرمایا : اے جابر !اگر تم حقائق دنیا سے آگاہ ہوجائو تو کبھی اس طرح لمبی لمبی سانسیں نہ لو ۔ جابر نے اشتیاقی لب و لہجہ میں پوچھا : مولا !مجھے حقائق دنیا سے آگاہ فرمائیے ۔
امیر المومنین نے فرمایا : جابر سنو ، انسانی زندگی کا دار ومدار سات چیزوں پر ہے اور یہی سات چیزیں وہ ہیں جن پر لذتوں کا خاتمہ ہے ، وہ سات چیزیں یہ ہیں : ماکولات ، مشروبات ، ملبوسات ، منکوحات ، مرکوبات ، مسموئات اور مسموعات ۔اے جابر !اب ان کی حقیقتوں پر غور و فکر کرو:
ماکولات : کھانے میں سب سے اچھی چیزشہد ہے جو ایک حقیر مکھی کا لعاب ہے ۔
مشروبات : پینے میں سب سے بہتر شئی پانی ہے جو سطح زمین پر مارا مارا پھرتاہے ۔
ملبوسات : پہننے کی چیزوں میں سب سے اچھی چیز دیباج (ریشم )ہے ، جو ایک کیڑے کا لعاب ہے ۔
منکوحات : بہترین منکوح عورت ہے ، انسان اس عورت کی اس چیز کو سب سے اچھی نگاہ سے دیکھتاہے جو اس میں سب سے گندی ہے ۔
مرکوبات : بہترین سواری گھوڑا ہے جسے جنگ و قتال اورقتل و خونریزی کا محور و مرکز قرار دیاگیاہے ۔
مسموئات : سونگھنے والی چیزوں میں سب سے اچھی شئی مشک ہے جو ایک جانور کے ناف کا سوکھا ہواخون ہے ۔
مسموعات : سننے والی چیزوں میں بہترین شئی غنا ہے جسے شریعت اسلام نے حرام قراردیاہے ۔
ان تلخ حقائق سے آگاہ کرنے کے بعد پھر فرمایا: اے جابر !ایسی چیزوں کے بارے میں عاقل لمبی لمبی سانسیں کیوں لے جن کی حقیقتیں انتہائی پست ترین ہیں ۔ جابر کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں نے پھر کبھی دنیا یا امور دنیا کے لئے ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں نہیں لی ۔
امیر المومنین نے حقائق امور دنیا سے آگاہ فرمایا ، ظاہر ہے اس کے بعد پھر کسی توضیح و تشریح کی ضرورت نہیں ہے لیکن پھر بھی جو لوگ دنیا کی ظاہری رنگینیوں میں کھو کر اصل حقیقت کو فراموش کر بیٹھتے ہیں ان کے ذہنوں کو جھنجھوڑتے ہوئے دنیا کی ایک مثال دی جس سے دنیا کی بے ثباتی اور کم مائیگی واضح ہوتی ہے ۔
امیر المومنین فرماتے ہیں : مثل الدنیا کمثل اللحیة لین مسھا والسم النافع فی جوفھا ....''دنیا کی مثال ایک سانپ کے جیسی ہے جو چھونے میں نرم معلوم ہوتاہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہواہے ، فریب خوردہ جاہل اسی طرف کھینچتاہے اور ہوش مند و دانا اس سے بچ کر رہتاہے ''۔(نہج البلاغہ حکم ١١٩)
وضاحت :یہ دنیا جس کی ظاہری رنگارنگی ، خوبصورتی اور دلکشی اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی دلکشی سے انسان کی آنکھیں چکاچوند ہیں ، یہ پھولوں کی دلکشی اور اس کی دلفریب خوشبو ، جو انسان کو اپنا وجود بھلائے دیتی ہیں ، ان پرف پوش پہاڑوںکی سفیدی پر جب سورج کی تیز کرنیں پڑتی ہیں تو اس کی خوبصورتی لائق دید ہوتی ہے ، یہ لہلہاتے ہوئے سبزے اور ان سبزوں کی پر بہار وادی ، سمندروں کی موجیں مارتی ہوئی لہریں اور ان لہروں پر چھوٹی بڑی کشتیوں کی تیز و تند روانی اور ایسی ہی ظاہری رنگینیوں میں انسان یوں کھوجاتاہے جیسے اس کی خلقت انہیں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہوئی ہے اور اس چیز سے بالکل بے بہرہ ہوتاہے کہ انہیں رنگینیوں میں زہر ہلاہل مخفی ہے جو اسے اصل مقصد تخلیق سے بہت دور لے جاتا ہے ، اصل مقصد خلقت کیاہے ؟ اس کی وضاحت قرآن مجید نے کھلے الفاظ میں یوں کی؛ ارشاد ہوا : (ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون )۔
میں نے انسان و جنات کو خلق نہیں کیا مگر یہ کہ وہ میری عبادت و پرستش کریں یعنی مقصد حیات انسانی عبادت ہے جس کا براہ راست تعلق آخرت سے ہے ، اب ان رنگینیوں میں کھو کر عبادت ہی کو فراموش کر بیٹھے تو ظاہر ہے اس میں دنیا کے اکثر عیوب پیدا ہوجائیں گے ۔رشوت ، خیانت ، چوری ، سود خوری ، غیبت ، دروغ گوئی ، بہتان تراشی اور ایسے ہی دوسرے اخلاقی عیوب اس میں پیدا ہوجائیں گے اور عقل سلیم ان باطل خواہشوں کی جگمگاہٹ سے اس طرح خیرہ ہوجاتی ہے کہ ان قبیح افعال کے عواقب و نتائج نظر ہی نہیں آتے ۔ البتہ جب اس دنیا سے رخت سفر باندھتا ہے اور دیکھتاہے کہ جو کچھ سمیٹا تھا وہ تو یہیں کے لئے تھا ساتھ تو نہیں لے جاسکتا تب اس کی آنکھیں خوب غفلت سے بیدار ہوتی ہیں لیکن اس وقت تک بہت تاخیر ہوچکی ہوتی ہے ، سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ نہیں رہتا۔
دنیا طلبید و بہ مقصد نہ رسید
یارب چہ شد آخرت نہ طلبید
کسی نے ٹھیک ہی کہاہے کہ دنیا طلب کیا لیکن اصل مقصد تک رسائی نہیں ہوئی ۔ اس مقصد کی تشریح کرتے ہوئے دوسرے مصرعہ میں کہا: اے پروردگار !اس انسان کو کیاہواکہ اس نے آخرت حاصل نہ کی۔
چونکہ دنیا میں لانے کا اصل مقصد عبادت ہے اور عبادت کا تعلق آخرت سے ہے لہذا دنیا میں بھیجنے کا اصل مقصد آخرت سنوارنا ہے جسے دوام اور ہمیشگی حاصل ہے ، یہی وجہ ہے کہ صرف آخرت کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے معصوم نے بندگان خدا بلکہ تمام عالم انسانیت کی ہدایت کے لئے فرمایا:'' تمہارے پاس محدود (کم ) توشہ ہے اور سفر طویل ہے ''۔
ظاہر ہے طویل سفر جس میں عالم برزخ کی ہولناکیاں ، میدان محشر کی افراتفری اور پل صراط کی باریکیاں ہیں تو تم سفر کیسے کروگے جب کہ تمہارے پاس بہت کم توشہ اور زاد سفر ہے ۔
آخرت کو ہمیشگی حاصل ہے اور تم دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہو جب کہ دنیا دھوکے باز اور نقصان دہ ہے ،اس کی اصل یہ ہے کہ اسے اپنے دوستوں کے لئے بطور ثواب پسند نہیں کیا اور نہ دشمنوں کے لئے بطور سزا پسند کیاہے ۔(نہج البلاغہ حکم ٤١٥)
ظاہر ہے جب دنیا نقصان دہ اور ضرر رساں ہے تو اس کی ضرررسانی اور دھوکے بازی کو جانتے ہوئے اس کے لئے دوڑ دھوپ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟ ہمیں چاہئے کہ ہم اس دنیا کو اس نگاہ سے دیکھیں جس سے قرآن اور ہمارے معصومین نے دیکھا ہے اس لئے کہ ہم تو ان کی چاہت و محبت کا دم بھرتے ہیں اور محبت و چاہت کا دم بھرتے ہوئے ان کے اقوال کی پیروی نہ کرنا محبت و انسانیت کے خون کرنے کے مترادف ہے ، ہم دنیا کے گرویدہ نہ ہوں بلکہ دنیا کو اپنا گرویدہ بنائیں جس کا نسخہ امام نے بیان فرمایا :''جو دنیا کا طلبگار ہوتاہے موت اسے تلاش کرتی ہے اور جو آخرت کا خواستگار ہوتاہے دنیا اسے تلاش کرتی ہے ''۔

مقالات کی طرف جائیے