مقالات

 

صداقت ؛ اہم ترین اخلاقی صفت

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

صداقت اس زمانے کی اہم ترین ضرورت ہے ،اسلامی آئین اور انسانی نقطۂ نگاہ سے یہ جتنی اچھی صفت ہے اور جس کے لئے بے پناہ تاکید کی گئی ہے،عہد حاضر میں وہی صفت مفقود یاانتہائی کم ہے،لوگ اپنے مادی مفادات میں صداقت کوسب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہوئے جھوٹ کے بڑے بڑے پل باندھتے ہیںحالانکہ'' سچ'' ترقی کی راہوں میں رکاوٹ نہیں ہے بلکہ انسان کو ترقی سے ہمکنار کرنے کا پہلا زینہ ہے۔حضرت علیؑ کا ارشادہے :الصدق نور متشعشع فی عالمہ کالشمس یستضیٔ بھا کل شئی بمعناہ من غیر نقصان "سچ کائنات میں چمکتا ہوا نور ہے اس آفتاب کی طرح جس سے ہر شئی روشنی حاصل کرتی ہے اس اعتبار سے کہ وہ کسی کونقصان نہیں پہونچاتا" ۔(١)
رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے سچ کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے فرمایا:الزموا الصدق فانہ منجاة ''تم پر سچ بولنا ضروری ہے اس لئے کہ اسی میں کامیابی و کامرانی ہے''۔(٢)
صداقت کے متعلق قابل قدربات یہ ہے کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے عرب بدوؤں کو ضلالت وگمراہی کی تنگ وتاریک دنیا سے نکالنے کیلئے جس چیز کو وسیلہ قرار دیا وہ ''صداقت''ہے،آپ نے پہلے صداقت کی اہمیت ذہنوںمیں راسخ کرنے کے لئے اپنی صداقت کااقرار کروایا تاکہ وہ معاشرتی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سے آشناہوں اور اپنے اس اقدام سے ہر دور کے انسانوں کو باور کرایا کہ سچ ترقی کی راہوں میںرکاوٹ نہیں بلکہ ترقیوںکی طرف آگے بڑھنے کا پہلا زینہ اور اہم ترین وسیلہ ہے۔

قرآن و حدیث میں سچ کی اہمیت
سچ کی اہمیت کے پیش نظرخدا وندعالم نے صادقین کی ہمراہی اختیار کرنے کی تاکید کی ہے ،خدا کا ارشادہے :(یا ایھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین)ایمان والو!اللہ سے ڈرو اورصادقین کے ساتھ ہو جاؤ۔(٣)
ایک دوسری آیت میں خداوندعالم نے اپنے صادق بندوںکو یہ بشارت دی ہے:( قال اللہ ھذاالیوم ینفع الصادقین صدقھم لھم جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابداً رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ ذالک الفوز العظیم) اللہ نے فرمایا کہ یہ قیامت کا دن ہے جب صادقین کو ان کاسچ فائدہ پہونچائے گا کہ ان کے لئے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوںگی اور ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ،خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے ۔اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے ۔(٤)
خدا کی رضایت کا حصول زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے، ایک مسلمان اپنے افعال کو اسلامی آئین کے مطابق اس لئے انجام دیتاہے تاکہ وہ خداوندعالم کی خوشنودی اور رضایت حاصل کرسکے لیکن یہ بات اپنے دامن عقل و شعور میں محفوظ کر لینی چاہیئے کہ ان تمام افعال و ارکان کو انجام دینے کے بعد خداکی رضایت اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ سچ کو اپنا نصب العین نہ بنالے ۔
رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی رضایت و خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ یہی سچ ہے ،آ پ فرماتے ہیں:اقربکم منی غداًفی الموقف اصدقکم للحدیث''تم میں سے روزمحشر مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو تمہارے درمیان سب سے سچا ہوگا'' ۔(٥)
ایک دوسری حدیث میں حضرت علیؑ فرماتے ہیں:علیک بالصدق فمن صدق فی اقوالہ جل قدرہ "تم پر سچ بولنا ضروری ہے اس لئے کہ جو اپنی گفتار میں سچا ہوگا اس کا مقام و مرتبہ بلند ہوگا "۔( ٦)
اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات و روایات موجود ہیں جن میں سچ بولنے اور سچ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنانے کی تاکید کی گئی۔

آج کے معاشرے پر جھوٹ کا منحوس سایہ
سچ جتنی ممدوح اور قابل قدر صفت ہے اور جس کی بے پناہ تعریف و تمجید کی گئی ہے ،جھوٹ اتنی ناپسندیدہ اور مذموم صفت ہے اور جس کی مذمت میں بہت سی آیات و روایات موجود ہیں،یہ جھوٹ بولنے والے کی عظمت و رفعت کو اسی طرح ختم کر دیتی ہے جیسے موسم بہار میں درخت کے پتے ۔جھوٹ انسان کی ناپاکی اور روح خیانت کو تقویت دیتاہے اور ایمان کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کو خاموش کردیتا ہے ،جھوٹ رشتۂ الفت و اتحاد کو توڑ دیتاہے اور عداوت و نفاق کے بیج معاشرے میں بو دیتاہے ،اگر کسی معاشرہ میںجھوٹ جیسی بری صفت رواج پاجائے تو وہ معاشرہ کھوکھلا ہوکر رہ جاتاہے اور ایسے معاشرہ میں زندگی بسر کرنا وبال جان سے کم نہیں۔
آج کا معاشرہ ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہے ،لوگوں نے اتنے دھڑلے سے جھوٹ بولنا ،جھوٹا وعدہ کرنا اور دوسروں کے متعلق جھوٹی باتیں منسوب کرنا شروع کردیاہے کہ جیسے جھوٹ ایک مذموم فعل نہیں بلکہ بلند ترین اور قابل قدر اخلاقی صفت ہو ،لوگوں نے مادی مفادات کے حصول میں جھوٹ کو ایک اہم وسیلہ قرار دے دیاہے اور آہستہ آہستہ معنویات اور اخلاقی قدروں سے دور ہوتے جارہے ہیں چونکہ جھوٹ بولنے میں کوئی زحمت نہیں ہوتی لہذا اسی راستہ سے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے بڑی آسانی سے جھوٹ بول دیتے ہیں۔
اس بری صفت کے عام ہونے کی دوسری علت ایک مشہور مقولہ ہے جس نے پورے معاشرے کو زہر آلود کر دیاہے چنانچہ ایک مشہور مقولہ ہے کہ'' دروغ مصلحت آمیز بہ از راستی فتنہ انگیز '' ۔یہی وہ خوشنما پردہ ہے جس نے اس برائی کی خباثت کو چھپا رکھا ہے اور عموما لوگ اپنے سفید جھوٹ کے لئے اسی مقولہ کا سہارا لیتے ہیں۔
یقینا یہ مقولہ سونے کے حروف سے لکھنے کے لائق ہے لیکن اس سے غلط استفادہ کرناخود اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے،شریعت مقدسہ میں چند شرائط کے ساتھ مصلحت آمیز جھوٹ کی صورت رکھی گئی ہے چنانچہ کسی کے جان و مال کے نقصان کا خوف ہو ،یا ایک مسلمان بھائی کی عزت و حرمت پامال ہونے اور اس کے حفظ جان کا ڈر ہوتو ایسی صورت میں جھوٹ کا سہارا لیا جاسکتاہے ۔رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کا ارشاد ہے :اخلف باللہ کاذبا ًو نج اخاک من القتل ...جھوٹی قسم کھائو اور اپنے بھائی کو موت سے نجات دو۔(٧) اسی طرح معاشرہ اور سماج کی اصلاح کے لئے جھوٹ کو وسیلہ بنانے کی تاکید کی گئی ہے۔امام صادق فرماتے ہیں:المصلح لیس بکذّاب''اصلاح کرنے والاجھوٹا نہیں ہوتا ''۔(٨)
لیکن آج کے انسان نے اسلام کے مصلحت آمیز حکم کوشخصی مفادات کا رنگ دینے اور ہر جھوٹ کو مصلحت کا نام دے کر معاشرے میں اتنا رواج دے دیاہے کہ اب اچھے اور برے جھوٹ میں تمیز پیدا کرنا بھی محال ہوگیاہے ۔
آج کا عالم یہ ہے کہ جس چیز میں انسان کاذاتی فائدہ ہوتاہے اس کو وہ فطری طور سے خیر سمجھتاہے اور پھر جب وہ اپنے شخصی منافع کو سچ بولنے کی وجہ سے خطرہ میں دیکھتا ہے یا وہ جھوٹ بولنے میں اپنا فائدہ دیکھتاہے تو جھٹ سے جھوٹ بول دیتاہے اور دور دور تک اس کی برائی کاتصور بھی نہیں کرتا حالانکہ وقتی منفعت کی وجہ سے وہ عواقب کار سے بے خبر رہتاہے جو اسے ندامت و پشیمانی اور مذمت میں مبتلا کردیتی ہے۔
دوسری طرف اس جھوٹ کی وجہ سے انسان لوگوں کے اعتماد کو کھودیتاہے ،حضرت علی نے فرمایا: من عرف بالکذب قلت الثقة بہ ''جو جھوٹا اور جھوٹ بولنے والا مشہور ہوجاتاہے تو لوگوں کا اعتمادبھی اس پر سے کم ہوجاتا ہے'' ۔(٩)
آج کا مفاد پرست انسان شخصی وسائل کی فراہمی میں اتنا مشغول ہو چکا ہے کہ اسے معاشرہ کی بگڑی ہوئی حالت کی بھی خبر نہیں ہے جب کہ وہ اسی معاشرہ میں زندگی کی سانسیں لے رہاہے ۔

رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کا حیات بخش دستور
اس مردہ معاشرہ میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے اس حیات بخش دستور کی بازگشت بہت ضروری ہے جس میں آپ نے معاشرے کو اس مسموم عادت سے پاک کرنے کا آسان نسخہ عنایت فرمایاہے ،ایک شخص سرکار رسالت مآب کے پاس آکر کہنے لگا:میری سعادت و نیک بختی کیلئے مجھے نصیحت فرمائیں،آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:جھوٹ چھوڑ دو اور ہمیشہ سچ بولو ،وہ شخص جواب پاکر چلا گیا ۔اس کے بعد اس کا کہنا ہے کہ میں بہت گنہگار تھالیکن میں ان گناہوں کے چھوڑنے پر مجبورہوگیا کیونکہ گناہ کرنے کے بعد اگر مجھ سے پوچھا جاتااور میں سچ بول دیتا تو سب کے سامنے رسوا ہو جاتا اور لوگوں کی نظروںمیں گر جاتا اور اگر جھوٹ بولتا تو دستور رسول ۖکی مخالفت کرتا اسی لئے میں نے سارے گناہ چھوڑ دئیے۔(١٠)
آپ نے اپنی سیرت میں بتایا کہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے یہ ایک ایسی بری صفت ہے جس کی وجہ سے انسان دوسری برائیوں اور رذائل اخلاقی میں مبتلا ہوجاتاہے
آج معاشرہ میں بھرے ہوئے مختلف زہر ہلاہل کوختم کرنے کے لئے جھوٹ کے برے انجام کودیکھنا ،اس کے بارے میں غوروفکر کرنا اور دین و دنیا میں اس کے برے نتائج کو سوچنا ہر شرافت دوست انسان کے لئے ضروری ہے ،اس معاشرے کو اس وقت ایک سالم معاشرہ نہیں بنایا جاسکتا جب تک ہم رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی دعاکو اپنی زندگی کانصب العین نہ بنالیں،آپ فرماتے ہیں:
''خدایا!میرے دل کونفاق سے ،میرے دامن کو زنا کی آلودگی سے اور میری زبان کو جھوٹ بولنے سے محفوظ رکھ'' ۔(٣ )

حوالجات
١۔مستدر ک الوسائل جج٨ص٤٥٧
٢۔بحار الانوارج ١٠ص٩٣
٣۔توبہ ١١٩
٤۔مائدہ ١١٩
٥۔بحار الانوار ج٧٢ص٩٤
٦۔غرر الحکم ص٢١٩ح٤٣٤٤
٧۔وسائل الشیعہ ج١٦ ص١٣٤
٨۔اصول کافی ج٤ ص٤١
٩۔ غررالحکم ص٢١٩
١٠۔بحار الانوار ج٧٢ص٢٦٢
١١۔محجة البیضا ء ج٥ ص ٢٤١

مقالات کی طرف جائیے