مقالات

 

نوروز کی تاریخی حیثیت

سید غافر حسن رضوی

نوروز
درحقیقت لفظ نوروز فارسی زبان کالفظ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ''نیا دن''۔ نوروز کو نوروز اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ شمسی سال کا پہلا روز ہوتا ہے یعنی شمسی سال اسی روز سے شروع ہوتا ہے اسی سبب اس کو نوروز سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کے فارسی ہونے کا سبب یہ ہے کہ اہل فارس کاکلنڈر شمسی ہوتا ہے اور وہ اپنے امور اسی کلنڈر کے اعتبار سے انجام دیتے ہیں۔ نوروز، اہل فارس کے لئے عظیم عید سے تعبیرکیاجاتا ہے۔ یہ تہوار شاہانِ فارس کے زمانہ سے ایک بہترین رسم کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر تہوار میں رسومات کے ساتھ ساتھ خرافات بھی موجود ہوتی ہیں، اسی طرح اس تہوار میں بھی کچھ خرافات ہیں لیکن سو فیصد خرافات نہیں کہاجاسکتا لہٰذا اہل فارس کے درمیان دوسرے تہواروں کی مانند اس تہوار کو بھی بڑی شان وشوکت کے ساتھ منایا جاتا ہے بلکہ جتنا اہتمام اس تہوار کے لئے ہوتا ہے اتنا اہتمام کسی تہوار کے لئے دیکھنے میں نہیں آتا۔ یوں تو یہ تہوار ہندوستان میں بھی بڑی شان کے ساتھ منایاجاتا ہے لیکن جس شان وشوکت کے ساتھ ایران میں منایا جاتا ہے اس کی نظیر ڈھونڈے نہیں ملتی۔ اگر یہ کہاجائے تو شاید غلط نہ ہو کہ ہر ایرانی اس تہوار کی بابت نہایت ہی حسّاس نظرآتا ہے۔ اسلام کی عظیم عیدیں (عید فطروعیدقرباں )سادگی کے ساتھ گزرسکتی ہیں لیکن اس عید(نوروز) پر نئے نئے کپڑے، گھروں کی صفائی، قالینوں کی دھلائی، خریداری اورگردش غرض ہر قسم کے انتظامات نہایت ہی دلچسپی کے ساتھ انجام دیئے جاتے ہیں۔ گویا یہ عید ہی ایرانیوں کی سب سے بڑی عید ہوتی ہے۔ یہ عید ایرانی اور شمسی کلنڈر کے اعتبار سے ١/فروردین کو منائی جاتی ہے کیونکہ فروردین ،شمسی کلنڈر کا پہلا مہینہ ہے اور اس مہینہ کی پہلی تاریخ سے سالِ نو کا آغاز ہوتا ہے۔ ایرانی تمدن میں شمسی سال کے آغاز کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور اس سال کے پہلے مہینہ کی پہلی تاریخ اس قدر مقبول اور اہم ہے کہ اس دن نے ایک تہوار کا درجہ حاصل کر لیا اور ایرانی شمسی سال کے آغاز کو ثقافتی دن سمجھ کر مناتے ہیں اور یہ دن فقط ایران تک محدود نہیں بلکہ جہاں جہاں بھی فارسی زبان بولی جاتی ہے وہاں وہاں اس کے اثرات نظر آتے ہیں مثلاً:تاجکستان، افغانستان، آذربائیجان، ہندوستان اور پاکستان کے بعض علاقے بھی شامل ہیں ۔ جشن نوروز کا آغاز قدیمی روایت کے مطابق سال کے پہلے مہینے کی پہلی تاریخ (١/فروردین بمطابق ٢١ /مارچ)جمشید(ہخامنشی بادشاہ)کے تخت نشین ہونے کے بعد سے ہوا ، البتہ اس سے پہلے بھی نوروز کا دن لائق تعظیم اور قابل قدر سمجھا جاتا تھا۔اس دن کی اہمیت کے پیش نظر ہی جمشید نے اپنی تخت نشینی کے لئے اس دن کا انتخاب کیا۔ اسلام سے پہلے ہخامنشی دور کے بادشاہ اور عوام نوروز کا جشن رسم و رواج کے مطابق سال کے تحویل ہونے کے وقت مناتے تھے جو کہ آج بھی جاری وساری ہے، آج بھی اسی وقت جشن منایا جاتا ہے جب تحویل سال کا وقت ہوتا ہے۔ اس تہوار میں بعض چیزیں قابل ذکر ہیں مثلاً: عید نوروز سے ایک ہفتہ قبل گیہوں کا اگاناجوکہ امن وامان کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، ہفت سین کا دسترخوان سجانا، چہارشنبہ سوری منانا(یہ بدھ کا دن ہے جو نوروزسے پہلے آتا ہے)؛ اگر ان چیزوں کو تفصیل سے نہ بیان کیا جائے تو شاید نوروز کی لذت ناقص رہ جائے! لہٰذا تھوڑی سی تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
چہارشنبہ سوری:
یہ وہ بدھ کا دن ہے جو سال کا آخری چہارشنبہ ہوتا ہے اور نوروز سے پہلے آتا ہے؛ اس روز یعنی منگل کا دن گزارنے کے بعد شب چہارشنبہ میں سڑکوں اور چھتوں پر آگ روشن کی جاتی ہے اور اس آگ کے اوپر سے چھلانگ لگائی جاتی ہے۔ ظاہراً تو یہ رسم آتش پرستوں کی نشانی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر اس کے پیغام پر غور کیا جائے تو شاید اسلامی اعتبار سے بھی صحیح ہو! کیونکہ اس آگ کے درمیان کچھ دوست یا اہل خانہ اپنے ہاتھ دوسرے کے ہاتھوں میں دیتے ہیں اور آگ کے گرد چکر لگاتے ہوئے ایک دوسرے سے کہتے ہیں: ''بدی تو از من، خوشبختی من از تو'' یعنی تیرے تمام غم واندوہ میرے نصیب میں آجائیں اور میری تمام خوشیاں تیرے نصیب میں چلی جائیں۔ اگر اس جملہ کو اسلامی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اس میں کسی قسم کی قباحت نہیں ہے البتہ اگر یہ امر آگ کی تعظیم کے پیش نظر انجام دیا جائے تو آتش پرستی سے تعبیر کیا جائے گا جو کہ حرام ہے۔
سبزہ اُگانا:
نوروز سے تقریباً ایک ہفتہ یا دس روز پہلے ایران کے ہر گھر میں ایک برتن میں گیہوں بوئے جاتے ہیں تاکہ وہ نوروز تک اُگ جائیں اور نو روز کے دن اس سبزہ کو دسترخوان پر سجایا جاسکے۔ اگر کوئی اپنے گھر میں کسی سبب سبزہ نہیں اُگا پایا تو وہ بازار سے خریدلیتا ہے کیونکہ نوروز کے موسم میں اس روز کام میں آنے والی تمام اشیاء فراہم ہوتی ہیں۔ اس سبزہ کو امن وامان کی نشانی سے تعبیرکیاجاتا ہے۔
ہفت سین:
سفرۂ ہفت سین یعنی ٧/ طرح کی سینوں سے سجا ہوا دسترخوان ،عید نوروز کی اہم ترین رسموں میں سے ہے جس میں ''س ''سے شروع ہونے والی ٧/اشیاء کو دسترخوان پر سجایا جاتا ہے مثلاً :سیر(لہسن)، سیب ، سرکہ ، سمنو (گندم سے تیار شدہ شیرینی)، سنجد(ایک قسم کاپھل)، سماق(ایک طرح کا مصا لحہ)اور سبزہ .
اگر گزشتہ تاریخ پر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ سفرۂ ہفت سین، سفرہ ٔ ہفت شین سے تعبیرکیاجاتا تھا جو کہ بعد میں ہفت سین میں تبدیل ہوا ۔قبل از اسلام سفرہ ٔ ہفت شین میں شمع ، شراب ، شیرینی ، شہر ، شمشاد(ایک قسم کا درخت )، شربت و شقایق (ایک قسم کا پھول )یا شاخہ نبات(شیرینی)ہوا کرتے تھے۔ ہخامنشی دور میں عید نوروز کے دسترخوان پر انواع واقسام کی غذائیں ٧/قسم کے چینی کے ظروف میں سجائی جاتی تھیں اسی وجہ سے انہیں ہفت چین یا ہفت چیدنی کہا جاتا تھا۔ ہخامنشی دور کے بعد ساسانی دور میں سفرۂ ہفت چین تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ سفرہ ٔ ہفت شین میں تبدیل ہوا۔ساسانی حکمرانوں کے سقوط کے بعد جب ایرانیوں نے اسلام قبول کیا تو کوشش کی کہ اپنے قدیمی رسم و رواج کو ختم نہ ہونے دیں، کیونکہ اسلام میں شراب کو حرام قرار دیا گیا تھا اسلئے ''شراب''کی جگہ ''سرکہ''انتخاب کیا گیا۔بقیہ چیزوں میں بھی تبدیلی کی گئی۔اس طرح ''ش''کی جگہ ''س''سے شروع ہونے والی چیزوں کو دسترخوان پر سجایا جانے لگا اور سفرۂ ہفت شین... سفرۂ ہفت سین سے تبدیل ہو گیا۔
ان ہفت سین(سیر ، سیب ، سرکہ ، سمنو ، سنجید ، سماق و سبزہ )کے ساتھ نوروز کے دسترخوان پرقرآن کریم، آئینہ، چاول ، سکہ ، پانی اور لال مچھلی کا رکھنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے کیونکہ قرآن کریم برکت کی نشانی ہے، آئینہ حقیقت کی علامت ہے، چاول اور سکہ فراوانی کی علامت ہے، پانی اور مچھلی پاکیزگی اوراچھے شگون کی علامت ہے۔انکے علاوہ بھی چند چیزیں مثلاً: رنگین انڈے ، میوے ، کیوڑا ، نان و پنیر وغیرہ سے نوروز کے دسترخوان کی شان میں اضافہ کیا جاتا ہے۔بعض افراد دیوان حافظ یا شاہنامہ فردوسی کو بھی دسترخوان پر سجاتے تھے (اس لئے کہ یہ ان لوگوں کی شاہانہ علامت تھی)جو آج کل نہیں سجایاجاتا۔
صلۂ رحم:
عید نوروز کم سے کم ١٥روز پر مشتمل ہوتی ہے یعنی پہلی فروردین سے ١٥/فروردین تک ایرانیوں کے درمیان نہایت ہی خوشحالی نظرآئے گی، ایرانی لوگ تحویل سال کی دعاؤں سے فراغت پانے کے بعداپنے اعزاواقارب کے گھروں کی جانب رخ کرتے ہیں اوربازار سے انواع واقسام کی مٹھائیاں خریدکر ان کے گھر لے جاتے ہیں، ایرانیوں کا یہ حسن سلوک اور صلۂ رحم قابل دید ہوتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان پندرہ دنوں میں کوئی ایرانی اپنے گھر نہیں رہتا بلکہ تمام ایرانی سڑکوں پرگھومتے نظرآتے ہیں؛ جب کہ ایسا نہیں ہے کہ وہ لوگ بیکار ہی سڑکوں پرگھوم رہے ہوں بلکہ وہ اس لئے نظرآتے ہیں کہ وہ اپنے عزیزوں کے گھرصلۂ رحم کرنے جارہے ہیں۔
سیزدہ بدر:
یہ وہ روز ہے جو سال کے پہلے مہینہ کی تیرہ تاریخ میں آتا ہے، فارسی میں سیزدہ کے معنی تیرہ کے ہوتے ہیں اور تیرہ تاریخ کو (بلکہ تیرہ کے عدد) کو یہ لوگ نحوست سے تعبیر کرتے ہیں اور اسی کے پیش نظرتیرہ فروردین کو کوئی بھی ایرانی اپنے گھر میں نظرنہیں آئے گا بلکہ گھر چھوڑکربیابان میں چلا جائے گا کہ اگر کوئی نحوست آئے تو وہ ہمیں نہ دیکھ پائے!۔ اسی روز وہ اپنے ساتھ اس سبزہ کو بھی لے جاتے ہیں جو انھوں نے نوروز سے پہلے اگایاتھا اور اس سبزہ کو پانی میں بہا دیتے ہیں جو اچھے شگون سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ رسم عقل و شعور سے ماوراء ہے لہٰذا آیات عظام ، مراجع کرام اور علماء اعلام اس رسم کی بہت زیادہ مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر عید ہی منانا چاہتے ہو تو اسلامی دائرہ میں رہ کر مناؤ اور ایسی رسومات انجام دو جو قرین عقل ہوں؛ ان حضرات کی باتوں کا اثر توہوتا ہے لیکن سوفیصداثرنہیں دکھائی دیتا کیونکہ جو رسم ایک مدت سے چلی آرہی ہے اس کا خاتمہ آسانی سے نہیں ہوسکتا؛ ان حضرات کی یہی کوشش ہے کہ اس رسم کو ختم کیاجائے۔
سال کا نام رکھنا:
رہبر معظم آیة اللہ خامنہ ای مد ظلہ العالی، ہرسال نوروز کے روز مشہدمقدس میں تشریف فرما ہوتے ہیں۔ ایرانی ٹی وی پر تحویل سال کے وقت جشن نوروز کی دعاؤں کے فوراً بعدآپ کی تقریر ہوتی ہے، آپ اس تقریر میں گزشتہ سال کے حادثات، حکومتی منافع اور ضرر کو بیان کرتے ہیں اور یہ تاکید فرماتے ہیں کہ جس سال میں ہم اس وقت قدم رکھ رہے ہیں اس سال کو گزشتہ سال سے بہتر بنایا جائے۔ رہبرمعظم کی مکمل کوشش رہتی ہے کہ عید نوروز کی آڑ میں آئی ہوئی خرافات کا خاتمہ کیا جائے یہی سبب ہے کہ جب آپ تقریر کرتے ہیں تو اپنی تقریر کے درمیان نئے سال کا ایک نیا نام رکھتے ہیں، یہ نام اپنے اقتصاد اور اسلامی نقطۂ نگاہ کو نظرمیں رکھتے ہوئے قراردیتے ہیں، اگر کوئی مناسبت ہوتی ہے تو آپ اس کا تذکرہ کرنا بھی لازم سمجھتے ہیں تاکہ عوام کی ذہنیت کو خرافات سے نکال کر دوسری جانب مشغول کریں، اس کے کچھ نمونے اس طرح ہیں : (١)ایک سال نوروز ، محرم کے ایام میں واقع ہوا تو آپ نے فرمایا: ''ما امسال عید نداریم '' یعنی اس سال ہماری عید نہیں ہوگی۔ آپ کے اس جملہ نے کافی حد تک اثر قائم کیا اور کافی تعداد میں لوگوں نے عید نہیں منائی۔ اس کے بعد کئی سال تک ان کا یہ تہوار غموں کے ایام میں آتا رہا اور ایران کے بہت سے افراد نے عید کی خوشیوں سے پرہیز کیا۔ (٢) تقریباً دو تین سال سے عید نوروز، ایام فاطمیہ میں واقع ہورہی ہے تو اس کے پیش نظر آپ ہر سال اپنی تقریر میں ایام فاطمیہ کی تاکید کرتے ہیں اور قوم سے خطاب کرتے ہیں کہ ''ہمیں عید کی خوشیوں میں فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے غم کو گم نہیں کرناچاہئے بلکہ ہمارا فریضہ ہے کہ سیرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اور ان کی محبت کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائیں''۔ رہبرمعظم کے جملہ کے آخری حصہ(ان کی محبت کو اپنی زندگی میں عملی جامہ پہنائیں)کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ دورحاضرمیں دشمنان اسلام ومسلمین اس بات کے درپئے ہیں کہ تعلیمات محمد و آل محمدﷺ کا خاتمہ کردیا جائے، مسلمانوں کے دلوں سے محمد و آل محمدﷺ کی محبت کو ختم کردیا جائے، وہ ظاہراً تو محبت کا دعویٰ کرتے نظرآئیں لیکن ان کے دل محبت سے خالی ہوں، ایسی صورت میں ہمارا فریضہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے محبت کا ثبوت دیں اور دشمنوں کو یہ سمجھائیں کہ تمہاری سازش ناکام ہوگئی اب کوئی اور سازش اپناؤ۔
رہبرمعظم کے بیانات کے پیش نظرہمارا فریضہ ہے کہ ہم نوروز منائیں لیکن رسومات کی آڑ میں خرافات نہ پھیلائیں، رسومات انجام دیں لیکن صرف ایسی رسومات ہوں کہ اسلامی دائرہ سے خارج نہ ہوں، ایسی رسومات ہوں جن کے سامنے عقل سلیم بھی انگشت اعتراض بلند نہ کرسکے۔ صرف نوروز ہی نہیں بلکہ ہرتہوار اسی بات کا متقاضی ہے کہ ہم رسومات کو اسلامی حدود میں منائیں اور خرافات سے دامن بچائیں۔
''والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ''۔

مقالات کی طرف جائیے