مقالات

 

مولانا سید محمد مہدی صاحب بھیک پوری (صاحب لواعج الاحزان ) ؛ پہلی قسط

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

ولادت اور اسم گرامی
آپ کی ولادت ٢٥ربیع الثانی ١٢٦٩ھ؁ مطابق ٥ فروری ١٨٥٦ء؁کو وطن میں یاآپ کے نانیہال بنگرہ( ضلع مظفر پور) میں ہوئی ، آپ قدوة العارفین مولانا سید علی صاحب طالب ثراہ کے فرزند اکبر تھے جنہوں نے آپ کا نام ''سید محمد مہدی '' رکھا۔بعض تذکرہ نگاروں سے آپ کی تاریخ ولادت میں اشتباہ ہو گیاہے ، چنانچہ مولانا محمد حسین نوگانوی نے'' تذکرۂ بے بہا فی تاریخ العلماء ''میں آپ کی تاریخ ولادت ٢٥ربیع الاول ١٢٢٩ھ؁ تحریر کی ہے ، آقائے بزرگ تہرانی سے بھی یہی تسامح ہوگیا ہے لیکن آپ کے والد ماجد کی بیاض سے نقل شدہ ایک تحریر میں آپ کی تاریخ ولادت ٢٥ربیع الثانی مذکور ہے ، اس قول کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ مولانا مرحوم کی ایک تصنیف '' مواعظ المتقین ' ' کے آخر میں آپ کی سوانح حیات میں یہی تاریخ درج ہے ۔

ابتدائی تعلیم و تربیت
تربیت کے حوالے سے والدین کی حساسیت بہت کارگرہوتی ہے ، حساس والدین کی تربیت کا سلسلہ رحم و مہد سے شروع ہوکر لحد تک جاری و ساری رہتاہے ، ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں ۔ خاص طور سے وہ ایام طفلی میں تربیت پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اس لئے کہ ایام طفلی کی تربیت بڑی موثر اور دیر پا ہوتی ہے ، اس کے اثرات انسا ن کی پوری زندگی پر محیط ہوتے ہیں ۔
مولانا محمد مہدی صاحب طاب ثراہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں بھی آپ کے والد ماجد بہت زیادہ حساس تھے ۔ اس حساسیت کا اندازہ خود مولانا مرحوم کی تحریر سے لگایا جاسکتاہے ، آپ اپنے والد کی سوانح حیات '' تحفة الابرار '' میں رقمطراز ہیں :
''والد ماجد کو اولاد کی صحیح تربیت کی اہمیت کا اتنااحساس تھا کہ زمانہ ٔ رضاعت ختم ہوتے ہی آپ کو اور اس کے بعد آپ کے چھوٹے بھائی مولانا حکیم ڈاکٹر سید محمد جواد صاحب مرحوم کو اپنی نگرانی میں لے لیا اور تربیت و تعلیم اور نگہداشت کے تمام امور بہ نفس نفیس خود انجام دیتے تھے ''۔
دنیا کے ہر والدین اپنی اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن اکثر لوگ اپنی اس خواہش میں کامیاب نہیں ہوپاتے ،اس کی ایک علت تویہ ہے کہ وہ اپنی تربیت میں محبت کا جذبہ زیادہ شامل کرلیتے ہیں جو ابتدائی تربیت کے لئے بے حد نقصان دہ ہے ۔ مولانا سید علی صاحب طاب ثراہ ایک باپ ہونے کے ساتھ ساتھ حساس اور ذمہ دار عالم دین بھی تھے ، وہ تعلیم و تربیت کے تقاضوں سے اچھی طرح واقف تھے ، اسی لئے انہوںنے اولاد کی تربیت میں اپنی محبت کو عقل کے تابع رکھا ۔ چنانچہ مولانا مرحوم'' تحفة الابرار''میں لکھتے ہیں :
''( والد ماجد ہم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے) لیکن یہ محبت عقل کی تابع تھی اور ایک لمحہ کے لئے اپنے بچوں کی تعلیم اور تہذیب نفس میں تساہل نہیں فرماتے تھے ''۔
زندگی کی کشتی اسی طرح رواں دواں تھی کہ آپ سایۂ پدری سے محروم ہوگئے ، اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی ۔ آپ نے اپنے والد کے انتقال کے بعد حصول علم کی غرض سے پٹنہ کا رخ کیا اور وہاں کچھ ابتدائی کتابیں پڑھیں۔

اعلیٰ تعلیم
آپ نے پٹنہ میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مرکز علم و ادب '' لکھنؤ '' کا رخ کیا اور وہاں مختلف علماء و فضلاء سے درس لینا شروع کیا ۔آپ نے وہاں تاج العلماء مولانا سید علی محمد صاحب طاب ثراہ سے خاص طور پر کسب فیض کیا ۔ آخر میں اوحد الناس مفتی سید محمد عباس صاحب طاب ثراہ کے حلقہ ٔ تلامذہ میں داخل ہوگئے ۔ مرزا محمد ہادی عزیز لکھنوی نے مفتی صاحب کی سوانح حیات '' تجلیات '' کے نام سے ١٩٢٥ئ میں تحریر فرمائی تھی جو ١٣٢٤ھ؁ میں نظامی پریس لکھنؤ سے طبع ہوئی ، اس میں مفتی صاحب کے تلامذہ کی فہرست میں مولانا سید محمد مہدی صاحب بھیک پوری کے علاوہ مولانا سید نظر حسن صاحب بھیک پوری اور مولانا سید مرتضی صاحب فلسفی نونہروی کے نام بھی شامل ہیں ۔
جناب مفتی صاحب مرحوم اور مولانا محمد مہدی صاحب کے والد مولانا سید علی صاحب مرحوم دونوں سید العلماء سید حسین صاحب طاب ثراہ کے شاگرد رشید تھے ، بعید نہیں کہ مفتی صاحب نے اپنے دوست کی یتیم اولاد کو اپنے سایہ ٔ عاطفت میں لے لیاہو اور ان کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ مبذول رکھی ہو۔
آپ کے اساتذہ میں علامہ کنتوری کے فرزند جناب مولانا سید تصدق حسین صاحب کنتوری کانام بھی ملتا ہے ۔ مولانا تصدق حسین کنتوری نے شیخ سماوی کی کتاب ''ابصار العین فی انصارالحسین '' کا ترجمہ '' نور العین ''کے نام سے کیاتھا جو مترجم کی وفات کے بعد پہلی مرتبہ ١٣٥٧ھ؁ میں حیدرآباد دکن سے شائع ہوا ۔ اس ترجمہ کے آخر میں مترجم کے حالات زندگی کے ضمن میں آپ کے شاگردوں کا بھی تذکرہ ہے جس میں مولانا سید محمد مہدی صاحب مؤلف لواعج الاحزان اور ان کے بھائی مولانا سید محمد جواد صاحب کے اسماء بھی ملتے ہیں ۔
چونکہ مولاناسید تصدق حسین صاحب ، مولانا مرحوم سے صرف سات سال بڑے تھے ، اس لئے ممکن ہے آپ نے لکھنؤ آنے کے فوراً بعد ان سے متوسط اور ابتدائی سطح کی کتابیں پڑھی ہوں ۔

تعلیم سے فراغت اور دینی سرگرمیاں
یہ بات پردہ ٔ خفا میں ہے کہ آپ نے تعلیم سے کب فراغت پائی، لیکن یہ بات طے ہے کہ آپ ١٣٠٦ھ؁ سے قبل تعلیمی مرحلے سے فارغ ہوچکے تھے ، اس لئے کہ آپ تحصیل علم سے فراغت پانے کے بعد مظفر پور آئے اور نواب حاجی سید محمد علی بن سید محمد تقی صاحب کے یہاں مقیم ہوئے، اس وقت نواب محمد تقی خان صاحب باحیات تھے ۔ نواب صاحب نے محلہ کمرہ مظفر پور میں ایک مسجد اور عالیشان امام باڑہ تعمیر کیاتھا نیز مدرسہ ایمانیہ کی بھی تاسیس کی تھی ۔نواب صاحب کا انتقال ١٣جمادی الاول ١٣٠٦ھ؁ کو ٨٨ سال کی عمر میں ہواتھا اور اس سے کافی پہلے آپ لکھنؤ سے مظفر پور تشریف لاچکے تھے ، اس لئے کہ نواب صاحب کی حیات ہی میں آپ نے سواء السبیل تحریر کی تھی ۔
لکھنؤ سے واپس آکر نواب صاحب کی فرمائش پر آپ مدرسہ ٔ ایمانیہ میں بحیثیت مدرس اعلی مقرر ہوئے ۔ اس وقت مسجد کی پیش نمازی مولانا سید عابد حسین صاحب بھیک پوری سے متعلق تھی ، جب ١٣٢٠ھ؁ بمطابق ١٩٠٢ء؁ کو مولانا عابد صاحب سلطان المدارس لکھنؤ تشریف لے گئے تو مدرسہ کے ساتھ ساتھ مسجد کی پیش نمازی کی ذمہ داری بھی مولانا سید محمد مہدی صاحب مرحوم کے سر پر آگئی ، آپ نے ان ذمہ داریوں کو آخر عمر تک بحسن و خوبی انجام دیا ۔
سواء السبیل کے دیباچہ سے معلوم ہوتاہے کہ جب آپ مظفر پور آئے تو لوگوں سے گفتگو کے بعد اندازہ ہوا کہ عام طور پر لوگ اصول دین و مذہب کو استدلالی طریقہ سے نہیں بلکہ تقلیدی طور پر مانتے ہیں اسلئے ان کی ہدایت کے لئے آپ نے یہ کتاب تحریر فرمائی جس میں عقائد مذہب شیعہ کو عقلی و نقلی دلیلوں سے ثابت کیاگیا تھا ۔
آپ کی دینی سرگرمیوں میں تدریس و پیش نمازی کے ساتھ ساتھ مراسم عزاداری بھی شامل ہیں ۔ آپ نے ١٣١٦ھ میں اپنے گھر پر مراسم محرم کا آغاز فرمایا جس کے نتیجے میں آپ کی وقیع کتاب '' لواعج الاحزان '' منظر عالم پر آئی جس کا تذکرہ ذیلی سرخی کے تحت آئندہ آئے گا ۔

آ پ کے تلامذہ
آپ کے تلامذہ کے اسمائے گرامی کسی تذکرہ نگار نے تحریر نہیں کئے ہیںلیکن ١٣٠٦ھ سے ١٣٤٨ھ تک کی مدرسہ ٔ ایمانیہ کی طویل تدریسی زندگی سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ آپ نے اس طویل مدت میں بہت سے تلامذہ کی تربیت کی ہوگی ۔
توشۂ آخرت کے دیباچہ میں مولانا سید رسول احمد صاحب طاب ثراہ نے تحریر فرمایا ہے کہ صدر المفسرین مولانا سید راحت حسین صاحب اعلی اللہ مقامہ ١٣١٢ھ میں مدرسہ ٔ ایمانیہ میں داخل ہوئے اور مدرس دوم مولوی خالق بخش سے شرح مائة عامل اوراس کے بعد جنا ب مولانا سید محمد مہدی صاحب سے ابواب الجنان ، شرح جامی اور شر ح تہذیب پڑھی ۔
مولانا مرحوم کی کتاب '' مواعظ المتقین '' کے خاتمة الطبع کی عربی عبارت سے معلوم ہوتاہے کہ مدرسہ ایمانیہ کا تعلیمی معیار بہت اونچا تھا نیز اسی تحریر کی روشنی میں آپ مولانا سید محمد مہدی صاحب کے تلامذہ کی ایک جھلک بھی دیکھ سکتے ہیں ، اس میں تحریر ہے :
''سید محمد مہدی صاحب نے مدرسۂ ایمانیہ میں تعلیم اور تدریس کے ذریعہ شریعت کی خدمت انجام دی ۔ اس مدرسہ کو نواب سید محمد تقی خاں صاحب نے مظفر پور میں قائم کیاتھا ۔ سید محمد مہدی صاحب کی برکت سے بیشتر علماء ، عالم خبیر اور فاضل بصیر بن کر نکلے ''۔

سفر زیارات و حج
آپ نے عراق کے مشاہد مقدسہ کی زیارت دو مرتبہ مشرف ہوئے اور دوسرے سفر میں مشہد مقدس ( ایران ) کی زیارت سے بھی مشرف ہوئے ۔ آپ کے پہلے سفر کی تاریخ کسی کتاب میں درج نہیں ہے لیکن ایران و عراق کا سفر کا سن ١٣٠٧ھ درج ہے ۔سفر عراق میں آپ کو سرکار مرزا محمد مجتہد العصر ( سامرہ ) نے آپ کو اجازہ ٔ روایت اور امور حسبیہ عطا فرمایا تھا ۔
١٣٢١ھ؁ میں آپ اپنی اہلیہ اور کچھ دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ حج اور زیارات مدینہ منورہ سے مشرف ہوئے ۔

مقالات کی طرف جائیے