مقالات

 

بانی اصلاح فخر الحکماء مولاناسید علی اظہر صاحب مرحوم؛دوسری قسط

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

ذوق شعرو ادب
خداوندعالم نے فخر الحکماء کو بڑی لطیف طبیعت عطا فرمائی تھی ، اس لطافت پر علمی کمالات نے رنگ چڑھایا ، احساس جمال ، شدت جذبات ، آہنگ و ترنم اور جذب و کیف غرض تمام فنی محاسن سے ان کی داخلیت سرشار اورشاداب تھی ۔
لیکن وہ اپنی اس خدا داد صلاحیت کو مخصوص سمجھتے تھے ، اسی لئے انہوں نے اپنے زیادہ تراشعار محمد و آل محمدؐکی مدح و ثنا اور رثا ء میں کہے ہیں ،ان کی نظر میں معصوم کی یہ حدیث تھی :من قال فینا بیت شعر بنی اللہ لہ بیتا فی الجنة ''جو بھی ہم اہل بیت کی شان میں شعر کہے ،خداوندعالم جنت میں اس کے لئے قصر تعمیر کرتاہے ''۔
آپ شعر گوئی کو حدیث کی روشنی میں بخشش کا ذریعہ سمجھتے تھے ،چنانچہ معصوم فرماتے ہیں:: لا یکبر علی اللہ ان یغفر الذنوب لمحبنا و ما دحنا ''خدا کے لئے مشکل نہیں کہ وہ ہمارے دوستوں اور شاعروں کے گناہ بخش دے ''۔
مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے اپنے اشعار مجمع میں بھی پڑھے ہیں یا نہیں ، کسی رسالے یا مقالے میں اس کا ثبوت فراہم نہیں ہوسکا ، شاید آپ اہل دنیا کی خوشنودی کے لئے نہیں بلکہ آل محمد ۖ کی خوشنودی کے لئے شعر کہتے تھے ،اسی لئے خود نہ پڑھ کے دوسروں کو شعر پڑھنے کے لئے اپنے اشعار دیتے تھے ۔

شخصیت کی بعض خوبیوں کا اجمالی تذکرہ
١۔ فخر الحکماء کو بیک وقت فارسی ، عربی اور اردو تینوں زبانوں پر بھرپور مہارت اور قدر ت حاصل تھی۔
٢۔ آپ جس طرح تحریری میدان کے شہسوار تھے اسی طرح تقریر و بیان کے بھی دھنی تھے۔
٣۔ آپ کو نثر و نظم دونوں اعتبار سے شہرت حاصل تھی ۔
٤۔ آپ اپنی طہارت کا خصوصی خیال رکھتے تھے ، ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کرتے تھے ، لکھنے سے قبل تو اس کا خاص خیال رکھتے تھے ۔
٥۔ آپ کی عبادت میں بڑی وارفتگی تھی ۔
٦۔ بچپنے سے ہی حمایت اہل بیت اور تبلیغ مذہب کا شوق تھا جو اپنے کمال کے ساتھ زندگی کا حاصل سمجھا۔
٧۔ آپ مذہب و حق کی سربلند ی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے تھے ، چنانچہ اس سلسلے میں وہ اپنے ذاتی مفادات سے بھی غض بصر کر لیتے تھے ،مشہور واقعہ ہے کہ جب نظام دکن نے آپ کی طبابت سے خوش ہو کر کچھ نذرانہ دینا چاہا تو آپ نے صاف انکار کردیا ، جب بہت زیادہ اصرار بڑھا تو فرمایا :اگر آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ماہنامہ اصلاح کے لئے تعاون کردیں۔

''اصلاح ''آپ کا یادگار کارنامہ
آج سے سو سال پہلے فخر الحکماء مولانا سید علی اظہر صاحب قبلہ اعلی اللہ مقامہ نے ترویج دین مبین ، اعلاء کلمہ ٔ حق اور فضائل محمد و آل محمدؐکی نشر و اشاعت کے لئے اس ادارہ اصلاح اور جریدہ کا اجراء کیاتھا ، نیت میں اتنا خلوص اور ادارہ میں اتنی سچائی تھی کہ خدا نے ہر منزل ، محمد و آل محمدؐنے ہر موڑ پر سہارا دیا۔
علمی معلومات کا خزانہ ، علم کلام کی روح رواں ، تاریخ صحیحہ کا ذخیرہ ، قومی اصلاح کا آلہ ، فرقہ حقہ شیعہ کا زبردست حامی و ناصر،دینی و دنیوی نصائح کا بہترین منبع ''جریدہ ٔ اصلاح ''ہے جو آج سو سے زائد برس سے دین کی خدمات انجام دے رہاہے ۔
دینی و مذہبی اداروں اور رسالوں کی تاریخ میں ''اصلاح '' کو یہ انفرادی اور امتیازی اہمیت حاصل ہے کہ اس کی بنیاد خالص دینی اور تبلیغی جذبہ کے تحت رکھی گئی ، زمان و مکان کی آفتوں اور ارضی و سماوی زحمتوں کو سر سے گزرتے دیکھتا رہا اور اپنے مقصد اور منصوبے میں سر گرم عمل رہا ، نہ جانے کتنے مذہبی مجلات لباس وجود سے مزین ہوکر عالم امکان میں آئے مگر اپنی عمر کی بقا و دوام کا ارادہ رکھنے والے ، بال وپر کی کمزوری دیکھ کر ترقی و مداومت کی راہ پر پرواز کی طاقت کھو بیٹھے ۔ لیکن ادارہ اصلاح اور ماہنامہ اصلاح نے زمانہ کی سردی ، گرمی ، حالات کی ابتری ، قوم کی سرد مہری ، معاشرہ کی بے توجہی ، یگانوں کی بے زاری ، بے گانوں کی آذری ، قریب و دور کی بے نوائی اور خود اپنوں کی بے اعتنائی تک کو برداشت کرتارہااور نہ صرف اپنے وجود کو باقی رکھا بلکہ وجود کو تمام تر تشخصات اور ممیزات کے ساتھ باقی رکھا جو ایک عظیم کارنامہ ہے ۔

اصلاح سے قبل کے حالات پر ایک نظر
فخر الحکماء نے ادارہ ٔ اصلاح کی بنیاد اس وقت رکھی جب شیعوں کے لئے حالات و ماحول انتہائی خطرناک صورت حال اختیار کر چکے تھے ، ہر طرف سے شیعوں پر ناروا حملے کئے جارہے تھے ، اس وقت خود مذہب کے نام پر سیاست کی چالیں چلی جارہی تھی ۔اس وقت کے حالات کے متعلق والد علام ادیب عصر مولانا سید علی اختر صاحب طاب ثراہ اپنے مقالے '' اصلاح کے صد سالہ نقوش '' میں لکھتے ہیں:
''اسی طرح اردو میں شیعوں کا خالص دینی رسالہ ہونے کی حیثیت سے اصلاح کو اولیت حاصل ہے ، اس کے بانی کجھوہ ضلع سیوان بہار کے مجاہد فقیہ مولانا سید علی اظہر صاحب طاب ثراہ تھے اسے آپ نے ایک صدی قبل اس وقت نکالا جب شیعوں پر ناروا حملے کئے جارہے تھے ، ساری دنیا کرب و اضطراب کا شکار تھی عالمگیر جنگ کے خطرات دستک دے رہے تھے ، میڈیا کے ذریعہ فضا تیار کی جارہی تھی ، خون بہانے کے بجائے خیالات بدلنے پر توانائیاں صرف کی جارہی تھیں ، دنیا کاا نداز جنگ بدل رہا تھا ، مسلمانوں کے دونوں اہم فرقے اہل سنت و شیعہ انگریزوں کی ریشہ دوانیوں کا بری طرح شکار تھے ، انہوںنے اسلامی معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کے لئے منصوبہ بند طریقہ پر وہابیت ، بہائیت اور قادیانیت کی ہمت افزائی شروع کردی تھی ، اس پس منظر میں اصلاح کا اجراء اسلام کی تقویت کے سلسلے میں بہت مفید ثابت ہوا ''۔
خود آپ کے پوتے مولانا محمد باقر صاحب مرحوم نے جریدہ ٔ اصلاح کے اجراء سے قبل کے حالات کے پیش نظر فخر الحکماء کی بے انتہا حساسیت پر روشنی ڈالی ہے ، وہ لکھتے ہیں:
''وقت وہ تھا کہ اہل سنت کے متعدد رسائل و اخبارات ہندوستان میں شائع ہورہے تھے ، اور ہر شمارہ میں فرقہ حقہ پر سب و شتم اور طعن و اعتراضات کی بوچھار ہوتی مگر شیعوں کا کوئی رسالہ ایسا نہ تھا جو ان اعتراضات کا جواب دے اور معترضین کی وسیسہ کاریوں کو واضح کرے ۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ مسٹر عبد الحلیم شرر لکھنوی نے جناب سکینہ بنت الحسین کا انتہائی فحش ناول لکھ کر اپنے پرچہ ''دلگذار '' میں شائع کر ڈالا ۔ جس نے تمام مسلمانوں کے دل زخمی کر دئیے اور ہندوستان میں ایک سرے سے دوسرے سرے تک آگ لگ گئی ۔ شرر صاحب کی ہمتیں اس بنا پر اور بڑھیں کہ اس وقت شیعوں کا کوئی ایسا رسالہ نہ تھا جسے کسی وسیع النظر محقق شیعہ عالم کی نگرانی و ادارت نصیب ہو ۔ لکھنو اور دیگر مقامات پر بہت سے اعاظم علمائے شیعہ موجود تھے مگر انہوںنے شرر صاحب کو منھ لگانا مناسب نہ سمجھا ۔ ادھر شرر صاحب کی لگائی ہوئی آگ پھیلتی جارہی تھی ۔ اس وقت جد مرحوم ہی کی ذات ایسی تھی انہوں نے اس کتاب کا انتہائی مسکت اور تحقیقی جواب لکھا جس نے شررصاحب کے فتنہ سامانیاں خاک میں ملادیں''۔
اصل میں حضرت فخر الحکماء کی دور بین ،حق آگاہ اور حقیقت پسند نگاہ نے غلامان دولت و اقتدار ، حریصانہ جاہ و منصب ، سقیفائی اہلکاروں ، اموی عفریتوں اور عباسی اژدہوں کو بخوبی پہچان لیاتھا ۔اسی لئے انہوں نے ان کے زہر سے مسموم ہونے والی فضا کے لئے تریاق مہیا کرنا اپنا فریضہ سمجھا اور ماہنامہ اصلاح کی بنیاد رکھی ۔

تاریخ اصلاح
فخر الحکماء اعلی اللہ مقامہ نے اہل سنت کی جانب سے متعدد پرچوں میں کئے گئے ناروا تہمتوں کا دندان شکن جواب دینے کے لئے ١٦ستمبر ١٧٥ئ مطابق ١٥ شعبان ١٢٩٢ھ یوم پنجشنبہ کو ادارہ ٔ اصلاح کی بنیاد ڈالی اور کتب کا اشاعتی کام شروع کیا مگر رسالہ اصلاح ٩ جنوری ١٨٩٨ ئ مطابق ١٥شعبان ١٣١٥ھ یوم یکشنبہ سے باقاعدہ نکلنا شروع ہوا ۔
حق کے دفاع کے سلسلے میں اصلاح کے ذریعہ فخر الحکماء کی جد و جہد
فخر الحکماء نے روز اول ہی سے یہ طے کر لیاتھا کہ مسلمانوں میں پھیلے ہوئے مختلف قسم کے مفاسدکو ختم کیاجائے گا اور شیعوں پر کئے گئے ناروا حملوں کا دندان شکن جواب دیاجائے گا اسی لئے آپ نے ادارہ ٔ اصلاح کی بنیاد رکھی تاکہ اس کے ذریعہ تعصب و حمیت اور ناجائز طرفداری سے مبرارہ کر اسلامی تفریق کو دورکیاجائے ، اتفاق و اتحاد پیداکر کے تمام اہل اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے ، جہالت و بد تہذیبی کو مٹاکر علم و عمل کا نوردنیا کے گوشے گوشے میں پھیلایاجائے اور مخالفین و معترضین کے ناروا حملوں کا دندان شکن جواب دیا جائے۔
چنانچہ اگر آپ اصلاح کے ابتدائی پرچوں کو اٹھائیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان کے صفحات میں صرف حق و حقیقت کی جلوہ سامانیاں اور صدق و صداقت کی جھلکیاں ہیں، اس کے مطالب اتنے واضح اور واقع کے مطابق ہیں کہ عوام و خواص اور شیعہ و سنی سب کے لئے یکساں طور پر مفید تھے ۔اسی لئے اصلاح کے پرچوں کا مطالعہ کرنے کے بعد اکثر سنی المذہب حضرات نے مذہب حقہ کو قبول کیاہے جن کی طویل فہرست اصلاح کے قدیم شماروں میں ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں ،صدی نمبر میں بھی اس کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے ۔
فخر الحکماء نے اہل سنت کے متعدد سوالوں کے جواب کے لئے اسی اصلاح کو ذریعہ قرار دیا اور اپنے مذہب کا دفاع کیا چنانچہ ١٣٢١ھ میں یہ اعتراض کیاگیا کہ استخارہ بے اصل ہے ،صرف جفت اور طاق کی قمار بازی ہے تو اس کا مسکب جواب اسی اصلاح کے ذریعہ دیا گیا ۔ تاریخ وفات رسول کے اختلاف پر بحث ہوئی تو فخر الحکماء نے ایک مضمون تحریر فرمایا ۔ ١٣٢٣ھ میں مولوی عبد الوہاب ، مولوی عبد الحکیم، مولوی عبد الشکور ،مولوی عبد الحق اور مرزا حیرت کے نام حضرت فخر الحکماء نے ایک کھلا خط لکھا ،محرم ،حدیث قرطاس اور مسئلہ خلافت پر مرزا حیرت اور معاندین تشیع سے ایک طویل مناظرہ ہوا اور مرزا حیرت کے تمام براہین کا فخر الحکماء نے قلع قمع کردیا ۔اس کے اور بھی نمونے آپ کو اصلاح کے پرچوں میں مل سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ حضرت فخر الحکماء کے اس تاریخ ساز ادارہ ''اصلاح '' سے اہل شماتت کے حملوں کا دفاع کرنے کے لئے الشمس ، الکلام ، التاج ہفتہ وار ، جیسے متعدد رسالے شائع ہوئے جن کی وساطت سے فقہ جعفری کا گرانمایہ سرمایہ ہم تک پہونچا جن کے اثرات برسوںتک قائم و دائم رہیںگے ۔

آپ کے قلمی جواہر پارے
حضرت فخر الحکماء مولانا سید علی اظہر صاحب اعلی اللہ مقامہ ایک کامیاب مناظر،شاعر ،مبلغ اورحکیم ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی سریع القلم محقق اور مصنف بھی تھے ،آپ کو طالب علمی کے دور سے لکھنے کا بہت زیادہ ذوق تھا ، بتایا جاتاہے کہ آپ نے بارہ سال کی عمر ہی سے لکھنا شروع کردیاتھا ۔ظاہر ہے جس نے اتنی کم عمری میں قلم اٹھا لیاہو ، اس کے قلمی قوت و طاقت کا اندازہ لگانا محال ہے،یہی وجہ ہے کہ قلم کی روانی اور فکر کی جولانی نے جس موضوع کو اختیار کیا اس بھر پور حق ادا کیا ۔یہاں ان کی کتابوں کی اجمالی فہرست پیش کی جارہی ہے :
١۔ مناظرۂ امجدیہ ( دو جلدیں)
٢۔ ذوالفقار حیدری ( دس جلدیں)
٣۔ تنقید بخاری ( ٥ جلدیں)
٤۔ کشف الظلمات بجواب بحث فدک
٥۔ کنز مکتوم فی حل عقد ام کلثوم
٦۔ تشفی اہل السنة والخوارج
٧۔ تبصرة الوسائل
٨۔ دفع الوثوق عن نکاح الفاروق
٩۔ الآل والاصحاب
١٠۔ رسالہ وضو
١١۔ تاریخ الاذان
١٢۔ تصحیح تاریخ
١٣۔ نافع القرآء ( فارسی )
١٤۔ المرالفعات رد رسالہ شاہ عبد العزیز دہلوی
١٥۔ رشحة الافضال علی طالبی ملا جلال
١٦۔ نخبة البیان ( علم معانی و بیان کی شرح )
١٧۔ نضیعہ رابعہ
١٨۔ آیات بینات ( ٤جلدیں)
١٩۔حاشیہ ٔ شرح تہذیب (عربی )
٢٠۔حاشیہ قطبی (عربی )
٢١۔حاشیہ شرح ملا مبین ( عربی )
٢٢۔حاشیہ ملا حسن ( عربی )
٢٣۔حاشیہ حمد اللہ ( عربی )
٢٤۔حاشیہ ملا جلال( عربی )
اس کے علاوہ آپ نے بہت سے مضامین تحریر کئے ہیں جو اصلاح کے علاوہ متعدد جرائد میں شائع ہوئے اگر ان تمام مضامین کو یکجا شائع کردیاجائے تو کئی جلدوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے گی۔

اولاد
فخر الحکماء کو خداوندعالم نے چار لائق و شائق فرزندوں سے نوازا جن کے اسماء یہ ہیں:
١۔ مولانا محمد حیدر صاحب مرحوم ( مدیر الشمس )
٢۔ مولانا اختر حسین صاحب مرحوم
٣۔ جناب موسی کاظم صاحب مرحوم
٤۔ مولانا علی حیدر صاحب اعلی اللہ مقامہ
تمام بھائیوں نے والد ماجد کی حیات ہی میں جریدۂ اصلاح کو ہاتھوں ہاتھ لیا ، آپ حضرات ہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اعلی علمی اور تحقیقی مضامین شائع ہوئے ۔

وفات
حضرت فخر الحکماء کی وفات حسرت آیات ٧٥ سال کی عمر میں ١٢شعبان ١٣٥٢ ھ مطابق یکم دسمبر ١٩٣٣ ء بروز جمعہ ٥ بجے شام کو ہوئی ، آپ کی وفات کا واقعہ آپ کے فرزند مولانا سید علی حیدر صاحب نے بڑی تفصیل سے قلمبند کیاہے ، وہ لکھتے ہیں:
'' ماہ رجب کے رسالہ اصلاح میں مومنین اس خبر کو پڑھ چکے ہیں کہ حضرت ممدوح کی علالت و نقاہت کی یہ حالت ہو گئی کہ ٣ جمادی الاخری کی مجلس میں جناب اقدس کے اصرار سے ہم لوگ آپ کو پلنگ پر لٹا کر حسینیہ میں لے گئے ، اس کے بعد ضعف بڑھتا گیا اور تمام اعزاء و مومنین میں اضطراب زیادہ ہی ہوتا گیا ۔ماہ رجب کا مہینہ اسی حالت میں ختم ہوا ۔ ٥ شعبان دوپہر تک غذا ہوتی ۔ شب ششم شعبان کو حسب معمول غذا ہوئی مگر پوری نہیں ہوسکی ، اس کے تھوڑی دیر بعد استفراغ ہوا جس سے مزاج کی حالت خوفناک ہوگئی ۔ صبح کو شدید نفخ ہوگیا اور حواس بھی معطل ہوگئے ۔ اسی وقت تمام اعزاء و مومنین میں خبر رحلت مشہور ہوگئی مگر وہ غلط تھی فوراً مقامی اسپتال کے ڈاکٹر حسن رضا صاحب جو اپنے اوصاف حمیدہ میں فرد اور یہاں نہایت ہر دلعزیز ہیں ، تشریف لائے اسی وقت احتقان دیا گیا ۔اجابت ہوئی اور اس سے نفخ آہستہ آہستہ زائل ہوگیا ۔ آنکھیں بھی کھول دیں ، کچھ باتیں بھی کیں مگر طبیعت گرتی ہی گئی اور تمام قویٰ و اعضاء رفتہ رفتہ جواب دیتے رہے یہاں تک کہ ١٢ شعبان سہ پہر کو حضرت ممدوح نے دنیا سے رحلت فرمائی ''۔
خدارحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

منابع و مآخذ
١۔ مطلع انوار مولانا مرتضی حسین صدر الافاضل
٢۔ نجوم الارض مولانا سید محمد پیکر صاحب گوپال پوری
٣۔ اصلاح صدی نمبر
٤۔ جریدۂ اصلاح ( مختلف شمارے )
٥۔ مختلف افراد سے انٹرویو

مقالات کی طرف جائیے