مقالات

 

مسلک انتخاب و انتصاب پر ایک نظر

آقای محمد نقیب زادہ

ترجمہ : محمد رضا معروفی
مقدمہ
امامت ایک ایسا موضوع ہے جس سے متعلق پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد سے لے کر آج تک اسلام کے مختلف فرقوں کے درمیان بحث ہوتی رہی ہے اور اس بحث و مباحثہ کی نوعیت ایسی ہے جو امت مسلمہ کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کا سبب قرار پائی ،اس زمانے میں جبکہ اس موضوع پر گفتگو کرنے کی شدید ضرورت ہے بعض روشن فکر حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس
زمانے میں وحدت اسلامی کی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس موضوع پر بحث و گفتگو کرنا مناسب نہیں ہے
ایسے ماحول میں امامت کی بحث چھیڑنا اور اس بات کو بیان کرنا کہ کس طرح پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بعض صحابہ نے اسلامی معاشرے کی رہبری اور قیادت کی راہ میں انحراف پیدا کردیا ہے لوگوں کی نظر میں صرف اور صرف ایک تاریخی بحث کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ مذکورہ موضوع پر گفتگو کرنا گویا گڑے مردے اکھاڑنے کے مترادف ہے ؛جبکہ ایسے افراد اس بات سے غافل ہیں کہ امامت صرف ایک تاریخی موضوع نہیں ہے بلکہ ایک ایسا زندۂ جاوید موضوع ہے جس کی ضرورت ہر زمانے میں تمام لوگوں کو رہی ہے ،کیوں کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسلامی معاشرے کوہر زمانے میں ایک ایسے رہبر اور سرپرست کی ضرورت ہے جو علمی اور سیاسی اعتبار سے مرجع کی حیثیت رکھتا ہو اس لئے کہ احکام اور حدود الٰہیہ کا نفاذ اسلامی معاشرے کی وہ ضرورتیں ہیں جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور اسلام کے اس اساسی موضوع کو پیغمبراکرم کی حیات طیبہ میں منحصر اور محدود بھی نہیں کیا جاسکتا۔
بہر حال موضوع امامت کی ایک اہم بحث اسلامی معاشرے میں امام کا تعیّن ہے کہ اس سلسلہ میں کلی طور پر دونظریات پائے جاتے ہیں :
ایک نظریہ کے اعتبار سے اسلامی معاشرہ کے رہبر کا تعین خداوندمتعال کی ذمہ داری ہے اور امام وہ ہوگا جسے خدا منصوب کرے،اس مضمون میں اس نظریہ کو نظریۂ انتصاب کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔
اسی کے مد مقابل دوسرا نظریہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ امام کا تعیّن لوگوں کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری خدا نے انھیں عطا فرمائی ہے ؛اس نظریہ کو نظریۂ انتخاب کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے ۔
مذکورہ نظریات کی تحلیل و تفسیر اسی وقت بہتر طریقہ سے ہوسکتی ہے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ نظریۂ انتصاب کے ماننے والوں کی نظر میں امامت کی حقیقت کیا ہے اور نظریۂ انتخاب کے ماننے والے امامت سے کیا مراد لیتے ہیں ،لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے یہ بیان کیا جائے کہ اہل سنت کی نظر میں امامت کی حقیقت کیا ہے اور مکتب تشیع میں امامت کسے کہتے ہیں؟۔

حقیقت امامت:
اہل سنت اور شیعوں کی معتبر کتابوں میں امامت کی جو تعریفیں بیان کی گئی ہیں وہ نہ تو اہل سنت کی نظر میں حقیقت امامت کو بیان کرتی ہیں اور نہ ہی شیعوں کی نظر میںمقام امامت کو بیان کرنے کے لئے کافی ہیں، وہ تعریف جو شیعہ اور سنی کی علم کلام سے متعلق کتابوں میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے : ''ریاسة عامة فی امور الدین والدنیا ''(١)دینی اور دنیاوی امور کی ریاست کو امامت کہا جاتا ہے ،ایسا لگتا ہے کہ یہ تعریف شیعوں کے اعتبار سے امام کے مرتبہ کو گھٹاتی ہے اور اہل سنت کے عقیدے کے اعتبار سے امامت کے مرتبہ کو بڑھاتی ہے ؛اس لئے کہ شیعوں کی نظر میں امام وہ ہوتا ہے جس کے پاس ریاست دنیوی اور دینی کے کے علاوہ خلافت الٰہیہ اورایسی ولایت تکوینی ہوتی ہے جس کا تعلق عالم ملکوت سے ہوتا ہے اور لوگوں کی ہدایت کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ہوتی ہے ۔(٢)
شیعوں کے یہاں جو امامت کا تصور ہے وہ بالکل اس امامت پر منطبق ہوتا ہے جسے قرآن مجید میں خدا وندمتعال کے خاص بندوں کے لئے بیان کیا گیا ہے ، قرآن مجید میں وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی ہے کہ امامت کا مرتبہ نبوت سے بلندہے چنانچہ سورۂ بقرہ کی ١٢٤ویں آیت میں آیا ہے کہ امامت کا عہدہ ایسا ہے کہ جسے جناب ابراہیم علیہ السلام کو کئی سخت امتحانات کے بعد عطا کیا گیا،انہیں امتحانات میں سے ایک امتحان اپنے لخت جگر کو ذبح کرنا تھا کہ جو قرآن مجید میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے (٣)جبکہ بعض دوسری آیتوں سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم کو بڑھاپے میں عطا کئے گئے تھے(٤) جس سے اس امتحان کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
دوسری طرف شیعوں کے اعتقاد کے اعتبار سے امامت نہ صرف یہ کہ اصول دین میں سے ہے اور نبوت کا استمرار ہے بلکہ نبوت کی بقاء و استمرار اسی پر منحصر ہے، اس بات کی دلیل قرآن مجید کی وہ آیت ہے جو واقعۂ غدیر خم سے متعلق ہے جس میں خدا نے اس بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے کہ اگر اسے نہ پہنچایا گیا تو گویا کار رسالت ہی انجام نہیں دیا گیا ؛اے رسول! جو کچھ بھی خدا کی طرف سے آپ پر نازل کیا جاچکا ہے اسے پہنچادیجئے ،اور اگر اسے نہ پہنچایا تو گویا اس کی رسالت کو انجام نہیں دیا ،خدا لوگو ں سے آپ کو محفوظ رکھے گا ،بیشک خدا کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ۔(٥)
مگر اہل سنت کے نزدیک امامت کا شمار فرعی امور میں ہوتا ہے جیسا کہ غزالی نے اس سلسلہ میں یوں وضاحت کی ہے :''امامت کا تعلق دین کے اہم امور میں سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے''(٦) اسی سے ملتی جلتی عبارت ایجی اور تفتازانی کی کتابوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے ۔(٧)
ان تمام باتوں کے باوجود ابھی بھی اس سوال کا امکان ہے کہ جب اہل سنت کے نزدیک امامت فروع دین میں سے ہے اور ایک فقہی مسئلہ ہے تو پھر علمائے اہل سنت نے اس مسئلہ کو اپنی کلامی کتابوں میں جگہ کیوں دی ہے ؟ دوسری طرف یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ وہ موضوع جو پیغمبراکرم ؐکی رحلت کے بعد امت مسلمہ میں اختلاف کا سبب بنا ،جس کی وجہ سے بعض مسلمانوں نے دوسرے بعض مسلمانوں کو کافر ٹھہرایا، یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنا اہم موضوع صرف ایک فقہی مسئلہ کی حد تک رہ جائے ؟!۔
اس کے علاوہ یہ بھی ایک افسوس ناک حقیقت اور تأمل و تفکر کا مقام ہے کہ متکلمین اہل سنت کے نزدیک مقام امامت ایک ایسا سیاسی اور اجتماعی منصب ہے جو ہر طرح کی قید و شرط سے مبرّا ہے ،اس کے حصول کے لئے نہ کوئی قید ہے نہ کوئی شرط، چاہے اس کوحاصل کرنے والے نے تمام انسانی اصول و قوانین کو پامال کرکے ہی کیوں نہ حاصل کیا ہو اب اس امام کے سامنے کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیںبلکہ اس کے خلاف قیام کرنا بھی غیر مشروع قرار دیا گیا ہے ؛باقلانی (متوفی ٤٠٣ھ )اس بات کی اس طرح وضاحت کرتے ہیں :''لا ینخلع الامام بفسقہ وظلمہ بغصب الاموال وضرب الابشار'' امام سے اس کی امامت اس کے فسق و ظلم کی وجہ سے سلب نہیں ہوگی چاہے وہ لوگوں کامال غصب کرے یا ان سے جزیہ (ٹیکس )وصول کرے ،بے گناہوں کے خون سے اپنا ہاتھ رنگین کرے یا لوگوں کا حق ضائع کرے یا حدود الٰہی کو معطل کردے ،ان تمام چیزوں کے باوجود اس کے خلاف قیام واجب نہیں ہے ۔(٨)
طحاوی نے بھی اس سلسلہ میں تحریر کیا ہے کہ ''لا نریٰ الخروج علی ائمتنا وولاة امورنا وان جاروا...''ہمارے عقیدے کے مطابق ہمارے ائمہ اور اولیاء امر کے خلاف قیام کرنا صحیح نہیں ہے ،چاہے وہ ظالم ہی کیوں نہ ہوں ،ہم کسی بھی صورت میں ان پر نفرین نہیں کرتے اور ان کی اطاعت سے دست بردار نہیں ہوتے ،ہم ان کی اطاعت کو اطاعت خدا مانتے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ تفتازانی نے مذکورہ عقیدے سے مشابہ گفتگو تحریر کرنے کے بعد اس غیر منطقی عقیدہ کی دلیل اور علت بھی بیان کی ہے ؛وہ لکھتے ہیں : ''ولا ینعزل الامام بالفسق او بالخروج عن طاعة اللہ والجور ...'' امام فسق و فجور ، خدا کی نافرمانی اور ظلم و جور کی وجہ سے اپنے عہدے سے معزول نہیں ہوگا ، اس لئے کہ خلفائے راشدین کے بعد رہبروں اور امیروں کی طرف سے فسق وفجور بہت زیادہ رونما ہوئے مگر ہمارے گذشتہ بزرگ افراد ان کے سامنے سر تسلیم خم کئے رہے ،ان کی مجالس اور اعیاد میں شرکت کرتے رہے اور ان کے خلاف قیام کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے ۔(٩)
یہ تمام باتیں علمائے اہل سنت کی زبان و قلم سے جاری ہوئیں جبکہ پیغمبراکرم ؐنے اس بات کی تصریح کی ہے کہ نہ صرف یہ ہے کہ ظالم حاکم کے سامنے خاموش رہنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف قیام کرنا بھی واجب ہے اور ایسے شخص کو عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے جو ظالم حکمراں کے سامنے خاموش رہتا ہے ؛لہٰذا ایک روایت میں جس کو آنحضرتؐ کے نواسے امام حسین علیہ السلام نے کوفہ کے سرداروں کے نام لکھے گئے خطوط کے ضمن میں نقل کیا ہے یوں وارد ہوا ہے :''اما بعد فقد علمتم انّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قد قال فی حیاتہ من رأی سلطاناً جائراً مستحلاً لحرم اللہ ناکثاً لعہد اللہ مخالفاً لسنّة رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم والعدوان ثم لم یغیّر بقول ولا فعلٍ کان حقاً علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ''۔(١٠)
''کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبراکرم نے اپنی زندگی ہی میں لوگوں سے فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے ظالم کو دیکھے جو حلال خدا کو حرام قرار دے رہاہو ،خدا سے کئے گئے عہد و پیمان کو توڑ رہا ہو ،سنت رسول خدا کی مخالفت کررہا ہو اور لوگوں کے ساتھ دشمنی سے کام لیتا ہو ،لیکن یہ دیکھنے والا اس ظالم و جابر حاکم کے خلاف اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ کو ئی اقدام نہ کرے تو پھر ایسے شخص کے لئے خدا کو اختیار ہے کہ اسے بھی اس ظالم کے مقام (جہنم)میں داخل کردے ''۔

مکتب اہل سنت میں امام کے انتخاب کا طریقہ :
اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ امام کے تعین کا ایک اہم طریقہ صاحبان حل وعقد کے ذریعہ انتخاب کرناہے ، مگر ان صاحبان حل و عقد کی تفسیر اور ان کی تعداد کے بارے میںاہل سنت کے یہاں عجیب وغریب اختلاف اور علماء کے اقوال میں تضاد پایا جاتا ہے مثلاً ماوردی اس سلسلہ کے بعض نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :
١۔''صاحبان حل و عقدکی کمیٹی اسی صورت میں متحقق ہوسکتی ہے جب تمام شہروں اور تمام ملکوں کے اکثر افراد متفق ہوجائیں تاکہ عمومی رضامندی حاصل ہوسکے اور امام کی اطاعت عمومی اور اجماعی ہوجائے '' مگر اس قول پر انہوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ خلافت ابوبکر اس قول کے مخالف تھی کیوں کہ ابوبکر کو صرف انہیں لوگوں نے خلیفہ بنایا تھا جو سقیفہ میں موجود تھے اور حاضرین نے غائبین کے نظریہ کا انتظار نہیں کیا ۔
٢۔ صاحبان حل و عقدکی کمیٹی ٥ لوگوں سے بھی تشکیل پاسکتی ہے ؛اس قول پر دو دلیلیں پیش کی گئی ہیں : پہلی دلیل یہ ہے کہ صرف پانچ لوگوں نے خلافت ابو بکر پر توافق کیا تھا (یعنی عمر بن خطاب ، ابو عبیدہ ابن جراح ، اسید ابن حضیر ، بشر بن سعد اور سالم غلام ابو حذیفہ)۔
دوسری دلیل عمر کی جانب سے چھہ آدمیوں پر مشتمل شوریٰ کی تشکیل ہے کہ جس میں یہ طے پایا تھا کہ جس پر ٥ لوگوں نے توافق کرلیا وہی خلیفہ ہوگا ۔
٣۔صاحبان حل و عقد کی کمیٹی صرف تین افراد سے بھی متشکل ہوسکتی ہے اس طرح سے کہ ان تینوں میں سے ایک آدمی باقی دو افراد کی رضایت سے حکومت حاصل کرلے ۔
٤۔ صاحبان حل وعقد کا اطلاق ایک آدمی پر بھی ہوسکتا ہے کیوں کہ پیغمبراکرم کے چچا عباس نے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے عرض کی تھی ''امدد یدک ابایعک''آپ اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے تاکہ میں آپ کی بیعت کروں ۔(١١)
ایک آدمی پر صاحبان حل و عقد کا اطلاق کواہل سنت کے مشہور و معروف مفسر قرطبی نے بھی قبول کیا ہے چنانچہ انہوں نے اپنی تفسیر میں سورۂ بقرہ کی تیسویں آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اگر صاحبان حل و عقد میں سے صرف ایک آدمی بھی مطمع نظر اجماع کی تشکیل دے تو یہی کافی ہے اور دوسروں پر اس کی پیروی کرنا ضروری ہے ؛ان بعض لوگوں کے برعکس جن کے نزدیک اجماع اس وقت تک متحقق نہیں ہوسکتا جب تک لوگوں کا ایک گروہ جمع نہ ہوجائے ،قرطبی نے اجماع محقق ہونے میں ایک آدمی کے کافی ہونے کو ''عمر کے توسط ابوبکر کی بیعت'' کے ذریعہ ثابت کیا ہے؛ اس ادعا کے ساتھ کہ کسی بھی صحابی نے اس بیعت کی مخالفت نہیں کی ۔(١٢)
قرطبی کے قول میں تعجب خیز نکتہ یہ ہے کہ ایک آدمی کی رائے پر صاحبان حل و عقد کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے ؟ دوسری طرف یہ کہ ایک آدمی کی رائے کو قانونی دلیل کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ؟تیسری بات یہ ہے کہ صحابہ کی مخالفت نہ کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے کیوں کہ تاریخ کی اس واقعیت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ صحابۂ کرام کی ایک قابل توجہ جماعت جیسے سلمان ، ابوذر مقداد اور ان سب سے بڑھ کر امیر المومنین اور بنی ہاشم خلافت ابو بکر سے متعلق عمر کے نظریہ کے مخالف تھے ؟۔
طبری نے مفصل طور پرصحابہ کی ان مخالفتوں کا تذکرہ کیا ہے جو ابو بکر کے انتخاب کے وقت وجود میں آئی تھیں ،اسی ضمن میں عمر اور قبیلہ خزرج کے سردارسعد بن عبادہ کے درمیان ہونے والی ہاتھا پائی کو بھی بیان کیا ہے اور اسی طرح عمر اور حباب بن منذر کے درمیان ہونے والی جھڑپ کا تذکرہ بھی کیا ہے ۔(١٣)

نظریۂ انتخاب کے ماننے والوں کی بعض دلیلوں پر ایک نظر:
اہل سنت کے بعض مصنفین نے قرآن مجید کی بعض آیتوں سے استناد کرتے ہوئے یہ گمان کیا ہے کہ امام کا انتخاب لوگوں کی ذمہ داری ہے انھیں آیتوں میں سے ایک آیت یہ ہے :''آپ خدا کی رحمت کی وجہ سے ان پر لطیف و مہربان ہیں اگر آپ سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے اطراف سے تتر بتر ہوجاتے پس آپ انھیں بخش دیجئے اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ کیجئے اور جب بھی آپ ارادہ کریں تو اللہ پر بھروسہ کریں یقینا اللہ بھروسہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ''۔۔(آل عمران ١٥٩)
صاحب تفسیر المنار ''رشید رضا'' نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ مذکورہ آیت اور سیاست امت معاشرے کے لئے رہبر کے انتخاب کے مسئلہ کے درمیان ارتباط پیدا کرے اوراس کی آڑ میں اس بات کی بھی کوشش کی ہے کہ خلفائے ثلاثہ کے انتخاب کے طریقوں پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دے ، کیوں کہ ان میں سے کسی کا انتخاب امت مسلمہ کے مشورے سے نہیں ہوا تھا۔(١٤)
مذکورہ آیۂ کریمہ سے مضموناً مشابہ ایک اور آیت یہ ہے:''وہ لوگ جنہوں نے اپنے پروردگار کی دعوت پر لبیک کہا اور نماز ادا کی اور ان کے کام مشورہ کی صورت میں ان کے درمیان ہیں اور جو کچھ بھی انہیں دیا گیا ہے اس میں سے انفاق کرتے ہیں ''۔(شوریٰ٣٨)
مذکورہ آیتوں میں سے کوئی بھی آیت ایسی نہیں ہے جس کا رابطہ اس بات سے ہوکہ جانشین پیغمبرکا انتخاب لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور ان میں سے کسی بھی آیت نے معاشرے کے امام کے انتخاب کو لوگوں کے حوالے نہیں کیا ہے جس کے چلتے مکتب خلفاء کے پیروکار اس طرح کی آیتوں کو دلیل کے طور پر پیش کریں اور پیغمبراکرم کے بعد کی حکومتوں کی توجیہ کرسکیں ۔
ان تمام دلیلوں کی ایک اہم ترین مشکل یہ ہے کہ ان کے قائلین نے یہ فرض کرلیا ہے کہ امام کی تعیین لوگوں کے حوالے کی جاسکتی ہے جبکہ امام کا انتخاب لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے اور ان کے دائرۂ امکان سے خارج ہے اور امام کا انتخاب صرف اور صرف خدا وندمتعال کرسکتا ہے اس انتخاب اور تعیین کے مسئلہ میں پیغمبراکرم کو بھی کسی طرح کا اختیار حاصل نہیں ہے ،مکتب خلفاء کے مدافع حضرات نے بھی اس بات کو مانا ہے کہ ولایت وحکومت کاحق صرف اللہ کو ہے لہٰذا لوگوں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس سے متعلق امور میں دخالت کریں ،فخر رازی آل عمران کی آیت١٥٩ کے ذیل میں لکھتے ہیں :''تمام علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ جن موارد میں وحی الٰہی نازل ہوگئی ہے پیغمبراکرم کو لوگوں سے مشورہ کرنے کا حق نہیں ہے اس لئے کہ نص کے ہوتے ہوئے رائے اور قیاس باطل ہے ''(١٥)
رشید رضا نے بھی اس آیت کے ذیل میں لکھا ہے کہ اس آیہ کریمہ میں امر سے مراد دنیاوی امور ہیں کہ جنہیں حاکم انجام دیتے ہیں نہ کہ امر دینی کہ جس کی بنیاد وحی الٰہی ہے ،اور اس سے مراد لوگوں کے نظریات بھی نہیں ہیں کیوں کہ اگر عقائد ، عبادات ،حلال و حرام جیسے امور لوگوں کے مشوروں سے طے کئے جائیں تو دین الٰہی بشری معاہدہ اور قرارداد بن کر رہ جائے گا۔(١٦)
جناب آلوسی نے بھی اس سلسلہ میں تحریر فرمایا ہے کہ مشورہ صرف انہیں امور میں جائز ہے جن کے متعلق نص شرعی موجود نہ ہوں کیوں کہ نص کے ہوتے ہوئے مشورہ کا امکان نہیں ہے کیوں کہ کسی بھی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ حکم الٰہی کو چھوڑ کر بشری مشورہ پر عمل کرے ۔(١٧)
مندرجہ بالا نکات پر غور کرنے اور تاریخ اسلام کے مطالعے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ پیغمبراکرم نے خلافت اور اپنی جانشینی کے مسئلہ کو الٰہی امورکے ضمن میں قرار دیتے ہوئے خود کو فرمان خدا کا تابع بتایاہے مثلاً سیرۂ ابن ہشام میں آیا ہے کہ جب پیغمبر نے قبیلۂ بنی عامر کو اسلام کی دعوت دی تو اس قبیلے کے سردار نے آنحضرت ۖکی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کی نظر میں اگر ہم آپ کی اس حکومت کے سلسلہ میں بیعت کریں پھر خدا آپ کو آپ کے دشمنوں پر کامیاب کردے تو کیا یہ حکومت آپ کے بعد ہم کو ملے گی؟پیغمبرنے جواب میں فرمایا:میرے بعد اللہ سے مربوط ہے اور خود وہی جیسے چاہے گا مقررفرمائے گا۔(١٨)
ایک دوسری روایت میں نقل کیا گیا ہے کہ پیغمبراکرمۖ نے ایک خط یمامہ کے مسیحی حاکم کو لکھاجس کا نام ھوزہ بن علی الحنفی تھا، اسے اسلام کی دعوت دی ،اس نے آنحضرت کے خط کے جواب میں لکھا: آپ جس چیز کی طرف بلا رہے ہیں وہ بہت ہی حسین اور بے نظیر ہے ، میں اپنی قوم کا شاعر اور خطیب ہوں اور اہل عرب بھی میرے لئے ایک مقام کے قائل ہیں لہذا آپ حکومت کا کچھ حصہ مجھے عطا فرمادیجئے تاکہ میں آپ کی پیروی کروں۔
پیغمبراکرم نے اس خط کو پڑھنے کے بعد فرمایا: اگر وہ مجھ سے ایک کچا خرما بھی مانگتا تو بھی میں اسے نہ دیتا۔(١٩)

امام کے تعین کی کیفیت صحابہ کی نظر میں:
باوجود اس کے کہ مکتب خلفاء کے پیروکار اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ امام کے تعین کا حق عوام کو ہے لیکن انہیں کے تاریخی منابع کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ان کے بزرگ صحابہ اس بات پر بالکل اعتقاد نہیں رکھتے تھے کہ امام کا تعین عوام کا حق ہے بلکہ وہ نظریۂ انتصاب کے ماننے والے تھے ، فرق اتنا ہے کہ شیعہ جس نظریۂ انتصاب کو مانتے ہیں اس میں امام کا انتصاب خدا کے حکم سے ہوتا ہے اور پیغمبر صرف مبلغ کی حیثیت رکھتے ہیں ،مگر بعض صحابہ کے عقیدے کے مطابق انتصاب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک امام اپنے بعد والے امام کا تعارف کرائے ، یہ نظریہ بھی نظریۂ انتخاب کے مخالف ہے ؛اب یہاں پر اس کے چند نمونے پیش کئے جارہے ہیں :
الف: ابوبکر کا جانشین پیغمبرکے عنوان سے تعین عمر کی مخفی اور اعلانیہ کوششوں کی وجہ سے ہوا ،حقیقت میں عمر کی بیعت نے ابوبکر کو خلیفہ بنایا جیسا کہ اس سے پہلے اس بات کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے کہ اہل سنت کے بعض دانشوروں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ابوبکر کی خلافت کی دلیل بیعت عمر ہے اور اکیلے عمر پر بھی صاحبان حل و عقد کا اطلاق ہوتا ہے ۔(٢١)اور افکار عمومی کی طرف رجوع نہ کر نے کی توجیہ میں عمر کا وہ قول نقل کرتے ہیں جس میں آپ نے کہا تھاکہ ''ابو بکر کی بیعت ایک غلطی تھی''(٢٢) اور پھر اس حکومت کی مشروعیت کو ثابت کرنے کے لئے امت اسلامی کے درمیان کے اختلاف کو برطرف کرنے کے لئے عمر کی فکر مندی کو بہانہ بناتے ہیں (یعنی کہتے ہیں کہ عمرنے اس حکومت کے دوران امت کے اختلاف کو برطرف کرنے کی تمام تر کوشش کی )(٢٣)
ب:عمر کو خلیفہ منتصب کرنا : یہ بات بالکل واضح ہے کہ عمر ابوبکر کی طرف سے خلیفہ معین ہوئے اور خلیفۂ اول نے باقاعدہ سرکاری طور پربغیر اس کے کہ عمومی طور پر مسلمانوں سے مشورہ کرتے، عمر کو اپنا جانشین بنایا؛ اس تاریخی حقیقت نے مکتب خلفاء کے بعض طرفداروں کو توجیہ پر مجبور کیا ؛رشید رضا نے یہاں بھی یہ توجیہ کی ہے کہ اگر ابو بکر نے عمر کو خلیفہ نہ بنایا ہوتا تو امت مسلمہ کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ۔(٢٤)
عبد اللہ بن عمر نے عمر کی موت سے کچھ روز قبل ان سے کہا:لوگوں کا یہ خیال ہے کہ آپ اپنا جانشین معین نہیں کریں گے !اگر آپ کچھ اونٹ اور بھیڑ بکریوں کے چرواہے ہوتے تو کیا ان کے حال پر چھوڑ دیتے؟ نہیں آپ اس کام کو ان کے ضائع ہونے کے مترادف سمجھتے، لہٰذا اس وقت لوگوں کی فکر کرنا زیادہ ضروری ہے۔(٢٥)
ج: عمر کی جانب سے چھ افراد پر مشتمل شوریٰ کی تشکیل : یہ بھی انتصاب کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے ،کیوں کہ عمر نے کسی معین شخص کو اپنا جانشین بنانے کے بجائے خلیفہ کو چھ معین افراد میں محدود کردیا دوسری طرف سے وہ چھہ افراد انہیں کی طرف سے منصوب تھے ،انہوں نے اس گروہ کا انتخاب کرتے وقت لوگوں سے مشورہ نہیں لیا تھا ۔
حکم خدا سے پیغمبرکے ذریعہ ائمہ کا انتصاب: شیعوں کا اعتقاد ہے کہ پیغمبراکرم نے وضاحت کے ساتھ اپنے بعد مسلمانوں کے بارہ خلیفہ اوراماموں کے نام بیان کئے ہیں اور اس سلسلہ میں متعدد روایتیں شیعہ اور سنی منابع میں موجود ہیں ۔
یہ روایتیں مختلف عبارتوں کے ساتھ وارد ہوئی ہیں جیسے خلفاء بعدی اثناعشر، الائمة بعدی اثناعشر ،الامراء بعدی اثناعشر،اور ان روایات میں سے ایک بہت ہی مشہور روایت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : جب تک بارہ خلیفہ رہیں گے تب تک دین اسلام عزیز رہے گا۔(٢٦)
مذکورہ روایت سے مربوط ایک سوال یہ ہے کہ پیغمبر اکرم کے بعد خلفاء کی تعداد بہت زیادہ ہے، خلفاء راشدین سے لے کر بنی امیہ ، بنی مروان اور بنی عباس سبھی اپنے آپ کو خلیفۂ رسول کہتے تھے ،پس پیغمبراکرۖ م نے کن بارہ افراد کے بارے میں فرمایا ہے کہ جب تک وہ رہیں گے اسلام عزیز رہے گا ؟۔
مکتب خلفاء کے پیروکاروں کے سامنے یہاں دو مشکلیں ہے : پہلی مشکل یہ ہے کہ پیغمبراکرمۖ کے بعد خلافت کے مدعی بارہ افرادسے زیادہ ہیں ۔دوسری مشکل یہ ہے کہ ان میں سے بعض خلفاء ایسے تھے جو ایک شائستہ مومن کے خلیفہ بننے کے لائق نہیں تھے، جانشینی پیغمبرتو بہت دور کی بات ہے۔ خصوصاً اگر ہم اس بات کی طرف توجہ دیں کہ مذکورہ روایت میں پیغمبراکرم نے ان بارہ افراد کی مدح کی ہے تو معلوم ہوگا کہ پیغمبر کے بعد آنے والا ساتواں خلیفہ یزید ہوگا کہ جس نے اپنی حکومت کی سہ سالہ مدت میں تین ایسی جنایتیں انجام دیں جن سے تاریخ کے اوراق سیاہ ہیں ؛امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و انصار کا قتل ،خانۂ کعبہ پر حملہ اور واقعۂ حرہ اور مدینہ کے لوگوں کا قتل عام ۔
اسی وجہ سے اہل سنت کے بعض محققین بارہ خلیفہ کی تعیین کے مسئلہ میں متحیر رہ گئے ۔سیوطی نے مذکورہ روایت اور اس سے مشابہ روایتوں کی توجیہ و تفسیر میں مختلف علماء کے اقوال کو پیش کیا ہے :مثلاً قاضی عیاض سے یوں نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ شاید اس حدیث اور اس کے جیسی حدیثوں میں بارہ خلفاء سے مراد وہ خلفاء ہیں جن کے زمانے میں دین اسلام قوی اور عزیز تھا اور ان کی حکومت مناسب تھی، لوگ ان کے موافق تھے اور اس طرح کے شرائط اموی خلیفہ ولید بن یزید کے زمانے تک تھے یعنی اموی حکومت کے خاتمہ تک ۔(٢٧)
قاضی عیاض کے جملوں سے اس بات کا اندازہ لگتا ہے کہ ان کی نظر میں پیغمبراکرم کا بارہواں خلیفہ ولید بن یزید تھا لیکن اس تعداد میں چند نکات قابل غور ہیں؛ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ انھوں نے ان خلفاء کے لئے جو شرائط بیان کئے ہیں وہ ان میں سے بعض سے مطابقت نہیں رکھتے جیسے یزید بن معاویہ ۔
دوسری بات یہ ہے کہ قاضی صاحب نے بنی عباس کو شمار نہیں کیا ہے جبکہ ان میں سے بعض قدرت و اقتدار کے لحاظ سے بنی امیہ کے تمام خلفاء سے بہتر تھے ۔
ابن عربی نے سنن ترمذی کی شرح میں اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ''ہم نے پیغمبر کے بعد کے خلفاء کو اس طرح سے شمار کیا ہے ؛ابو بکر ، عمر عثمان ، علی، حسن، معاویہ ، یزید ، معاویہ بن یزید مروان ، عبدالملک بن مروان، ولید، سلیمان ، عمر بن عبدالعزیزو... ''۔
وہ اس تعداد کو آگے بڑھاتے ہیں یہاں تک کہ ستّائیسویں عباسی خلیفہ تک پہنچتے ہیں کہ جس کے زمانے میں خود ابن عربی موجود تھے ،وہ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پیغمبر کے مطمع نظر بارہ خلفاء کو معین کریں تو ظاہری اعداد و شمار کے اعتبار سے اور بغیر کسی خصوصیت کو مدنظر رکھے ہوئے بارہواں خلیفہ سلیمان ہوگا اور اگر معنوی خصوصیات کو نظر میں رکھتے ہوئے شمار کریں تو پانچ خلفا کی طرف صرف اشارہ کیا جاسکتا ہے یعنی پہلے چار خلفاء اور پانچواں عمر بن عبدالعزیز ، ابن عربی آخر میں لکھتے ہیں ''ولم اعلم معنی الحدیث ''میں حدیث کے معنی نہیں سمجھ پایا ۔(٢٨)
مگر شیعہ اس حدیث کی تفسیر خود پیغمبر اکرم کی احادیث سے کرتے ہیں کہ جن میں سے بعض میں خود پیغمبراکرم نے بارہ خلفاء کو نام بنام پہچنوایا ہے ،تقریباً پیغمبراکرم کی پچاس روایتیں ایسی ہیں جن میں بارہ خلفاء کو نام بنام پہچنوایا گیا ہے اور پیغمبراکرم نے اپنے مطمع نظر بارہ خلفاء کی معرفی میں کسی طرح کا ابہام نہیں رکھا۔(٢٩)
امام جوینی شافعی نے اپنی کتاب فرائد السمطین میں ابن عباس کے حوالے سے پیغمبراکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:''ان سید النبیین وعلی بن ابی طالب سید الوصیین وانّ اوصیائی بعدی اثنا عشر اولھم علی بن ابی طالب وآخرھم مہدی ''نیز اسی کتاب میں ایک دوسری سند کے ساتھ جوینی نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:''انا وعلی والحسن والحسین وتسعة من ولد الحسین مظہرون معصومون''۔(٣٠)
آخر میں اس بات کی طرف اشارہ ضروی ہے کہ امام کے شرائط اور اس کے صفات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے اتنے شرائط اور صفات کے حامل امام کو منتخب کرنا عوام کے بس کی بات نہیں،تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں لوگوں نے اس عظیم ذمہ داری کو اپنے ہاتھوں میں لیا وہاں ناشائستہ افراد امام کی صورت میں ظاہر ہوئے ۔

نتیجہ:
اس پورے مضمون سے مندرجہ ذیل نتائج نکلتے ہیں :
١۔شیعوں کی نظر میں امام ،خدا کی طرف سے ولایت تکوینی اور خلافت الٰہیہ کا حامل ہوتا ہے۔
٢۔ اہل سنت کی نظر میں امام کا تعیّن اہل حل و عقد کے ذریعہ ہے ۔
٣۔ عہدۂ امامت کے انتخابی ہونے کو مشورہ والی آیات سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ امام کا انتصاب خدا کے ہاتھ میں ہے اور بشری دائرۂ امکان سے خارج ہے ۔
٤۔متعدد روایات میں پیغمبراکرم نے اپنے بارہ خلفاء کا ناموں کے ساتھ تعارف کرایا ہے ۔

حوالہ جات:
١۔سید شریف جرجانی ، التعریفات،ص١٦۔ سید مرتضیٰ ،رسائل الشریف المرتضیٰ،ج٢،ص٢٦٤۔
٢۔ محمد حسین طباطبائی،المیزان ، ج١،ص٢٧٢۔
٣۔ انّ ھذا لھوالبلا ؤ المبین ۔صافات١٠٦۔
٤۔ جیسے سورۂ ابراہیم کی آیت٣٩۔ اور سورۂ مریم کی آیت٨
٥۔مائدہ٦٧۔
٦۔محمد ،غزالی،الاقتصاد فی الاعتقاد،ص٥٠٥۔
٧۔عبدالرحمٰن بن احمد عضد الدین ایجی ، المواقف، ج٣،ص٥٧٨ ۔تفتازانی ،مسعود بن عمر ،شرح المقاصد ،ج٢،ص٢٧١۔
٨۔معجم الباقلانی فی کتبہ الثلاث ؛التمہید ، الانصاف ،االبیان،ص٦٠۔
٩۔سعد الدین ،تفتازانی، شرح عقائد نسفیہ ،ص١٥٨۔
١٠۔محمد باقر مجلسی ، بحار الانوار ،ج٤٤،ص٣٨٢۔
١١۔ماوردی،علی بن محمد ،الاحکام السلطانیہ والولایات الدینیة،ص٢٣۔
١٢۔الجامع لاحکام القرآن،ج١،ص٢٦٩۔
١٣۔طبری ،تاریخ طبری،حوادث سال ١١ھ،ج٢،ص٢٤٤۔
١٤۔رشید رضا ، تفسیرالمنار،،ج٤،ص١٩٩۔٢٠٥۔
١٥۔فخر رازی،مفاتیح الغیب،ج٩،ص٤٠٩۔
١٦۔ رشید رضا ، تفسیرالمنار،،ج٤،ص٢٠٠۔
١٧۔محمود آلوسی،روح المعانی فی تفسیر القرآن القرآن العظیم ،ج١٣،ص٤٧۔
١٨۔ابن ہشام ،السیرة النبویة،ج٢،ص٢٧٢۔
١٩۔ابن سعد ،الطبقات الکبریٰ،ج١،ص٢٦٢۔
٢١۔قرطبی الجامع لاحکام القرآن ، ج١،ص٢٦٩۔
٢٢۔مسند احمد بن حنبل ،ج١،ص٥٥۔صحیح بخاری، ج٦،ص٢٥٠٣۔ متقی ھندی، کنز العمال ،ج٥،ص٦٩٤۔
٢٣۔رشید رضا ، تفسیرالمنار،،ج٤،ص٢٠٢۔
٢٤۔رشید رضا ، تفسیرالمنار،،ج٤،ص٢٠٣۔
٢٥۔محمد بن الفتوح الحمیدی ،الجمع بین الصحیحین ،البخاری والمسلم ،ج١،ص٢٥۔ابو بکر احمد بن الحسین بن علی البیہقی ،السنن الکبریٰ وفی ذیلہ الجوہر النقی ،ج٨،ص١٤٨۔
٢٦۔احمد بن حنبل،مسند،ج٥،ص٩٠۔سنن ابی دائود ،ج٤،ص١٧٢۔ صحیح مسلم ،ج٦،ص٣۔
٢٧۔سیوطی ،عبدالرحمٰن ابن ابی بکر ،تا۔
٢٨۔شرح ابن عربی بر سنن ترمذی ،ج٩،ص٦٨،٦٩، نقل از علامہ سید مرتضیٰ عسکری،معالم المدرستین، ج١،ص٥٣٣۔
٢٩۔لطف اللہ صافی گلپائگانی،منتخب الاثر ،ص٩٧،قم مکتبہ دائودی ،ج سوم۔
٣٠۔ مذکورہ دو روایتیں فرائد السمطین کے خطی نسخے میں موجود ہے جو تہران کے مرکزی کتب خانے میں موجود ہے ۔

مقالات کی طرف جائیے