مقالات

 

یادوں کے اجالے (مولانا سید احمد حسن صاحب مرحوم)

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

پھر نظر میں پھول مہکے ، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام

علمائے حق و صداقت ، نبوت کے ورثہ دار ہوتے ہیں ، جس کی واضح دلیل ''العلما ء ورثة الانبیائ'' ہے، یہ علماء معاشرے میں کردار اور مقصد نبوت کے رسوخ کی مخلصانہ جد و جہد کرتے ہیں ، ان کی نظرسیرت انبیاء پر ہوتی ہے اپنے ذاتی مفادات پرنہیں ۔ اسی لئے وہ کلمۂ حق کی سر بلندی کے لئے طاقت و اقتدار اور مخالفین کی لعن طعن سے بے خوف ہوکر خداو رسول کی رضایت و خوشنودی کے لئے تبلیغ دین اور ترویج اسلام کا فریضہ انجام دیتے ہیں، وہ چند روزہ دنیاوی زندگی میں اپنی پذیرائی سے زیادہ آخرت کی سعادتوں کے لئے فکر مند ہوتے ہیں۔
سرکار استاذی العلّام حضرت حجة الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید احمدحسن صاحب قبلہ (صدر جامعہ جوادیہ و زعیم جامعہ ایمانیہ بنارس) ایسے ہی علمائے حق کی نمایاں فرد تھے جو اپنی وسعت مطالعہ اور نئی فکر کے علمبردار کی حیثیت سے علمی دنیا میں ایک خاص مقام کے حامل تھے ،ان کی زندگی اور زندگی کے عادات و اطوار صحیح معنوں میں سیرت انبیاء کا نمونہ تھے ، ان کی شخصیت ہمہ رنگ اور ہمہ جہت تھی ، اس شخصیت میں کتنے کمالات کی جلوہ گری تھی اور یہ شخصیت علم و فن اور دریا بندیٔ افکار کا کیسا مجموعہ تھی اس کا احصا ء کرنا دشوار ہے ۔ پرت در پرت شخصیت ایک گلدستہ تھی رنگ برنگ شاداب ، خوشنما اور خوشبودار پھولوں کا۔ اس گلدستہ کاہر پھول جان بہاراں اور جاذب نظر تھا ، جس کی عطر آگینی سے محفلیں معطر ہوجاتی تھیں ، اخلاص و مروت شعار تھا اور حسن اخلاق وطیرہ ۔وہ بیک وقت رجالی بھی تھے اور سیرت نگار بھی ، معلم بھی تھے اور مربی بھی، متکلم بھی تھے اور مبلغ بھی ، فقیہ بھی تھے اور مورخ بھی ، مصنف بھی تھے اور خطیب بھی ،قومی کارکن بھی تھے اور شاعر بھی۔
اٹھائے کچھ ورق لالہ نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
موت سے کسی کو راہ فرار نہیں ، مرنے والا اپنے بعد چاہنے والوں کی آنکھوں میں آنسو اور دل میں یادیں چھوڑ جاتاہے ، وہ بھی اپنی موت کے بعد ہر آنکھ میں آنسوئوں کے موتی چھوڑ گئے اور ہر دل میں سوگواری کا عطیہ دے گئے ، ان کی عزت و عقیدت ، قوم کے سینے میں بہت گہرائی تک پہونچی ہوئی تھی ، اسی لئے ان کے عقیدت مندوں کا احصاء کرنا ناممکن ہے ، ان کے عقیدت مندوں کی طویل قطار میں ناچیز بھی اپنی تمام تر عقیدت کے ساتھ کھڑا ہے ۔
لیکن دوسروں کی بہ نسبت میرے تاثرات اور میرے دل کی کیفیات ذرا مختلف ہیں ، میرے فکر و احساس اور دل کے نہاں خانوں میں ان کی یادوں ، یادداشتوں ، شفقتوں اور مہربانیوں کے کچھ اَن گنت لمحے اس طرح جگمگارہے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے اور آنکھوں سے نمکین پانی ٹپکنے لگتے ہیں ۔زیر نظر مضمون میں دل و دماغ کے روزن سے ان یادوں اور شفقتوں کو صفحۂ قرطاس پر اتارنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ شاید دل مضطر کو قرار آجائے۔

بہترین استاد
ایک استاد کا اپنے شاگرد کے ساتھ اور ایک شاگرد کا اپنے استاد کے ساتھ بہت گہرا ربط ہوتاہے ، ایک اچھا شاگردوہ ہے جو اپنے استاد کی تمام چھوٹی بڑی باتوں پر عمل کرے،اسی طرح ایک اچھا استاد وہ ہے جو شاگرد کی شخصیت سازی کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے ؛ اس لئے کہ طالب علمی کا ابتدائی دور انتہائی اہم ہوتاہے ، اس دور میں انسان کا ذہن و شعور بالیدہ اور پختہ ہونا شروع ہوتاہے ،ایسے میں اگر کوئی لائحہ عمل تیار نہ کیاجائے یا بہترین راہنمائی نہ کی جائے تو طالب علم کا''حال '' تو انتہائی بے کیف اور کسی حد تک بیکار گزرتا ہی ہے اس کا ''مستقبل''بھی داؤ پر لگ جاتاہے ۔
خشت اول چوں نھد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
ایک اچھا استاد ،طالب علم کی اسی ضرورت کو محسوس کر کے اس کی شخصیت کے نقائص کو دور کرتاہے تاکہ اس کی شخصیت نکھر سکے ، نیز وہ ہنستے ہنساتے اہم اور دقیق مطالب ذہن میں اتارنے کی کوشش کرتاہے تاکہ افہام و تفہیم کی منزلیں آسان ہوسکیں۔
استاذعلام مولانا سید احمدحسن صاحب قبلہ کی تدریسی زندگی کا اگر سرسری جائزہ بھی لیاجائے تو معلوم ہوگا کہ آپ ایک بہترین اور نمونۂ عمل استاد تھے ، وہ ایک طالب علم کی ضرورتوں کو خوب سمجھتے تھے ، بیٹھے بیٹھے طالب علم کی ذہنی سطح کو پڑھ لیتے تھے اور پھر اسی اعتبار سے مطالب بیان کرتے تھے ۔اگر چہ ان کی پروقار شخصیت کے پیش نظر نگاہیں زیادہ دیر تک ان کے چہرے پر نہیں ٹھہرتی تھیں لیکن جب مطالب بیان کرتے تھے تو انداز بیان اتنا سحر انگیز ہوتاتھا اور مطالب اتنے دلنشیں ہوتے تھے کہ ہم پوری طرح کھوسے جاتے تھے اور درس کے وقت نگاہیں ان کے چہرے سے ہٹنے کا نام نہیں لیتی تھیں؛ ممکن ہے بعض لوگ اسے مبالغہ آرائی پر محمول کریں لیکن میری ذاتی کیفیت یہی تھی جسے میں نے بیان کیا۔
استاذ علام کی استادانہ اور معلمانہ زندگی قابل غور ہی نہیں بلکہ لائق تقلید بھی ہے ، وہ اپنے شاگردوں کو صرف نصاب کی کتابیں پڑھانے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری بھی ادا کرتے تھے ، معاشرے کی ضرورتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے پیش نظر صحیح طریقۂ کار اور اقدامات کی توضیح و تشریح فرماتے تھے ۔ مجھے یاد ہے نجم الافاضل (اول ) کے درجہ میں نہج البلاغہ(حکم ) ان کے پاس تھی ، ہم لوگ مدرسہ ایمانیہ پہونچے اور ان کے آفس میں انتظار کرنے لگے ، آپ ذرا تاخیر سے آئے ، آتے ہی سلام کے بعد کتاب کھولنے اور امام علیہ السلام کے پہلے جملہ کی قرائت کا حکم دیا۔تعمیل حکم کے بطور ہم نے ٹھہر ٹھہر کے جملے کی قرائت کی :کن فی الفتنة کابن اللبون لا ظھر فیرکب و لا ضرع فیحلب ۔
آپ نے پہلے تو اس مختصر سے جملے کا ترجمہ کیا پھر اس کی وضاحت شروع کی : فتنہ کی تعریف ، فتنہ کے اقسام ، معاشرے کی حالت زار ، معاشرے میں زندگی گزارنے والے '' مہین '' لوگوں کے سخت اور ناقابل فہم اقدامات ، پھر ان اقدامات سے بچنے کا طریقۂ کار ۔آپ نے یہ تمام مطالب امام علیہ السلام کے اس مختصر سے جملے کے ذیل میں بیان کئے ۔ تقریباً ٤٠ منٹ کے بعد گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا : وقت ختم ہوگیا ورنہ امام علیہ السلام کے اس کلام گہر بار میں ابھی بہت سے مطالب موجود ہیں ۔ پھر آخر میں فرمایا:اگر امام علیہ السلام کا یہ فقرہ ملحوظ خاطررکھا جائے تو کوئی بھی فتنہ انسان کو نقصان نہیں پہونچا سکتا۔
یقین جانئے چالیس منٹ کے اس پہلے سبق کے اثرات آج بھی میرے ذہن و دل پر موجود ہیں، یہ ایک سبق میرے لئے نہج البلاغہ سے آشنائی کے سلسلے میں خشت اول کی حیثیت بھی رکھتا ہے ۔ ایسے ہی اساتذہ کے متعلق شاعر نے کیا خوب کہاہے :
اک معلم ہی تو عرفان خدا دیتاہے
فرد کو نفس کی پہچان کرادیتاہے
اچھے استاد کی خصوصیتوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ طلباء کی ہمت افزائی کرے ، اس کی ذہانت کی داد دیتارہے ، اس کے قابل تحسین افعال کی ہمت افزائی اور توصیف و تعریف کرتارہے تاکہ طلبہ میں مزید لگن اور جوش کا جذبہ پیدا ہو اور آئندہ اپنے کیریرکی تعمیر میں کارہائے نمایاں و احسن انجام دینے کی کوشش کریں۔
استاذ علام میں یہ خصوصیت بدرجۂ اتم موجود تھی ،وہ اپنے شاگردوں کی حوصلہ افزائی کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں فرماتے تھے ، آپ کی حوصلہ افزائی کے کچھ لمحے مجھ ناچیز سے بھی وابستہ ہیں ، اس مختصر سے مضمون میں بطور نمونہ صرف ایک واقعہ نقل کیاجارہاہے :
''والد علام حضرت ادیب عصر مولانا سید علی اختررضوی طاب ثراہ کے انتقال کے بعد میں نے ان کے آثار اورکارناموں کو پایۂ تکمیل تک پہونچانے کا ارادہ کیاجن میں سر فہرست ترجمہ الغدیر تھا ؛ والد علام نے الغدیر کی ساری جلدوں کا ترجمہ کرڈالا تھا لیکن سوئے اتفاق کہ ایک سفر کے دوران اس کی دو جلدیں چوری ہوگئیں ، میں نے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں الغدیر کی غائب شدہ دو جلدوں کا ترجمہ کیا تاکہ الغدیر کا یہ دورہ ( نصاب ) مکمل ہوجائے ۔ اشاعت سے قبل میں نے علمائے اعلام سے رابطہ قائم کیا اور والد علام کے متعلق اپنے تاثرات قلم بند کرنے کی گزارش کی ۔برادر عزیز مولانا عروج جونپوری صاحب کے ذریعہ استاذ علام سے بھی کہلوایا لیکن تقریباتین مہینے گزر گئے ان کا مضمون دستیاب نہیں ہوا ۔ مجھے بہت تشویش ہوئی ۔ قم سے فون پر رابطہ قائم کیا ، انہوںنے فون اٹھایا ، اس وقت تنفس کی بیماری کافی شدت اختیار کرچکی تھی ، ہانپتے ہوئے فون پر ہیلو کہا ، آواز سن کر مجھے بہت افسوس ہوا ، کیوں زحمت دی ۔ میں نے کہا: حضور! ذرا آرام کرلیں ، لگتا ہے باہر سے جلدی میں آئے ہیں اسی لئے سانسیں ناہموار ہیں ۔ فرمایا : نہیں بیٹا!بس بستر سے فون کے پاس آنے میں یہ حالت ہوئی ہے ۔ بہرحال رسمی باتوں کے بعد میں نے الغدیر کی روداد سنائی اور آخر میں شاکی لہجے میں کہا: آپ کا مضمون ابھی تک دستیاب نہیں ہوا ، میں نے عروج صاحب سے کہلوایا... یہ سنتے ہی بھڑک اٹھے : کیوں آپ نے کیوں نہیں کہا، مجھ سے آپ کی کوئی ذاتی دشمنی ہے ، پھر لہجہ نرم کرتے ہوئے کہا: بیٹا !عروج صاحب مصروف آدمی ہیں ، انہوں نے ایک مرتبہ تذکرہ کیاتھا ، لیکن میرے ذہن سے نکل گیا ، کچھ دن رک جائیے ، میں لکھ دوں گا ۔ فون رکھنے سے قبل میں نے آہستہ سے کہا: حضور ! بغرض تکمیل میں نے دو غائب شدہ جلدوں کا ترجمہ کیاہے اگر مناسب سمجھیں تو اس کا بھی تذکرہ کردیجئے گا ۔ یہ سن کر بہت خوش ہوئے ، بہت دعائیں دیں اور فارسی کا یہ مصرعہ دہرایا :
پدر نتواند پسر تمام کند
آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ جس مضمون کے لئے میں نے تین مہینے انتظار کیاتھا اور تقریباً مایوس ہوچکا تھا وہ مضمون دوسرے دن نیٹ کے ذریعہ سے میرے پاس بھیجوادیا ۔ مضمون دو صفحہ پر مشتمل تھا ، مجھ ناچیز کی حوصلہ افزائی کے لئے آپ نے آخر میں جو جملے تحریر فرمائے تھے، وہ یہ ہیں:
'' مرحوم کے لائق فرزند مولانا سید شاہد جمال سلمہ جو فی الحال قم میں مشغول تحصیل علم ہیں ، اپنے باپ کی طرح نیک واقع ہوئے ہیں ، سلمہ نے اپنی مقدور بھر کوشش کرکے الغدیر کی غائب شدہ جلدوں کا ترجمہ کیاہے ، ترجمہ نامعلوم کیسا ہے لیکن اس عمر میں ان کا حوصلہ یقینا قابل قدر ہے ، خداوندعالم انہیں صحت و سلامتی کے ساتھ باقی رکھے تاکہ وہ اپنے والد مرحوم کی خدمات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں''۔
ممکن ہے ایک عام قاری کے لئے متذکرہ جملوں میں حوصلہ افزائی کا کوئی پہلو نظر نہ آئے ، لیکن جو لوگ استاذی العلام کے انداز و اطوار سے واقف ہیں وہ میری اس بات کی تائید و تصدیق کریں گے کہ ان چند جملوں میں ہمت افزائی کے بہت سے زاوئیے موجود ہیں ، در اصل استاد محترم تحریر و تقریر دونوں ذریعۂ ابلاغ میں حقیقت بیانی سے کام لیتے تھے ، ملمع کاری اور جھوٹی تعریفوں سے کوسوں دور تھے ۔ ظاہر ہے آپ نے میرا ترجمہ نہیں دیکھا تھا ، آپ اس کی خوبیوں اور خامیوں سے واقف نہیں تھے؛ اسی لئے آپ نے صرف حوصلہ اور جوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے میری حوصلہ افزائی فرمائی ۔جس کی چاشنی میں اپنی زندگی میں آج بھی محسوس کرتاہوں اور کرتارہوں گا ۔

منبر رسول کا خطیب
ایک خطیب اپنی خطابت میں ہیئت ، موضوع اور الفاظ و معانی کے ساتھ ساتھ سامعین کے فہم و فراست کو خاص طور سے ملحوظ رکھتاہے ، اگر متذکرہ باتوں کا خیال نہ رکھاجائے تو کبھی کبھی مثبت باتیں ایسا منفی پہلو اختیار کرتی ہیں کہ برسوں سنبھالے نہیں سنبھلتے اور اصلاح و ترمیم کی ساری کوششیں ناکام ہوجاتی ہیں ؛ اسی لئے کہاگیاہے کہ خطابت انتہائی ذمہ دارانہ فن ہے۔
استاذعلام ایک ذمہ دار خطیب تھے ، ان کا طرز بیان نہایت سادہ اور آسان ہوتاتھا ، اپنا ما فی الضمیر سمجھانے میں سادہ اور عام فہم الفاظ استعمال کرتے تھے ، اپنی خطابت سے ان کا اولین مقصد یہ ہوتاتھا کہ منبر کے نیچے بیٹھا ہوا ہر کوئی ان کی بات کی تہہ تک پہونچ جائے ، اس مقصد کے حصول کے لئے آپ کبھی کبھی منبر سے ہی سے اپنا موضوع اور انداز بیان تبدیل کردیتے تھے جس کا احساس بعد میں ہوتو ہو، مجلس کے دوران کبھی نہیں ہوتاتھا ۔جامعہ جوادیہ کی اکثر سالانہ مجلسیں آپ خود خطاب فرماتے تھے ، لیکن زیادہ سے زیادہ سننے کے باوجود ان کی خطابت اور انداز بیان کی چاشنی کبھی کم نہیں ہوتی تھی ، چونکہ عام طور سے جامعہ جوادیہ کی مجلسیں علماء اور افاضل کے ایصال ثواب کے سلسلے میں منعقد ہوتی تھیں ، اس لئے اکثر ان کا موضوع علم ، علماء یا پھر کوئی اخلاقی پہلو ہوتاتھا اور ان موضوعات کے ذیل میں طلباء کی ذہنی سطح کو پیش نظر رکھتے ہوئے خطابت کے جوہر دکھاتے تھے۔ آپ کا بیان ہمیشہ مختصر ہوتا تھا تاکہ سامعین تھکن کے شکار نہ ہوں ۔
استاد محترم کی خطابت کا ایک رخ میں کبھی نہیں بھول سکتا ، آپ اپنی تقریر میں کبھی کبھی لفظ '' کاہے '' استعمال کرتے تھے ، موضوع کی مناسبت سے گرجدار آواز میں فرماتے تھے :'' کاہے کی جلدی ہے ''یا فرماتے: '' کا ہے کا نقصان ''...۔آپ کی زبان سے ایسے جملے سننے کے بعد بڑا لطف آتاتھا ، تمام طلباء ہمہ تن گوش ہوجاتے تھے ۔ اوائل طالب علمی میں اس طرح کے جملے سننے کے بعد میں سوچتا تھا کہ مولانا اپنی مجلس میں دیہاتی زبان کیوں استعمال کرنے لگتے ہیں لیکن بعد میں جب تھوڑی بہت اردو ادب سے آشنائی ہوئی اور میر انیس کو پڑھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ اس '' کاہے ''میں کتنی لطافت اور چاشنی پائی جاتی ہے۔
استاد محترم منبر رسول کی خطابت کے حوالے سے بہت زیادہ حساس تھے اور اس کا برملا اظہار بھی فرماتے تھے ، آپ نے اپنی تحریر و تقریر میں خطباء و ذاکرین اور ذاکرات کو یہ ذمہ داری محسوس کرانے کی کوشش کی ہے ؛ چنانچہ آپ اپنے ایک مضمون'' ذاکرات سے خطاب ''میں رقم طراز ہیں:
''ذکر اہل بیت کا منبر وہ مقام ہے جو ادنی کو اعلی ، کم تر کو برتر ، خرد کو بزرگ اور راہرو کو رہنما بنا دیتاہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذاکر ہو یا ذاکرہ اسے باعمل پرہیزگار اور ذی علم دیکھنا چاہتاہے ، ذکر اہل بیت کا منبر بے عمل واعظ ، جاہل مقرر ، یا غیر محتاط متکلم کو برداشت ہی نہیں کرسکتا ، اگر کوئی شخص ایسا ہے اور منبر پر بیٹھتاہے تو وہ غاصب ہے ، رسول اللہ نے ایک دن اصحاب سے بیان فرمایا کہ کل شب میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے منبر پر بندر اچھل کود رہے ہیں ، یہ خواب ایسے ہی لوگوں کی نشان دہی کرتاہے جو منبر پر بیٹھ کر شریعت کے خلاف ،حقیقت کے خلاف ، تاریخ کے خلاف بیان کرتے ہیں ، انہیں لوگوں کے ذریعہ قوم میں بے دینی و جہالت رواج پاتی ہے ۔ یہی لوگ پاک معاشرے کو آلودہ کرنے کا باعث ہوتے ہیں ، اور روشنی کے بجائے تاریکی پھیلاتے ہیں ، زبان سے تیزی اور کٹ حجتی سے باطل کو حق ، غلط کو صحیح ثابت کرکے اہل بیت کی کوششوں پر پانی پھیرنے کی کوشش کرتے ہیں ، حق کی تبلیغ و ہدایت کا سب سے کامیاب ذریعہ یعنی منبر کو اپنی دنیا بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں ''۔
متذکرہ عبارت ،عہد حاضر کی خطابت کی پوری طرح عکاسی کرتی ہیں ، آج کے زمانے میں خطابت کا جو معیار ہے اس کے نقصانات کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں ، اپنی طلاقت لسانی کے بل بوتے پر انتہائی گھٹیا باتیں پر زور انداز میں بیان کی جاتی ہیں اور سامعین انہیں قبول بھی کرلیتے ہیں ، وقتی طور پر خوب واہ واہ ہوتی ہے ، خطیب کی جیب گرم ہوتی ہے اور سامعین محظوظ ہوتے ہیں ، لیکن وہ یہ نہیں سوچتے کہ جس بات پر چھت اڑا نے والی واہ واہ نصیب ہوئی ہے معاشرے میں اس کے نقصانات کیا ہیں ، ا س سے عقائد و مسلمات کی کس طرح دھجیاں اڑ رہی ہیں ۔خدا بچائے اب تو دین کے بنیادی اصول و قوانین اور عقائد بھی اس خطابت کی زد پر آچکے ہیں اسی لئے بہت سے مسلمہ حقائق کا انکار بھی کیا جانے لگا ہے ، ہند و پاک کی بعض مجلسیں نمونے کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں ۔
استاد محترم ایسی خطابت کے سخت مخالف تھے ، وہ منبر کو ہادیان دین سے منسوب سمجھ کر اس کے قیود و شرائط سے کماحقہ آگاہ تھے ، وہ اسے تبلیغ کا وسیلہ سمجھتے تھے جیب گرم کرنے کا ذریعہ نہیں ۔ہم پڑھیں گے اپنے انداز میں آپ کو سننا ہوتو سنئے ورنہ ...وہ اسی اصول پر عمل پیرا رہتے تھے ؛ چنانچہ آپ نصف دائرے میں اپنی ذاکری کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
...آپ جانتے ہیں کہ ذاکری ذہن ، حافظہ ، سینے کا دم اور زبان کی طلاقت کا نام ہے ، علاوہ بریں منبر منسوب ہے ہادیان کی جانب لہذا اس کے احترام کا تقاضا ہے کہ ہر لفظ پوری احتیاط کے ساتھ سمجھ بوجھ کر زبان سے نکالاجائے جو قرآن و حدیث ،عقل و منطق کے ساتھ تاریخ کے مطابق ہو ۔ انا للہ کہ آج صرف طلاقت کی شرط ہے اور بس ، بقیہ تمام شرائط ناقابل توجہ بن چکے ہیں ۔ پہلے دین کو دوسروں سے خطرہ تھا مگر اب ہم خود دین کے لئے خطرہ بن چکے ہیں ، کاغذ کے چند ٹکڑوں کے لئے ذہن و ضمیر کا سودا کرتے ہیں اور جاہل سامعین کی بے معنی واہ واہ کو اپنا حاصل سمجھتے ہیں حالانکہ منبر ، مقرر سے کہتاہے:
فکر سامع کو بلندی کی طرف لانا تھا
آپ کیوں سطح مخاطب پر اتر آئے ہیں
استاد محترم کی خطابت صرف آج نہیں بلکہ آنے والی کئی نسلوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے، آپ کی خطابت میں بہت سے پہلو ہوتے تھے ، تبلیغ کے علاوہ جو لوگ واہ واہ کے خوگر ہیں ان کے لئے بھی آپ کی تقریر مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ، مجھے یاد ہے رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین صاحب اعلی اللہ مقامہ کی چالیسویں کی مجلس ہورہی تھی ، مجلس استاذی العلام سرکار شمیم الملة مد ظلہ العالی پڑھنے والے تھے ، لیکن ان سے قبل استاد محترم مولانا سید احمد حسن صاحب رونق افروز منبر ہوئے اور خطبہ کے بعد حدیث رسول کی تلاوت کی : لاعطین الرایة غدا رجلا کرارا غیر فرار یحب اللہ و رسولہ و یحبہ اللہ و رسولہ یفتح اللہ علی یدہ ۔
اس حدیث کے تناظر میں آپ نے جس انداز سے حضرت رئیس الواعظین کی قلمی اور لسانی خدمتوں کا تذکرہ کیاوہ بھلائے نہیں بھولتا ۔ ٢٥یا ٣٠ منٹ کی اس تقریر کے دوران کثیر مجمع کا ہاتھ اوپر تھا اور وسیع و عریض پنڈال واہ واہ اور سبحان اللہ کی صدائوں سے گونج رہاتھا ۔اور میں محو حیرت یہ سوچ رہاتھا کہ غلط ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حقیقت بیانی میں واہ واہ نصیب نہیں ہوتی بلکہ اگر لہجہ اور سلیقہ ہو تو حقیقت بیانی میں سبحان اللہ اور واہ واہ سے پوری فضا گونج سکتی ہے ۔
ہوکے مایوس کل ارباب خرد ڈھونڈے گے
بڑی کاوش سے مرا نقش قدم میرے بعد

حقیقت نگار صاحب قلم
استاد علام نے جب قلم ہاتھ میں لیا تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ خدا نے ان کو اسی لئے پیدا کیاتھا ، میں بلاخوف تردید یہ بات کہہ سکتاہوں کہ استاد علام کے قلم سے نکلے ہوئے اکثر مقالے اور مضامین ایسے ضرور ہیں جن کو معنی آفرینی ، بندش الفاظ اور ادبی چاشنی کے لحاظ سے اردو ادب کے شاہکاروں میں شمار کیاجاسکتاہے ۔
آپ نے بہت کم لکھا مگر جو کچھ لکھا وہ داد تحقیق کے لئے نہیں بلکہ درس عمل اور صرف درس عمل کے لئے ۔ آپ نے اپنے قلم کو اپنی قابلیت کا لوہا منوانے کے لئے کبھی استعمال نہیں کیا بلکہ اسے حقیقت بیانی کا ذریعہ قرار دیاہے ؛ آپ اس بات پر سختی سے عمل پیرا رہتے تھے اور دوسروں کو بھی اس پر عمل پیرا رہنے کی تاکید فرماتے تھے ؛ چنانچہ آپ اپنے ایک مضمون '' آٹو بایو گرافی '' میں رقم طراز ہیں:
'' علم نے انسان کے ہاتھ میں قلم حقیقت نگاری کے لئے دیاتھا ملمع کاری کے لئے نہیں ،کچھ لکھتے وقت '' سیاہی ''کے بجائے '' روشنائی '' سے کام لیاجائے تو زیادہ بہتر ہے ''۔
اس بات کی تائید آپ کی دو کتابوں '' احساس و ادراک '' اور '' نصف دائرے '' سے ہوتی ہے ، احساس و ادراک میں تقریبا ٢٧ مضامین ہیں ،جن میں ادبی ،اخلاقی ، تہذیبی اور دینی موضوعات شامل ہیں ، آپ اول سے آخر تک پوری کتاب پڑھ جائیے ایسا محسوس ہوگا کہ مصنف نے حقیقت بیانی کے ذریعہ انسان کے باطن کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے ۔نصف دائرے آپ کا ادبی شاہکار ہے ، اس میں استاد محترم نے اپنے بعض اساتذہ اور احباب و ہم عصر کے سوانحی خاکے قلم بند کئے ہیں ، تعریف و تمجید کے پل باندھنے کے بجائے حقیقت بیانی سے کام لیاہے اور شخصیت کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیاں بھی قلم بند کی ہیں۔
میں اپنی مختصر سی قلمی زندگی میں والد علام حضرت ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی مرحوم کے علاوہ جن صاحبان قلم اور ادیبوں سے متأثر ہوا اور جنہیں میں نے اپنی قلمی زندگی کے لئے نمونہ عمل قرار دیا ان میں استاذی العلام طاب ثراہ کا نام نامی بہت نمایاں ہے۔سرعت قلم اور بندش الفاظ میرے لئے ہمیشہ باعث حیرت رہیں ، در اصل آ پ بیٹھے بیٹھے ایک دو سگریٹوں کے بعد ایسی تحریریں لکھ جاتے تھے کہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے ، ادھر باتیں بھی ہورہی ہیں اور ادھر صفحۂ قرطاس پر قلم تیزی سے رواں دواں ہے ۔ جس کا میں نے بچشم خود مشاہدہ کیاہے ۔
والد علام کی وفات حسرت آیات کے بعد مولانا عروج صاحب اور استاد محترم مولانا دلکش غازی پوری صاحب مجھے لئے ہوئے مدرسہ ایمانیہ آئے ، راستہ میں بتایا کہ مولانا نے تم سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے اور ان کی طبیعت ذرا ناساز ہے ، ہم لوگ آفس میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے ، تھوڑی دیر بعد مولانا آئے ، انہیں دیکھتے ہی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ، فوراً گلے سے لگایا ، تسلیت و تعزیت کے جملے کہے ، حوصلہ سے کام لینے کی تاکید فرمائی ۔ پھر بیٹھ کر برادر معظم سید محمد اختر نجم کے نام تعزیت نامہ تحریر فرمایا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ماحول معمول پر آیا تو استاد محترم دلکش غازی پوری صاحب نے عرض کی : حضور ! سلمہ کی خواہش ہے کہ دستی اشتہار کے لئے کوئی مضمون تیار کردیں ۔''ٹھیک ہے '' کہہ کر باتوں میں مشغول ہوگئے ، میں غمگین طبیعت اور نم آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگا ،سامنے میز پر قلم اور کاغذ موجود تھا ، وہ باتیں بھی کرتے جاتے تھے اور سامنے کچھ لکھتے جاتے تھے ۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اشتہار کے لئے مضمون قلم بند کررہے ہیں ۔ بیس منٹ کی ملاقات کے بعد جب ہم جانے لگے تو میرے ہاتھ میں کاغذ تھماتے ہوئے فرمایا: میں نے آپ کے والد صاحب کی شخصیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ لکھاہے ، اسے اچھے سے ٹائپ کروائیے گا اور محفوظ رکھئے گا۔
اس مختصر سے وقت میں باتوں کے دوران لکھی گئی اس تحریر کی ندرت و لطافت اور چاشنی ملاحظہ فرمائیے :
''سماعت کی زمین پر '' یقولون ما لا یفعلون '' کاشور تو بہت سنائی دیتاہے لیکن فکر و نظر کے آسمان میں ''ن والقلم و ما یسطرون '' کی کہکشاں کم ہی دکھائی دیتی ہے ۔ خطابت کا خاندان تو بہت وسیع ہے مگر تصنیف و تالیف کے رشتہ دار نہایت کمیاب ہیں ۔ علامہ سید علی اختر رضوی طاب ثراہ شعور گوپال پوری ایک ایسے ہی فرد فرید تھے جس نے اپنے شعور علمی ، فکر دینی اور نگاہ حقیقی سے قلم کو علم کیا اور عربی و فارسی خزانوں کے لعل و جواہر کو ترجمے کے ہاتھوں نہایت حسن و خوبی کے ساتھ سلمائے اردو کے گلے کا ہار بنادیا۔ آج ان کے سوگ میں '' الغدیر '' دیدۂ پرنم ،'' سوگنامہ آل محمد'' پرغم ، '' الحیات '' گریاں ،'' شہر شہادت ''بریاں اور'' خوشبو بہار کی'' پریشاں ہے ۔ صاحب قلم کبھی نہیں مرتا ، علامہ کی تحریریں آنکھوں کو جلا ، ذہن کو صفا اور دلوں کو روحانی غذا دیتی رہیںگی ، وہ اپنی تصنیفات کی دنیا میں زندہ ہیں اور رہیں گے ۔ موت نے نقصان کے بجائے فائدہ ہی پہونچایاہے کہ آج ان کا غم مجلس عزائے حسین کی صورت میں برپا ہورہاہے ۔ قدر شناسان زبان و قلم ، دوستداران شہید اعظم سے قوی امید ہے کہ شریک مجلس ہوکر مرحوم کے لئے ایصال ثواب ، سوگواروں کے لئے تسلی قلب اور اپنے لئے اجر جزیل فراہم فرمائیں گے ...''۔
اسی طرح آپ نے برسی کے موقع پرایک مضمون قلمبند فرمایا جس میں والد علام کی شخصیت پر بالکل نئے انداز سے روشنی ڈالی ، ان دونوں تحریروں کو بلکہ ایسی دوسری بہت سی تحریروں کو ان کی کتاب ''تراشے '' میں ملاحظہ کیاجاسکتاہے ۔
استاذ علام اپنی تحریروں کے سلسلے میں کبھی حساس نہیں رہے ، ایک تو آپ لکھتے کم تھے اور جو لکھتے تھے اس کی کبھی حفاظت نہیں کرتے تھے ، کسی نے فلاںمضمون کی فرمائش کی تو آپ نے بلاتکلف و تعارف فوراً اس کی فرمائش پوری کردی ۔ پھر دوبارہ اس کی طرف رجوع کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ خدا جزائے خیر دے استاد محترم مولانا ذہین حیدر دلکش غازی پوری کو جنہوں نے استاذ علام کے قلمی کارناموں کو تلاش و یکجا کرنے میں کافی زحمتیں اٹھائی ہیں ، انہیں کی زحمت اور کوشش کی وجہ سے آج کچھ قلمی کارنامے کتابی شکل میں ہماری آنکھوں کے سامنے موجود ہیں۔

شخصیت کی بعض خوبیاں
استاذعلام کی شخصیت میں مختلف خوبیاں موجود تھیں ، جن کا اجمالی تذکرہ بھی طوالت کا باعث ہوگا ، یہاں صرف بعض خوبیاں اور عادات و اطوار قلمبند کئے جارہے ہیں:
١۔ توکل علی اللہ :
آپ کو اپنے خالق حقیقی پر بہت زیادہ بھروسہ تھا ، ان سے قربت رکھنے والے میری بات کی تائید کریں گے کہ آپ سب سے پہلے اپنے خالق حقیقی کی جانب رجوع کرتے تھے ، جس کا ایک نمونہ '' استخارہ ''ہے ۔ کوئی کسی کام کے لئے ان کے پاس جاتاتھا تو سب سے پہلے استخارہ دیکھتے تھے ، اگر آگیاتو جائیں گے ورنہ آپ کتنے ہی بڑے ہوں ان کی '' نہیں ''، ہاں میں نہیں بدل سکتی۔میرے ساتھ ایسے کئی واقعات پیش آئے ؛ ہوا یہ کہ والد علام کی برسی کی مجلس کے لئے میں نے ان سے گزارش کی ، پہلے تو اشتہار کے لئے مضمون قلمبند کیا پھر خطیب کی جگہ پر کسی کا نام نہ لکھ کر استخارہ دیکھا ، نامعلوم خدا کی کیا مصلحت تھی، استخارہ منع آیا ، فرمانے لگے : بیٹا !ابھی رہنے دیجئے ، استخارہ نہیں آرہاہے ، پھر کسی موقع پر دیکھاجائے گا۔میں نے کہا: حضور !کوئی بات نہیں ۔ تقریبا ًاس واقعہ کے ٨ مہینے بعد میری ہمشیرہ کی شادی تھی ، عقد پڑھنے کے لئے میں نے استاذ علام سے گزارش کی ، آپ نے پھر استخارہ دیکھا اور بہت بہتر آیا ، فوراً ہامی بھر لی ۔ حالانکہ اس وقت آپ کی طبیعت ذرا ناساز تھی ۔ مجھے بہت حیرت ہوئی کہ پہلے ہی کہہ دیتے کہ طبیعت ناساز ہے ۔ عذر معقول بھی تھا ، میں مان جاتا ، استخارہ دیکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔ میرے استفسار کرنے پر مسکرانے لگے اور پھر برسبیل تذکرہ حضرت قیس زنگی پوری کا واقعہ سنایا ، جسے آپ نے ''نصف دائرے '' میں بھی حضرت قیس زنگی پوری کے سوانحی خاکے کے ذیل میں قلمبند فرمایاہے ، لیجئے انہیں کے الفاظ میں وہ دلچسپ واقعہ ملاحظہ فرمائیے:
''استخارہ ان ( قیس صاحب)کے لئے اوڑھنا بچھونا تھا اور وہ استخاروں کے حکم پر سختی سے پابند تھے ، چاہے کچھ بھی ہوجائے ۔ ایک صاحب کی شامت آئی تو کہنے لگے : میں نہیں مانتا ، دانے ہی تو ہیں کبھی ایک آیا کبھی دو ، ہم غلط سے غلط باتوں کے لئے نیت کرتے ہیں آپ استخارہ دیکھئے ، اگر نہ آئے تو ہم مانیں گے ۔ خلاف توقع قیس صاحب خاموش ، نیت کرو۔ انہوںنے نیت کی : میں شراب پیوں ؟ منع آیا ۔ اس طرح پے در پے ١٠ استخارے دکھلائے ، جب دسواں استخارہ منع آیا تو وہ صاحب چپ ہوگئے ۔ چند لمحوں بعد آہستہ سے بولے : ہاں صاحب !اب مان لیا کہ استخارہ کوئی چیز ہے ۔ اور اب قیس صاحب بپھرے ہیں تو مت پوچھئے ۔ پوری بزم ساکت ، اکیلے قیس صاحب گرج رہے ہیں''۔
توکل علی اللہ کے موضوع پر آپ نے ایک مضمون بھی قلمبند کیاہے جو آپ کی تازہ تصنیف '' احساس و ادراک '' میں شائع ہوچکاہے ، مضمون انتہائی قیمتی اور گرانقدر ہے ، اس مضمون سے توکل علی اللہ کے سلسلے میں آپ کی حساسیت کا تھوڑا بہت اندازہ لگایاجاسکتاہے نیزمضمون کے مطالعہ سے یہ بھی سمجھ میں آتاہے کہ معاشرے میں زندگی گزارنے والے افراد اس صفت سے کتنے دور ہیں اور اس کے کیاکیا نقصانات ہیں۔
٢۔ اطمینان خاطر :
آپ کی ایک بہترین صفت یہ تھی کہ آپ اپنے اطمینان خاطر کے لئے انتہائی شدت کا مظاہرہ فرماتے تھے ، اگر کوئی واقعہ یا کوئی چیز ان سے مربوط ہے تو اسے حاصل کرنے میں عجلت دکھاتے تھے ، کبھی کبھی یہ صفت دوسروں کی طبیعت پر گراں بھی گزرتی تھی لیکن وہ اس پر سختی سے قائم تھے ۔
اس سے قبل بیان کیاگیا کہ ناچیز نے استاذ علام سے اپنی ہمشیرہ کا عقد نکاح پڑھنے کی درخواست کی۔ آپ نے استخارہ دیکھنے کے بعد ہامی بھرلی ۔ چنانچہ عقد کے روز وطن پہونچے ، حال احوال پر استفسار کے بعد سب سے پہلا سوال کیا کہ واپسی کا ٹکٹ کہاں ہے...؟ میں نے عرض کی : حضور ! واپسی کا ٹکٹ ہوچکا ہے ، آپ اطمینان رکھیں ۔فرمایا : ٹھیک ہے ، مجھے لاکر دے دیجئے گا۔ ظاہر ہے شادی کا دن ، بارات کی آمد کا ہنگامہ ، انتظامات کی دیکھ بھال ۔ ان جھمیلوں میں میرے ذہن سے استاذ محترم کی بات نکل گئی ۔ تھوڑی دیر بعد ان کی خدمت میں پہونچا ، ان کے پاس میری فرمائش پر برادر عزیز مولانا شمیم ترابی صاحب بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے پوچھا :حضور ! کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے۔ فرمایا : شمیم صاحب موجود ہیں کسی چیز کی ضرورت ہوگی تو کہلوادوںگا۔ پھر پوچھا : ٹکٹ کہاں ہے؟ میں نے کہا: حضور ! میرے ذہن سے بات نکل گئی ، میں ابھی لائے دیتاہوں ، ویسے آپ اطمینان رکھیں ، ٹکٹ ہوچکاہے۔ سوئے اتفاق کہ ہنگامی ماحول میں تیسری مرتبہ بھی میرے ذہن سے بات نکل گئی ۔اب جو ان کے پاس پہونچا تو مت پوچھئے ، گھور کے دیکھا ،میں ان کی نظروں کی تاب نہ لاکر نیچے دیکھنے لگا ۔برادر عزیز مولانا شمیم ترابی نے میرے پاس آکر کہا:سارا کام چھوڑ کر پہلی فرصت میں ٹکٹ لاؤ ، ورنہ آج خیر نہیں ۔ میرے ہمراہ برادر خرد قیصر سلمہ موجود تھے ، انہیں فوراً روانہ کیا ۔ پھر ٹکٹ ان کے حوالے کرتے وقت بہت معذرت کی ،فرمایا : کوئی بات نہیں ۔ پھر اسے تکیہ کے نیچے رکھنے کے بعد خنداں پیشانی سے محو گفتگو ہوگئے ۔
ایسا ہی ایک واقعہ قم میں پیش آیا ۔ غالباً قم کے لئے وہ آپ کا آخری سفر تھا ، آپ کے فرزند برادر عزیز مولانا عقیل صاحب بھی آپ کے ہمراہ تھے ۔اس وقت آپ کی کتاب '' تراشے ''( جو رقعات محافل و مجالس کا مجموعہ ہے) کی ترتیب کا کام چل رہاتھا ، اس کے لئے والد علام کی مجالس کے سلسلے میں لکھے گئے رقعات کی ضرورت تھی جو صرف میرے پاس موجود تھے ۔آپ نے دو لوگوں سے کہوایا کہ میں ملنا چاہتاہوں۔ جن کے ذریعہ کہلوایا تھا ، انہوں نے بہت دیر میں اطلاع دی ۔ اس سے پہلے ہی فون آگیا ، کرخت لہجے میں کہنے لگے : اگر بہت مصروف ہیں تو کسی کے ذریعہ وہ رقعات بھیجوادیجئے ، ان کی شدید ضرورت ہے ۔ میرے ہاتھ پیر پھول گئے ، عرض کی : نہیں حضور ! ایسی بات نہیں ہے ، مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ قم میں موجود ہیں ، میں ابھی آتا ہوں ۔ بدقسمتی کہئے کہ درس و مباحثہ کی وجہ سے قبل از ظہر نہیں جاسکا ۔ بس کیاتھا ، ظہر کے بعد پھر فون آیا ، فون پر بات کرتے ہوئے ندامت سے میری جو حالت تھی اسے بیان نہیں کرسکتا۔فوراً پہونچا ، وہ رقعات ان کے حوالے کرتے ہوئے معذرت کی ، نہ آنے کی وجہ بتائی تو کہنے لگے : فون پر بتادیتے تو اتنا سننا نہیں پڑتا۔
ممکن ہے اطمینان خاطر کی یہ شدت ،دوسروں کی طبیعت پر گراں محسوس ہو ، لیکن اگر اپنی ذات کو ان کی جگہ پر رکھ کر تجزیہ و تحلیل کیاجائے تو معلوم ہوگا بعض حالات میں اس کی کتنی شدید ضرورت ہوتی ہے ۔
٣۔ اخلاقی نقوش :
یہ بات طے شدہ ہے کہ اخلاق کے معیار پر انسان عملی طور پر اگر پورا اترتاہے تو علم و فضل بعد کی چیزیں ہوجاتی ہیں ، علمی تبحر کے باوجود اگر انسان میں اخلاق وکردار کی بلندی نہیں ہے تو علم '' چار پائے بر او کتابے چند ''کے زمرے میں آجاتاہے ۔ آگہی و دانشوری اگر اپنا صحیح رخ رکھتی ہے تو اخلاق ہی کے ذریعہ اپنی شناخت متعین کراتی ہے ۔استاذ علام کے اخلاق کی حدیں اتنی وسیع تھیں کہ ان وسعتوں کو دیکھ کر بعض لوگ حیرت زدہ ہوجاتے تھے ۔آپ کی دلنواز اور پرکشش شخصیت ، زہد و تقوی ، انکساری و خاکساری ، اخلاق و تہذیب ، شرافت و انسانیت ، ہمدری و محبت اور خدمت خلق نے اپنے پرائے سب کو اپنا گرویدہ بنالیاتھا۔
آپ کے اخلاقی نقوش میں '' خردوں کا احترام '' بہت نمایاں ہے ، آپ صرف بڑوں کا احترام نہیں کرتے تھے ، بلکہ اپنے سے چھوٹوں کا بھی اسی طرح احترام کرتے تھے جس طرح بڑوں کا احترام کرتے تھے ، مجھے یاد نہیں کہ آپ نے کبھی مجھے '' تم '' کہہ کے مخاطب کیاہو ، ہمیشہ آپ کہہ کے مخاطب کرتے تھے ۔
خاکساران زمانہ کو حقارت سے نہ دیکھ
یہ بڑے لوگ ہیں جینے کا ہنر جانتے ہیں
آپ طبعاً بذلہ سنج اور زندہ دل انسان تھے ، ممکن ہے دور سے دیکھنے والوں یا کبھی کبھی ملنے والوں کے ذہن میں ان کے متعلق خشک مزاجی کا تصور ابھرتاہو لیکن قریب رہنے والے جانتے ہیں کہ وہ خشک مزاج نہیں بلکہ انتہائی خوش مزاج انسان تھے ، ہاں !اپنی زندہ دلی اور خوش مزاجی کے اظہار میں موقع و محل کی خاص طور سے رعایت فرماتے تھے ؛ بقول ڈاکٹر حنیف نقوی :
''موصوف طبعاًانتہائی مذلہ سنج ، خوش ذوق اور زندہ دل انسان ہیں ،یہ علیحدہ بات ہے کہ ان صفات کے اظہار میں انہیں موقع و محل کی رعایت ملحوظ رکھنا پڑتی ہے ''۔
استاذ علام کی شخصیت کا ایک رخ میں کبھی نہیں بھول سکتا، اور وہ ہے آپ کا دو ٹوک لب و لہجہ ۔ آپ کی تحریر و تقریر میں اس کے بہت سے نمونے ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں ، روز مرہ کی زندگی میں بھی آپ کا لہجہ دو ٹوک ہوتاتھا ، بری باتوں پر فوراً ٹوک دیتے ہیں ، کبھی کبھی اپنی بذلہ سنجی اور خوش طبعی کے اظہار کے لئے بھی دو ٹوک لہجہ استعمال کرتے تھے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ زیارت کی غرض سے قم تشریف لائے ہوئے تھے، اس وقت ناچیز کی کاوشوں سے والد علام کی دو کتابیں ''مصائب آل محمدؐ'' اور '' غدیر کے چار علامتی شاعر '' زیور طبع سے آراستہ ہوئی تھیں ، میں ملاقات کے لئے پہونچا ، ان کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے والد علام کی تازہ مطبوعات بھی میرے ہمراہ تھیں ، وہاں پہونچا تو پہلے سے آٹھ دس افراد موجود تھے ، سلام دعا کے بعد والد صاحب کی کتابوں کے متعلق استفسار فرمایا ، میں نے خوش خبری دی کہ ان کی دو کتابیں جلد ہی شائع ہوئی ہیں ۔ پھر دستی بیگ سے دونوں کتابیں نکال کر ان کی خدمت میں پیش کیں۔ کتاب لے کرتھوڑی ورق گردانی کی ۔ پھر سر اٹھا کر پوچھا : کتنے پیسے ہوئے...؟اتنے لوگوں کے درمیان یہ سوال سن کر میرے تو ہوش اڑ گئے ، فوراً کہا: نہیں حضور ! میری طرف سے آپ کے لئے تحفہ ہے ۔ فرمایا : اگر تحفة ً دے رہے ہیں تو اس پر تحریر کیجئے ۔ میں نے قلم نکال کر دونوں کتابوں کے صفحۂ اول پر الگ الگ عبارتیں تحریر کیں ۔ جنہیں دیکھ کر میری طرف تحسین آمیز نظروں سے دیکھا پھر لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا:یہ تحریریں ہمیں بعد میں بتاتی ہیں کہ کتنی کتابیں ہم نے خود خریدی ہیں اور کتنی مفت دستیاب ہوئی ہیں۔
کہاں تک لکھوں اور کیا کیا لکھوں ، ان کے اخلاق و کردار کے نقوش پوری زندگی پر محیط ہیں ، جنہیں قلمبند کرنے کے لئے پورے کا پورا دفتر چاہئے ۔

وفات
٨ محرم الحرام ١٤٣٤ھ کو ظہر کے وقت اچانک یہ افسوسناک اور دل ہلادینے والی خبر ملی کی کہ استاذ علام اب ہمارے درمیان نہیں رہے ، اس خبر وحشت اثر سے دل پر جو گزری اسے الفاظ میں بیان نہیں کیاجاسکتا۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ خبر بالکل غیر متوقع تھی ، آپ کی طبیعت کافی دنوں سے ناساز تھی ، تنفس کی بیماری کافی شدید ہوچکی تھی لیکن پھر بھی دل کسی صورت یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ وہ دینی معمار جس کی زندگی کا ہر ہر لمحہ تبلیغ و ترویج اسلام کے لئے وقف تھا ہمیشہ کے لئے ہم سے رخصت ہوگیا ، ایک چشمہ علم ہم سے دور ہوگیا ، ایک مشعل افکار تھی جو بجھ گئی ، ایک قلم تھا جو چلتے چلتے چلتے رک گیا ، ایک ذاکر و خطیب ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا ، ایک بزرگ ہستی کا سایہ ہمارے سروں سے اٹھ گیا ۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
اور ہم ایک بلند پایہ مفکر ، دانشور ، ایک پر خلوص نیک صفت ، خوش بیان اور صاحب کردار انسان کے ساتھ ساتھ ایک بہترین اور نمونہ عمل استاد کی سرپرستی سے محروم ہوگئے ۔
یہ کیا دست اجل کو کام سونپا ہے مشیت نے
چمن سے توڑنا پھول اور ویرانے میں رکھ دینا
آج اگر چہ وہ اپنے بے پناہ حلقہ ٔعقیدت سے متمسک افراد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے ، ان سب سے اپنے مادی رشتوں کو توڑ دیا اور اس دنیائے آب و گل سے رخصت ہوگئے لیکن ان سے ہمارا روحانی رشتہ ہرگز نہیں ٹوٹ سکتا ، ان کے جسم کو موت آگئی مگر ان کے کام اور کام کرنے کے بخشے ہوئے حوصلوں کو کبھی موت نہیں آسکتی ، انہوںنے اپنی زندگی میں بہت سے علمی ، تہذیبی اور ادبی نقوش چھوڑے ہیں صرف اس لئے کہ ہم ان منور نقوش کو اپنا راہنما بناکر حقیقی زندگی کا صحیح تعین کرسکیں اور اپنے اسلاف سے رشتہ استوار رکھ سکیں ، یادوں کا یہ ربط ہی ہماری وراثت ہے ، یہ تعلق ہی ہماری پہچان ہے ؛ بقول علامہ اقبال :
موت تجدید مذاق زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا ایک پیغام ہے

والسلام
سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری
٢٨ جنوری ٢٠١٣عیسوی

مقالات کی طرف جائیے