مقالات

 

احسان ایک باغ کا

سید شاہد جمال رضوی گوپال پوری

گھر کے حالات اچھے نہیں ہیں ،اس کے گوشے گوشے میں اداسی اور سناٹے کا رواج ہے، رات کی تاریکی میں یہ سناٹا بہت عجیب لگ رہاہے اور سناٹے کی وجہ سے رات کی تاریکی بھی مہیب اور ڈراؤنی معلوم ہورہی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے، گھر میں تین افراد ہیں ، میں ، میری بہن بتول اور امی ۔ لیکن سبھی ایک ایک گوشے میں دنیا سے بالکل بے خبر بیٹھے ہیں ، کسی کو ایک دوسرے سے کوئی مطلب نہیں ، کبھی کبھی امی ہم لوگوں کی ڈھارس کے لئے ایک دو جملے کہہ دیتی تھیں ، لیکن ان کےخاموش ہوتے ہی پورے گھر پر پھر سے خاموشی چھا جاتی تھی ۔
کچھ دنوں پہلے تک یہ حالات نہیں تھے ، باباجب تک تھے ہماری ہر خوشی کا خیال رکھتے تھے ، ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے ، وہ ایک کسان تھے لیکن پھر بھی ہماری ہر خواہش کو پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر جب سے ان کی وفات ہوئی ہے گھر کےحالات بد سے بدتر ہوتے گئے ، اب عالم یہ ہے کہ گھر میں کچھ کھانے کو نہیں ہے ، صبح سے گھر والوں نے کچھ نہیں کھایا ہے ، امی اور میں نے جیسے تیسے برداشت کیا ہوا ہے لیکن بتول کی حالت غیر ہے ، وہ بار بار بابا کو یاد کرکے رو رہی ہے اور خداوندعالم سے دعا کررہی ہے کہ پالنے والے بھوک سے جان جا رہی ہے تو ہی مسبب الاسباب ہے ،ہمارے لئے کوئی سبیل کر۔
رات اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی ، سناٹا بدستور قائم تھا اور ہم سب اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے تبھی دروازے سے دق الباب کی آواز آئی ۔ میں نے چونک کے دروازے کی طرف دیکھا ۔
"اتنی رات کو کون ہوسکتاہے "۔میں سوچنے لگا۔
آواز سن کر امی بھی میرے پاس آچکی تھیں ، انہو ں نے میری جانب دیکھا ، میرے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ کر مجھے ڈھارس دی اور آگے بڑھ کے دروازہ کھولنے کو کہا۔میں نے ایک قدم آگے بڑھایا ، اسی وقت پھر سے دق الباب ہوا ، میرے بڑھتے قدم رک گئے ۔
"کون ہے ؟"۔ میں نے ہمت جٹاتے ہوئے پوچھا ۔
لیکن باہر سے کوئی آواز نہیں آئی ، شاید میری آواز وہاں تک نہیں پہونچی تھی ۔ امی نے پھر سے ڈھارس دی ، میں دروازے تک پہونچ کر تھوڑی دیر تک رکا رہا ، پھر دروازہ کھول دیا ۔
سامنے ادھیڑ عمر کا شخص کھڑا تھا ، اس نے مسکرا کے میری جانب دیکھا اور ایک تھیلا میری جانب بڑھاکر آگے بڑھنے لگا۔
میں نے جلدی سے کہا : آپ کون ہیں اور یہ کیا ہے ؟
اس میں کچھ کھانے کی چیزیں ہیں ، جسے ایک مومنہ نے تمہارے گھر کے لئے بھیجا ہے ۔
میں سر جھکا کے تھیلے کو دیکھنے لگے ، ایک نظر ڈال کر میں نے سر اٹھایا تاکہ اس سے مزید کچھ سوال کرسکوں ، لیکن وہ شخص شاید بہت جلدی میں تھا ، وہ جا چکا تھا ۔
میں نے اس کا پیچھا کرنے کے بجائے گھر کے اندر جانا بہتر سمجھا ،اس لئے کہ ابھی بتول بہت بھوکی تھی ، اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا ، اس کی تڑپ مجھ سے دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔
میں نے گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ امی نے پوچھا : کون تھا ، کیا کہہ رہاتھا ؟
"کوئی اجنبی تھا ، یہ تھیلا دے کر گیا ہے "۔ میں نے امی کو جواب دیا۔
"اس میں کیا ہے ؟"امی نے پوچھا ۔
"نہیں معلوم ، کہہ رہاتھا کچھ کھانے کی چیزیں ہیں "۔میں نے مختصر سا جواب دیا ۔
کھانے کا نام سنتے ہی بتول دوڑتی ہوئی ہمارے پاس آئی ۔
"امی ، امی مجھے کھانے کو دیجئے ، بہت بھوک لگی ہے ، اب برداشت نہیں ہوتا "۔وہ بہت بےتابی کا مظاہرہ کررہی تھی ۔
امی نے تھیلا کھولا اور حیرت سے دیکھنے لگیں ۔
"امی! اس میں کیا ہے ؟"میں نے ان کی حیرت زدہ آنکھیں دیکھ کر پوچھا ۔
"بیٹا ! اس میں پورے مہینہ کا راشن موجود ہے "۔امی نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔ان کی آنکھوں سے خوشی کے آنسوجاری تھے ، پھر انہوں نے روتے ہوئے کہا : خدایا ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نےہر حال میں بھی ہمارا خیال رکھا۔
میں بھی رو رہاتھا اور اپنے پروردگار کا شکریہ ادا کررہاتھا ، بتول بھی روتے ہوئے اپنی بیتابی کا اظہار کررہی تھی ۔
تبھی امی نے پوچھا : بیٹا ! تم نے معلوم نہیں کیا کہ یہ کس کی طرف سےہے ، کون مہربان ہے جس نے اس غریبی میں ہمارا خیال رکھا ۔
"امی ! میں نے پوچھا تھا لیکن وہ صرف اتنا کہہ کر چلے گئے کہ ایک بندۂ مومن نے دیا ہے"۔میں نے مختصر جواب دیا۔
لیکن میں نے طے کرلیاتھا کہ اب جب بھی ان سے ملاقات ہو گی میں اس مومنہ کے بارے میں ضرور سوال کروں گا۔
وقت گزرتا گیا اور کفایت شعاری سے وہ راشن امی نے پورے مہینے چلایا ،اب راشن ختم ہونے والا تھا ، ایک مہینہ پورا ہونے والاتھا ، ہم صبح سے اس نیک دل انسان کا انتظار کررہے تھے اس امید پر کہ وہ پھر آئے گا اور ہمیں ایک مخصوص تھیلے کے ذریعہ مطمئن اور خوشحال کردے گا ۔
سورج ڈوب رہاتھا ، شام آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی ، مدینہ کی فضا دھیرے دھیرے تاریکی میں ڈوب رہی تھی اور ہم سب دروازے کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے ، ہمارے گھر میں پھر سے وہی پہلے والا سناٹا چھایا ہوا تھا ، ایک سوئیں بھی گرے تو آواز سنائی دے ۔ کافی دیر بعد دق الباب ہوا اور میں دوڑتا ہوا دروازے تک پہونچا ۔
سامنے وہی بندۂ مومن کھڑا ہواتھا ، چہرے پر مسکراہٹ تھی اور مجھے بڑی شفقت و محبت سے دیکھ رہاتھا ۔
میں نے سلام کیا اور انہوں نے بڑے پیار سے میرے سلام کا جواب دیااور میری جانب مخصوص تھیلا بڑھا دیا ۔
لیکن میں نے لینے سے قبل ان سے سوال کیا : پہلے آپ بتائیے کہ آپ کون ہیں اور کس کی جانب سے آئے ہیں ،ہم پر احسان کرنے والی مومنہ کا نام کیاہے ؟
"میں رسول کی اکلوتی بیٹی بی بی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی جانب سے آیا ہوں ، میں ان کے باغ میں کام کرتاہوں، اس باغ کی جو آمدنی ہوتی ہے ہر مہینے بی بی کی جانب سے مدینہ کے فقراء و مساکین کے درمیان تقسیم کردیا جاتاہے "۔ انہوں نے متانت سے جواب دیا۔
"اس باغ کا کیا نام ہے "۔ میں نے جلدی سے دوسرا سوال کردیا ۔
"اس باغ کا نام فدک ہے،یہ باغ رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ خیبر کے بعد اپنی بیٹی کو دے دیاتھا لیکن وہ اس کی آمدنی فقراء و مساکین کے درمیان تقسیم کردیتی ہیں "۔
دہ جواب دے کر آگے چلے گئے ، شاید ابھی بہت سے گھر ان کے منتظر تھے ۔
میں سوچنے لگا :کیا کوئی اس طرح بھی ایثارو فداکاری کا مظاہرہ کرسکتا ہے ، ہمارے لئے وہ باغ کسی نعمت سے کم نہیں تھا، شہزادی نے ہم پر بہت بڑا احسان کیاتھا ، شہزادی کا خیال آتے ہی دل خود بخود ان کی عظمت کے آگے جھکنے لگا ۔
اسی طرح کئی مہینے گزر گئے ، ہمارے گھر میں اب مایوسی نہیں تھی ، جینے کی امید سب کی آنکھوں میں دیکھی جاسکتی تھی ، بتول اب بھوک سے بیتابی کا مظاہرہ نہیں کرتی تھی ، امی گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر آنسو نہیں بہاتی تھیں بلکہ اس صورت حال پر خداوندعالم کا شکر ادا کرتی تھیں اور اپنی محسنہ کو دعاؤں میں یاد کرتی تھیں ۔
آج مہینے کی وہ تاریخ پھر آئی اور ہم سب اس مرد مومن کا انتظار کرنے لگے ، اب تو اس کی عادت سی ہوگئی تھی ، وقت مقررہ پرقدم خود بخود دروازے کی جانب چلے جاتے تھے ، آج بھی میں دروازے پر کھڑا ان کا انتظار کرنے لگا ۔ لیکن وہ وقت مقررہ پر نہیں آئے۔کافی دیر تک دروازے پر کھڑا رہا لیکن وہ نہیں آئے،رات کا ایک پہر گزر گیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آدھی رات گزر گئی لیکن وہ نہیں آئے ۔
انتظار کرتے کرتے ہم کب سو گئے پتہ ہی نہیں چلا ۔
ہم نے اس بندۂ مومن کا دوسرے دن انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے ۔
ہم نے کافی دنوں تک اس کا انتظار کیا لیکن وہ نہیں آئے ۔
ہمارے گھر میں پھر سے پہلے والی کیفیت طاری ہونے لگی ۔
اب امی پھر سے گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کر آنسو بہا رہی ہیں ۔
بتول پھر سے تڑپ تڑپ کر اپنی بھوک کا اظہار کررہی ہے ۔
اور میں اس امید کے ساتھ ہر روز وقت مقررہ پر دروازے کی جانب دیکھتا رہتا کہ شاید آج وہ شخص آئے اور پھر سے خوشیوں کاسامان فراہم کرے ۔
لیکن وہ نہیں آئے ۔
ایک دن میں نے مدینہ کی گلیوں میں ان کو دیکھا ، سلام کے بعد صرف ایک سوال کیا : اب آپ ہمارے گھر نہیں آتے۔
انہوں نے حسرت سے میری جانب دیکھ کرکہا : بیٹا ! اب میں تمہارے یہاں نہیں آسکتا ، مجھے اس باغ سے نکال دیا گیا ہے ۔
مجھے حیرت ہوئی ، بی بی نے اتنے اچھے انسان کو کیوں نکالا ، ضرور کوئی غلطی ہوئی ہوگی اسی لئے ان سے سوال کیا :پھر شہزادی زہراء نے آپ کی جگہ کسی دوسرے کو رکھا ہوگا ۔
"بیٹا !شہزادی نے مجھے باغ سے نہیں نکالا ، بلکہ اب وہ باغ دختر رسول کے پاس نہیں ہے "۔ انہوں نے مایوسی سے کہا ۔
"کیوں "۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔
"اس لئے کہ کچھ لوگوں نے اس باغ کو بی بی سے چھین لیا ہے "۔ ان کی آنکھیں آنسوؤ ں سے بھری ہوئی تھیں ۔
میں اپنا غم بھول گیا ، اب میرا سارا ہم و غم صرف بی بی زہراء کے لئے تھا ، میں سوچ رہاتھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رسول کی اکلوتی بیٹی کے ساتھ ظلم و ستم روا رکھااور ان سے ان کے والد کادیا ہوا خوبصورت تحفہ چھین لیا، خدا انہیں کبھی معاف نہ کرے ۔
میں نے گھر آکر امی سے سارا واقعہ بیان کیا تو وہ بھی اپنا غم بھول کر بی بی کے لئے دلسوزی کا مظاہرہ کرنے لگیں ۔
آج بہت دنوں بعدایک مرتبہ پھر رات کی تاریکی میں دق الباب ہوا۔
"کون ہوسکتا ہے ؟"۔ میں سوچنے لگا ۔
میں آہستہ آہستہ دروازے کے پاس پہونچا اور اللہ کا نام لے کردروازہ کھول دیا ۔
سامنےایک باوقار اور وجیہ انسان کاندھے پر گھٹری لئے کھڑے ہوئے تھے ۔میں نے سلام کیا تو انہو ں نے سلام کا جواب دیا ۔
پھر اپنی گھٹری سے ایک تھیلا نکال کر مجھے دیا ۔
میں نے وہ تھیلا لیتے ہوئے خوشی سے کہا : کیا آپ شہزادی زہراء سلام اللہ علیہا کی طرف سے آئے ہیں ، کیا ان کو ان کا باغ واپس مل گیا ؟
یہ جملہ سنتے ہی وہ میرے پاس آئے ، میری پیشانی کا بوسہ لیا اور پھر بھرائی ہوئی آواز میں ایک جملہ کہا : ہاں ! بیٹا ،اسے اپنی شہزادی کی طرف سے سمجھو ۔
لیکن جب وہ اٹھے تو ان کی آنکھوں سے آنسو کے قطرے ٹپک رہے تھے ، میں نے ان کے چہرے پر شدید کرب کے آثار دیکھے، وہ چلے گئے لیکن میرے لئے سوچ کی ایک دنیا چھوڑ گئے ۔
اب وقت معین پر پھر سے وہ تھیلا آنے لگا جو ہماری زندگی میں ایک نعمت سے کم نہیں تھا۔
لیکن نہ جانے کیوں ، جب بھی میں نگاہ تصور سے دروازے پر کھڑے ہوئے انسان کے قطرۂ اشک کو دیکھتا ہوں تو مضمحل ہونے لگتا ہوں اور میرے پورے وجود پر اداسی چھا جاتی ہے ۔
اس لئے کہ اس قطرۂ اشک میں دنیا جہاں کا درد موجود تھا ۔ان کے چہرے کی اداسی بتا رہی تھی کہ وہ اس دنیا میں اپنے آپ کو بالکل اکیلا محسوس کررہے ہیں اور ان کو دلاسا دینے والا کوئی نہیں ۔

اللھم العن قاتلیک یا فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا

مقالات کی طرف جائیے