مقالات

 

شجاعت حضرت زہراء سلام اللہ علیہا

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا تصور بظاہر بڑا عجیب ہے ، ایسی صنف سے تھیں جس کی صفت ہی نزاکت قرار دی گئی ہے ، لیکن اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ عام انسانوں کے معیار پر صاحبان عصمت کو سمجھنا بڑی نادانی ہے ، حضرت معصومۂ کونین ختم نبوت کا جزو تھیں، آپ معدن امامت تھیں اس لئے تمام نازش آفریں خواتین سے افضل تھیں بلکہ اپنے وقت کی معصومہ حضرت مریم سلام اللہ علیہا سے بھی افضل تھیں ، خصوصیات کے اعتبار سے بھی افضل تھیں اور کردار کے اعتبار سے بھی افضل تھیں۔
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی اٹھارہ سالہ زندگی میں شجاعت کے ایسے ایسے نمونے ہیں کہ واقعی یہ اقرار کرنا پڑتاہے کہ آپ عرب کے شجاع ترین ذات کا کفو تھیں ، ہم نے شب ہجرت کے حالات میں صرف اس پہلو پر غور کیا کہ حضرت علی انتہائی مظاہرۂ شجاعت فرماتے ہوئے بستر رسول پر گہری نیند سوئے رہے ، بڑے سکون و اطمینان کے ساتھ سوئے رہے ، نہ اضطراب تھا نہ گھبراہٹ تھی ، حالانکہ آپ جس بستر پر آرام فرماتھے اس کے ارد گرد چالیس قبائل کی تلواریں تھیں ،چالیس اُپی ہوئی تلواریں جو کسی بھی وقت حضرت پر حملہ آور ہوسکتی تھیں ، اس عالم میں اضطراب کا مظاہرہ نہ کرنا ہی بہادری ہے ، نہ کہ آرام سے گہری نیند سونا ۔
اس رخ سے ہمارا غور کرنا واقعی اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس گھر میں ایک خاتون بھی ہیں ، انہیں بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ میرے گھر پر چالیس اُپی ہوئی تلواروں کا نرغہ ہے ، جو کسی بھی وقت رات میں یا صبح کے وقت گھر میں گھس کر ہم سب کا کام تمام کردیں گی ۔ علی مرد میدان تھے ، شجاع تھے ، بہادر تھے ، حوصلہ مند تھے ، انہوں نے اس خوفناک منظر کو نظر انداز کردیاتھا ، آنے والے حادثے کا تصور ذہن سے مٹادیاتھا تو ساتھ میں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا بھی قوی دل تھیں کہ تحفظ اسلام کے لئے اس خوفناک منظر کو ہیچ سمجھ رہی تھیں ، کیا اسے حضرت فاطمہ کی حوصلہ مندی کا محیر العقول نمونہ نہیں کہاجائے گا ...؟
حقیقت یہ ہے کہ رسول خدا(ص)کو حکم ہجرت اصل میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے استقامت علی الحق کا امتحان تھا ، آپ نے ایسے عالم میں کہ جب گھر دشمنوں اور قاتلوں کی تلواروں سے گھرا ہوا تھا اور آپ اسی گھر میں موجود تھیں نہ کسی ہراس کا مظاہرہ کیا نہ خوف کا اظہار کیا ، نہ جزع و فزع کیا ،نہ گریہ و زاری کی بلکہ پورے اطمینان و سکون کے ساتھ پوری رات گزار دی ، کم سے کم جب حضرت علی علیہ السلام مدینہ کی طرف روانہ ہورہے تھے اور کفار سے مزاحمت کی تھی ، اس وقت تو آپ کو گریہ و زاری کرنا چاہئے تھا لیکن یاد رکھئے گریہ و زاری وہ کرتاہے جسے اسباب پر بھروسہ ہوتاہے جو مخلوق کا سہارا ڈھونڈھتا ہے ۔ حضرت معصومہ گریہ و زاری کیوں کرتیں ، آپ کو تو خالق اسباب پر بھروسہ تھا ، خالق پر توکل تھا ، وہ صنف نسواں کا مثالی کردار تھیں ، اگر وہ گریہ کرتیں تو سخت وسنگین حالات میں راضی برضا رہنے کا سبق کہاں سے ملتا ۔ حضرت مریم کے یہاں جس وقت حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ اب قوم آکر ہمیں طعنہ دے گی تو ان کی دلی کیفیت کی قرآن نے ترجمانی کی ہے کہ '' اے کاش ! میں آج سے پہلے مرگئی ہوتی اور بھولی بسری چیز ہوجاتی '' ۔ یاد رکھئے قرآن میں صنف نسواں کا ایک ہی مثالی کردار ہے حضرت مریم کا جو معصومہ تھیں لیکن صنف نسواں کے لئے ابد آثار نمونۂ عمل ان کے پاس بھی نہیں ہے اس لئے یہ کہاجاسکتاہے کہ جہاں حضرت مریم میں کمی رہ گئی ہے اسے کردار فاطمہ نے پورا کیا ، مریم سخت و سنگین حالات میں جزع و فزع کرتی ہیں اور حضرت فاطمہ زہراء ان سے زیادہ سخت حالات میں صبر و سکون کا مظاہرہ کرتی ہیں ، اسی لئے تو رسول خدا (ص)نے فرمایاتھا کہ بیٹی فاطمہ !مریم اپنے وقت کی عورتوں کی سردار تھیں اور تم قیامت تک کی عورتوں کی سردار ہو ، تم اولین و آخرین کی عورتوں کی سردار ہو۔
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی شجاعت کا ایک دوسرامنظر جنگ احد ہے ، یہ جنگ ٣ ہجری میں ہوئی ، اس جنگ میں حضرت علی کا امتحان تو اس طرح ہوا کہ آ پ نے تحفظ رسالت میں سولہ یا سترہ ایسے زخم کھائے جن سے آپ کا جانبر ہونا مشکل تھا ۔ خود آپ کا ارشاد ہے کہ ہربار میں زخم کھاکر گر پڑتاتھا اور ایسا گرتا تھا کہ میرا اٹھنا ناممکن تھا لیکن کوئی میرا بازو پکڑ کر اٹھادیتاتھا اور میں پھر سے نئی قوت کے ساتھ حمایت و نصرت رسول میں تلوار چلانے لگتاتھا ۔ میدان احد اس قدر بھیانک بن گیاتھا کہ بڑے بڑے لحیم شحیم اصحاب رسول میدان چھوڑ کر بھاگ گئے تھے ، شیطان نے ''قد قتل محمد'' کی آواز بلند کردی تھی ، صحابہ کی اس بے وفائی پر قرآن میں کئی جگہ ان کی مذمت کی گئی ہے ۔ ایسے بھیانک اور حوصلہ شکن ماحول میں جس وقت حضرت فاطمہ نے باپ کے زخمی ہونے کی خبر سنی تو والہانہ میدان احد میں پہونچ گئیں ، ذرا بھی خوف و ہراس کا مظاہرہ نہیں کیا ، میدان میں پہونچ کر باپ کی مرہم پٹی کی ، شوہر کا علاج کیا اور اس ذوالفقار کو صاف کیا ، دھویا جو مجسم شجاعت علی کا قصیدہ تھا ۔ میدان احد میں بڑے بڑے نام نہاد بہادروں کے اوسان خطا کردئیے تھے ،جہاں سے بہادروں کی ٹولی بھاگ گئی تھی وہاں معصومۂ کونین نے پہونچ کر ثبات و صبر کا درس دیا ۔
شجاعت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا سب سے زیادہ لرزہ خیز وفات رسول کے بعد کے حالت پیش کرتے ہیں ، شب ہجرت کا واقعہ یا جنگ احدکا واقعہ صرف اندیشے کی حد تک ہے یعنی زیادہ سے زیادہ یہ سوچا جاسکتا ہے کہ اگر دشمن نے قتل کردیا تو کیا ہوگا ؟ یہ بہرحال خوفناک مناظر ہیں لیکن وفات رسول کے بعد تو آپ پر مصائب انڈیل دئیے گئے اور اچانک مصائب انڈیلے گئے اور اس طرح سے مصائب انڈیلے گئے کہ تصور بھی نہیں کیاجاسکتا ۔کیا کوئی تصور کرسکتاہے کہ جس ڈیوڑھی پر آسمان والے ادب سے حاضری دیتے ہوں ، بارگاہ چوم کر اجازت لیتے ہوں ، اسی ڈیوڑھی پر باپ کے نام نہاد وفادار آگ اور لکڑی لے کر آجائیں ، گستاخانہ باتیں کی جائیں ، دھمکیاں دی جائیں اور دروازہ پہلو پر گرادیا جائے ...ان کربناک حالات کو جھیلنا حضرت معصومۂ کونین ہی کا کلیجہ تھا۔
ہائے !آپ حالات کو جھیل گئیں ، لیکن شدت درد سے بیہوش ہوگئیں ، آپ کی پسلیاں شہید ہوگئیں ، غشی سے آنکھ کھولی تو اور زیادہ ہوش ربا منظر دیکھا ، ایک بزدل ، جس نے جنگ خندق میں عمرو کی آواز پر اپنے حواس گنوادئیے تھے ، گھگھی بندھ گئی تھی ، بولتی بند ہوگئی تھی اور منھ پھاڑ کے بولا بھی تو عمرو کا قصیدہ پڑھنے لگا ...آج وہی بزدل ،قاتل عمرو حضرت علی علیہ السلام کے گلے میں چادر کا پھندا ڈال کر کشاں کشاں مسجد کی طرف لئے جارہاہے ، یہ منظر کسی قوی دل مرد کے لئے بھی روح فرسا تھا ، حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے لئے تو اس لئے بھی یہ منظر عظیم ترین آزمائش تھا کہ وہ قیدی کوئی اور نہیں خود آپ کا شجاع شوہر تھا جو باپ کی وصیت سے مجبور اپنے حالات پر صبر کررہاتھا ، بزدلوں کے مصائب برداشت کررہاتھا ۔
ظاہر ہے کہ ان حالات میں حضرت معصومہ کونین کا ثبات اور استقلال ان کی عظیم شجاعت کا مظہر ہے ، آپ نے دین خدا کی حفاظت کے لئے نہ صرف صبر کیا ، پامردی دکھائی بلکہ ان حالات میں اپنا جہاد اور بھی تیز کردیا ، آپ ان منافقوں سے جہاد کرنے کے لئے گھر سے باہر نکل آئیں ، آپ کا خطبہ فدک عظیم ترین جہاد بھی ہے اور قیامت تک تما م صنف نسواں کے لئے انداز جہاد کا سبق بھی ۔
مرد کا جہاد اس کی تلوار ہے ، نیزہ ہے ، تیر ہے اور عورت کا جہاد اس کی زبان ہے ، اس کی گفتار ہے اور اس کا دل نشین لہجہ ہے۔
آپ گھر سے مسجد میں اس طرح تشریف لائیں کہ سر سے پیر تک چادر اوڑھے ہوئی تھیں ، اس حجاب میں اصحاب رسول نے محسوس کیا کہ آپ کی چال بالکل رسول خدا(ص)کی چال ہے ، اصحاب نے صرف رسول خدا(ص)کی رفتار تک اپنی بات محدود رکھی ، آپ کی تقریر کو رسول خدا(ص)کی تقریر نہیں بتایا اس لئے کہ اس سے خود انہیں لوگوں پر ضرب پڑ رہی تھی۔
آپ نے خطبہ شروع کیا ، ہر طرح کی تعریف و ستائش مخصوص ہے اللہ کے لئے اس کے انعام پر ، اور شکر ہے اس کے الہام پر۔
ذرا ٹھہر کے معصومہ کے اس ابتدائی فقرے پر غور کیجئے اور اس ماحول کا اندازہ کیجئے، آپ نے فرمایا کہ خدا کے انعام پر جو انسان کی تمام زندگی میں بکھرا ہواہے اس کی تعریف کرنی چاہئے اور اس نے زندگی کو بہتر بنانے کے لئے جو بندوں کو الہام فرمایاہے اس پر شکر ادا کرنا چاہئے ، خدا کے انعام نے انسان کو زندگی عطا کی ، خدا کے الہام نے دین اسلام عطا کیا ، انعام پر ستائش و حمد ہے ، الہام پر شکر ہے ، حضرت معصومہ کونین ابتداء ہی میں اصحاب رسول کی احساس فراموشی کا اعلان کررہی ہیں کہ جس خدا نے تمہیں اسلام عطا کیا اور جس رسول نے تم تک اس اسلام کو پہونچا یا اسی خدا کی احسان فراموشی کر کے تم دین سے مرتد ہوگئے ہو ، جس رسول نے تم تک دین اسلام پہونچایا اسی کی پارۂ جگر کو اذیت دے رہے ہو، مصائب کے پہاڑ توڑ رہے ہو ، تم سے زیادہ نمک حرام امت کون ہوگی ؟
آپ نے حمد الٰہی کے بعد اپنے باپ رسول پر صلوات پڑھی اس کے بعد اصحاب کا احساس حق جگانے کے لئے خطاب فرمایا کہ تم ان کے حکم کا مرکز ہو ، میرے باپ جو دین لائے اور ان پر جو وحی آئی ، اس دین و وحی کے حامل ہو ، تم لوگ اپنے نفس پر اللہ کے امین ہو ، تمہاے ہی ذریعہ سے امتوں تک پیغام پہونچے گا ۔
اس کے بعد اپنا تعارف اس طرح فرمایاکہ اے لوگو!اچھی طرح سمجھ لو کہ میں فاطمہ ہوں ، میرے ہی باپ محمد مصطفی ہیں ، یہی بات میں اول بھی کہتی ہوں اور یہی بات میں آخر میں بھی کہتی ہوں اور میں غلط اور خلاف واقع نہیں کہہ رہی ہوں ، میری بات بے ربط بھی نہیں ہے ، میرے باپ تمہارے پاس رسول بن کر آئے ، ان کے اوپر تم لوگوں کی زحمتیں شاق تھیں ، تمہارے مصائب ان سے دیکھے نہ گئے ، وہ تمہاری بھلائی چاہتے تھے اور وہ صاحبان ایمان کے اوپر رحیم و مہربان تھے ۔
جناب معصومہ سلام اللہ علیہا نے بڑی احتیاط برتی ہے اپنی تقریر میں ، آپ نے فرمایا : میرے باپ صاحبان ایمان پر مہربان تھے یعنی یہ جو قرآن میں رسول خدا کے لئے ارشاد ہے کہ تم عالمین کے لئے رحمت ہو ، یہ رحمت و مہربانی صرف دنیا تک محدود ہے ، اگر تم سمجھتے ہو کہ آخرت میں بھی تمہارے اوپر مہربان ہی رہیں گے تو یہ تمہاری خام خیالی ہے ، آخرت میں صرف انہیں لوگوں پر مہربان رہیں گے جو صاحبان ایمان ہیں، جو مرتدنہیں ہوئے ہیں اور جنہوں نے ان کے بعد بھی نبھایا ۔
حضرت فاطمہ زہراء معصومہ تھیں لیکن رسول یا امام نہیں تھیں ، آپ کو خدا نے عصمت عطا کی تھی لیکن منصب نہیں عطا کیاتھا ، اس کی وجہ سمجھنے کے لئے ان دونوں کے مظاہرات پر غور کرنا ہوگا ۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ ہر انسان کو خوبیاں اور اچھائیاں پسند ہیں ، ہر شخص خوبیوں کی تعریف کرتاہے ، اچھے لوگوں سے محبت کرتاہے ، اس لئے تمام انبیاء کے تمام محاسن لوگوں کی نظر میں محبوب تھے ، پسندیدہ تھے ، اصل میں ان سے لوگوں نے اختلاف کیا ان کے منصب کی وجہ سے ، جب انہوں نے ایک خدا کی طرف دعوت دی تو جو لوگ کئی خداؤں کی پرستش کرتے تھے ، انہوں نے مخالفت شروع کروں ، معاشرے کو اپنا ہم خیال بنا لیا۔
خود رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے جب تک اعلان رسالت نہیں کیا تھا سبھی آپ کو صادق کہتے تھے ، امین کہتے تھے ، آپ سے فیصلے کراتے تھے ، آپ کی باتوں کو توجہ سے سنتے تھے لیکن جیسے ہی آپ نے اپنی رسالت کا اعلان کیا ، تمام لوگ آپ کے دشمن ہوگئے ، آپ کا جینا دوبھر کردیا ۔ معلوم ہوا کہ عصمت ایسی چیز ہے ، جسے سبھی لوگ پسند کرتے ہیں ، معصوم سے محبت کرتے ہیں لیکن چونکہ منصب کی وجہ سے لوگوں کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے ، اس لئے منصب کے لوگ دشمن ہوجاتے ہیں ۔
اس معاشرتی مظاہرے سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ خدا نے جناب فاطمہ کو عصمت کیوں عطا کی تھی اور منصب کیوں نہیں عطا کیا تھا ۔ خداوندعالم کو منظور تھا کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا رسالت و امامت کی تقویت کا سبب ہوں ، اس لئے خدا نے معاشرے میں ان کا وقار برقرار رکھنے کے لئے آپ کو عصمت عطا کی بلکہ آپ کو معدن عصمت بنایا ، جناب معصومہ نے اسی لئے اس عطائے پروردگار کو دین خدا کی تقویت کے لئے وقف کردیا ۔ جب رسالت کی گواہی دینے کے لئے میدان مباہلہ میں جانا ہوا تو رسالت کی تصدیق کے لئے تشریف لے گئیں اور جب بعد رسول امامت کے تحفظ کے لئے گھر سے نکلنا پڑا تو گھر سے مسجد میں تشریف لے گئیں ۔
حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا جلال و جمال تھیں ، آپ کی چال بالکل رسول کی چال تھی، آپ کی گفتگو بالکل رسول کی گفتگو تھی ، آپ کا لہجہ بالکل رسول کا لہجہ تھا اور کیوں نہ ہوتا آپ رسول کا پارۂ جگر تھیں ، رسول کا آئینہ تھیں ۔
یہی وجہ ہے کہ جب آپ مطالبۂ فدک کے لئے مسجد میں تشریف لے گئیں تو اگر چہ آپ سر سے پا تک چادر میں چھپی ہوئی تھیں لیکن لوگوں نے آپ کی چال دیکھ کر رونا شروع کردیا ۔اصل میں شہزادی زہرا سلام اللہ علیہا نےیہ انداز اس لئے اختیار کیا تاکہ لوگو ں کے دلوں میں رسول کی یاد تازہ رہے اور جو باتیں بیان کرنا چاہتی ہیں وہ زیادہ موثر ہو ۔اور اس طرح جناب زہرا سلام اللہ علیہا کی یہ منفرد شجاعت تاریخ کے دامن میں محفوظ ہوجائے۔

مقالات کی طرف جائیے