مقالات

 

ام ابیھا

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

رسول خدا(ص)کی پارۂ جگر حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت بعثت کے پانچویں سال یعنی ہجرت سے آٹھ سال قبل ہوئی ۔ آپ جناب خدیجہ اور خاتم الانبیاء کی اکلوتی بیٹی تھیں۔
آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا شرف حاصل کیا لیکن اس کا فکر انگیز رخ یہ بھی ہے کہ آپ نے رسول خدا(ص)کی ہجرت کے بعد رات بھر تلواروں کے حصار میں صبر و استقامت کے ساتھ شجاعت کے جوہر دکھائے۔ یہ عمر وہ ہوتی ہے کہ معمولی خوف کے ماحول میں گریہ و زاری شروع ہوجاتی ہے ، رات اس طرح گزاری کہ گھر کے باہر تلواروں کا پہرہ تھا اور گھر کے اندر سناٹوں کا ۔نہ اضطراب کا مظاہرہ ، نہ چیخنے چلانے کی آواز اور نہ ہی سسکیوں کی آہٹ ،آپ نے ساری رات حالت جنگ میں بسر کی ۔
ہجرت کے دوسرے سال آپ کی شادی حقیقی وصی رسول حضرت علی علیہ السلام سے ہوئی ، آنحضرت نے دوسرے امیدواروں کو یہ کہہ کے اوقات بتائی کہ فاطمہ کی اس شادی میں میرے ارمانوں کو ذرا بھی دخل نہ تھا بلکہ یہ سب کچھ خدا کے حکم سے ہوا ہے ، زمین سے پہلے خدا نے فاطمہ کا عقد آسمان پر کردیاہے ۔
یہ ابد آثار مثالی زندگی اسلام ، قرآن اور احکام الٰہیہ کا نمونہ بھی ہے ، اس زندگی کا جس رخ سے بھی تجزیہ کیاجائے قیامت تک ازدواجی زندگی کے بارے میں استنباط احکام کیا جاسکتاہے کیونکہ زوجہ اور شوہر دونوں ہی معصوم تھے ۔
اس حسین و مقدس معاشرت کا نتیجہ حسن و حسین ، زینب و ام کلثوم اور محسن کی صورت میں جلوہ گر ہوا ، حسن و حسین معصوم اور امام تھے ، دین خدا اور رسالت کے محافظ ...زینب و ام کلثوم جہاد نسواں کا زریں شاہکار اور محافظ امامت تھیں ، تحفظ امامت کی جس نازک اور حوصلہ شکن ڈگر سے بنت رسول کی یہ شاہزادیاں گزریں ہیں اسے'' قریب بہ عصمت ''کردار ہی کہاجاسکتاہے ۔
جناب محسن کو قتیل سقیفہ کہنا چاہئے ، آپ نے اپنے وجود کے ذریعہ ظلم و ستم کی نشاندہی کی ، بالواسطہ طور سے آپ نے حضرت علی کی ولایت و امامت کا اعلان فرمایا،تاریخ امامت و ولایت کے اولین شہید اور قتیل ۔
ابن اثیر نے اسد الغابہ میں حالات فاطمہ کے ذیل میں لکھا : و کانت فاطمة تکنی ام ابیھا'' حضرت فاطمہ کی کنیت ام ابیہا تھی ''۔ (۱)
یہی بات ابن البر نے استیعاب میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث کے عنوان سے نقل کی ہے ؛امام کا ارشاد ہے : کانت کنیة فاطمة بنت رسول اللہ ام ابیہا '' بنت رسول حضرت فاطمہ کی کنیت ام ابیہا تھی ''۔ (۲)
صدیقہ طاہرہ ، رفتار و گفتار میں بالکل رسول اللہ خدا کی مشابہ تھیں ؛اس کی گواہی حضرت عائشہ نے دی ہے ؛ صحیح ترمذی میں ہے : عن عائشة ام المومنین قالت مارایت احدا اشبہ سمتا و لا ھدیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و کانت اذا دخلت علی النبی قال الیہا فقبلھا و اجلسھا فی مجلسہ و کان النبی اذا دخل علیہا قامت من مجلسھا فقبلتہ و اجلسہ فی مجلسھا ۔ (۳)
یہ روایت صحیح ابوداؤد ، مستدرک حاکم ، ادب المفرد امام بخاری ، فتح الباری عسقلانی میں بھی ہے ۔حاکم کے مستدرک الصحیحین میں رسول خدا(ص)کے برتاؤ کا انداز ذرا زیادہ ہی ہے : عن عائشة انھا قالت مارایت احدا کان اشبہ کلا ماو حدیثا من فاطمة برسول الہ و کانت اذا دخلت علیہ رجب بھا قام الیھا فاخذ بیدھا فقبلھا و اجلسھا فی مجلسہ قال ھذا حدیث صحیح علی شرط الشیخین ۔
اس کی روایت ابو عمر کی استعاب بیہقی کی سنن میں بھی ہے ، حضرت عائشہ ہی کا بیان ہے کہ ایک بار رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ(س)کے گلوئے مبارک کا بوسہ لیا ، حضرت عائشہ نے پوچھا کہ آپ نے ایسا برتاؤ فرمایا ہے کہ کبھی دیکھا نہیں گیا ، آپ نے جواب دیا کہ اے عائشہ !میں جب بھی جنت کا مشتاق ہوتاہوں تو فاطمہ کے گلوئے مبارک کا بوسہ لیتا ہوں۔ (۴)
زیر مطالعہ تمام آیات میں ام کا مطلب اصل اور اول ہے چونکہ ماں کسی شخص کی اصل ہوتی ہے ، چنانچہ سورۂ نحل کی ٧٨ویں آیت میں اس کی طرف اشارہ کیاگیا ہے ، وہ اس شخص سے پہلے اور اول بھی ہے جن آیات میں ام الکتاب اور ام القریٰ کہاگیاہے ، وہاں بھی ام کا مطلب اصل ہے ، ام الکتاب بھی اصل الکتاب جس کا مطلب لوح محفوظ ہے ۔
اس طرح جہاں بھی لفظ ام سے کسی چیز یا شخص کی کنیت متعین کی جائے گی ، وہاں ام کا مطلب اصل منشا، منبع ، سرچشمہ اور اول کے معنی مراد لئے جائیں گے ۔ مکہ کو ام القریٰ اسی لئے کہاگیاہے کہ خدانے اسی کو زمین کی اصل قرار دی ہے ۔
لوح محفوظ کو ام الکتاب اس لئے کہاگیاہے کہ یہ تمام صحف آسمانی کی اصل ہے ، اسی طرح لفظ امی کا مطلب بھی واضح ہوجاتاہے ، جو لوگ امی کا مطلب جاہل قرار دیتے ہیں ، انہوں نے سورۂ نحل کی٧٨ ویں آیت کو بنیاد بناکر یہ طے کر لیاہے کہ چونکہ تمام انسان ماں کے پیٹ سے نکلے ہیں اور اس کے بارے میں خدا فرماتاہے : (لا تعلمون شیئا )تم کچھ بھی نہ جانتے تھے'' ۔ اس لئے امی کا مطلب جاہل ہوا ، امی یعنی ماں والا یعنی جاہل ، حالانکہ امی کا مطلب ام القریٰ والا بھی لیاجاسکتاہے اسے کیوں نہ مراد لئے جائیں ، کیا مکہ والے سبھی جاہل تھے ؟ لیکن میرے خیال میں امی کا مطلب ام القریٰ والا کہنے کے بجائے ام الکتاب والا قرار دینا چاہئے ، رسول خدا امی ہیں یعنی ام الکتاب والے لوح محفوظ کے مالک ہیں اور کیوں نہ مالک ہوں جب کہ امام غزالی کے بقول: آپ کے نواسے حضرت امام حسن علیہ السلام گہوارے میں لوح محفوظ کا مطالعہ کرتے تھے ۔
یہ قرآن کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہے کہ جس رسول کی صفت یہ بیان کی جائے کہ وہ کتاب و حکمت کی تعلیم دیتاہے اس رسول کے لئے جب قرآن فرمائے :الذین یتبعوالرسول النبی الامی۔ (۵)
فامنوا باللہ و رسول النبی الامی۔ (۶)
تو اس کا مطلب جاہل اور ان پڑھ کہاجائے ، ام الکتاب یا ام القریٰ میں یائے نسبتی لگا کر فصاحت کلام کے خیال سے القریٰ اور الکتاب کو حذف کردیتے ہیں۔ اردو میں بھی یہ طریقہ رائج ہے جیسے علی گڑھی کے بجائے علیگی اور اعظم گڑھی کے بجائے اعظمی کہاجاتا ہے۔
ام کا مطلب اصل اور سرچشمہ طے ہوجانے کے بعد ام ابیہا کا مفہوم بھی ایک ذرا دقت کے بعد طے ہوسکتا ہے کیونکہ جس طرح انسان کے اعضاء میں اصل اور سرچشمہ اس کا قلب ہوتاہے ، قلب ہی تمام اعضاء کو فعالیت عطا کرتاہے ، توانائی عطا کرتاہے ، اسی طرح جناب فاطمہ زہراء قلب رسول ہیں ،آپ خاتم النبیین کی رسالت کا دل ہیں ، رسول خدا ؐ نے فاطمہ زہراء کا ہاتھ تھام کر فرمایا :
من عرف ھذہ فقد عرفھا و من لم یعرفھا فھی بضعۃ منی ھی قلبی و روحٰ التی بین جنبی فمن آذا ھا فقد آذانی " جو شخص بھی میری اس فاطمہ کو پہچانتا ہے وہ پہچانتا ہے لیکن جو شخص اسے نہیں پہچانتا وہ پہچان لے کہ میری رسالت کا ٹکڑا ہے ، یہ میرا قلب ہے ، یہ میرے پہلو میں جاری و ساری روح ہے ، جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی "۔ (۷)
صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، صحیح ترمذی ، مسند احمد بن حنبل اور الخصائص نسائی نیز اصابہ میں صرف اس قدر نقل کیاگیاہے کہ فاطمۃ بضعۃ منی ۔" فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے غمناک کیا اس نے مجھے غم ناک کیا اور جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔
صحیح بخاری اور خصائص نسائی میں لفظ غضب بھی ہے: فاطمۃ بضعۃ منی فمن ابغضھا فقد ابغضنی " فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے غضبناک کیا اس نے مجھے غضبناک کیا ۔
امام بخاری نے اپنی صحیح میں "فمن ابغضھا" شاید اس لئے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے باب میں شیخین کے بعد غصب فدک جناب فاطمہ زہرا کی بارگاہ میں بنت رسول کا رد عمل یوں بیان کیا گیا ہے : غضب الفاطمۃ " ان دونوں کے معذرت کے الفاظ سن کر جناب فاطمہ غضبناک ہوگئیں "۔آگے کا فقرہ ہے : و لم تتکلم حتی ماتت" اور جناب فاطمہ نے اس کے بعد ان دونوں سے بات نہیں کی یہاں تک کہ مرتے مر گئیں "۔
کسی شخص کے تمام واردات کی اصل اس کا قلب ہے ، قلب ہی اس کا محور ہوتاہے ، رسول خداؐ نے فاطمہ کو اپنے پہلو میں دھڑکتے ہوئے دل سے تشبیہ دے کر تمام رسالت کے واردات کا محور جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو قرار دیا گیا ہے ۔
اور یہ صرف اس لئے ہے کہ تحفظ رسالت کے لئے یہ بات انتہائی ضروری تھی ، یہی اصل مومن اور منافق کی پہچان ہے ، بضعۂ رسول اگر درمیان سے ہٹا دی جائے تو مومن و منافق کی پہچان کا کوئی معیار بھی باقی نہ رہ جائے گا ، وحی ترجمان نے منافق کی پہچان بنت فاطمہ میں منحصر قرار دی ہے ، آپ کے شوہر اور یہ آپ کے بچے ۔
ام کا مطلب اگر اصل قرار دیا جائے تو اصل اسے کہتے ہیں جس کے ذریعہ پہچنوایا جائے ، تعارف کے وقت جسے اصل قرار دیا جائے ۔ حدیث کساء میں اہل بیت کے تعارف کے سلسلے میں خدا نے فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہی کو اصل قرار دے کر فرمایا : ھم فاطمۃ و ابو ھا و بعلھا و بنو ھا ۔
ام کا مطلب جامع بھی بیان کیاگیا ہے بعض مفسرین نے ام الکتاب کا مطلب قرآن کے مطالب و مقاصد کا جامع کہاہے ، اس طرح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ام ابیھا فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ تمام مقاصد رسول کی جامع تھیں ۔
بعض دانشوروں نے مکہ کو ام القریٰ کہے جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ مکہ ہی کی وجہ سے تمام دنیا کو پنہائیاں اور وسعتیں نصیب ہوئیں ، اسی طرح چونکہ رسول کے تمام جلوؤں کا ظہور حضرت فاطمہ کی ذات سے ہوا ، رسول خدا کے کردار و سیرت کے گیارہ درخشاں جلوؤ ں کا سرچشمہ جناب فاطمہ زہرا ہی کی ذات گرامی ہے اس لئے آپ کو ام ابیھا کہاگیا ۔
کلام عرب میں ام کا مطلب ایسا خادم بھی ہے جو طعام کا بندوبست کرے یا جس کے ذمہ کھانے پینے کی کارگردگی حوالے کی جائے ، حضرت فاطمہ باپ کی اس خدمت میں ممتاز نظر آتی ہیں ، اکثر جب آپ کی زوجات کے یہاں کچھ نہیں ہوتا تھا تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے :میرے کھانے کا بندوبست کرو۔ جو کچھ موجود ہوتا آپ اسے ان کے حوالے کردیتی تھیں ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ جب کچھ میسر نہ ہوتا تو مائدہ آسمان نازل ہوتا تھا ، بہر حال حضرت فاطمہ متولی طعام آنحضرت تھیں ۔
کلام عرب میں ام کا مطلب امراۃ مشئتہ ترجل بھی عام طور سے شائع ہے ، کسی شخص کے بچوں کی ماں کو بھی ام کہاجاتا ہے ، جناب فاطمہ کے تمام بچے فرزند رسول ہیں ، آیات و احادیث پوری طرح اس باپ پر دلالت کرتی ہیں ، آیۂ مبارکہ میں ابناء نا سے مراد حضرت فاطمہ کے فرزند ہیں ، جس طرح نساءنا سے مراد حضرت فاطمہ ہیں ، آیت کے یہ دونوں الفاظ رسالت سے مخصوص ہیں یعنی حضرات حسنین رسالت کے فرزند اور حضرت فاطمہ رسالت کے مثالی عورت کے عنوان سے متعارف کئے گئے لیکن اس کے علاوہ بھی حضرت فاطمہ کے تمام غیر معصوم بچے بھی فرزند رسول ہیں ۔
چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک منکر کے سامنے مقام استدلال میں راوی سے فرمایا کہ اب میں تمہارے سامنے ایسا استدلال پیش کرتا ہوں کہ حریف کو مانے بغیر چارہ نہ رہے گا ۔ راوی نے بڑے شوق سے وہ آیت دریافت کی تو امام نے یہ آیت پڑھی :
حرمت علیکم امھاتکم و بناتکم و اخواتکم ... و حلائل ابنائکم " تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں ، تمہاری بیٹیاں ، تمہاری بہنیں ، تمہاری پھوپھیاں ، تمہاری خالائیں ... اور تمہارے فرزندوں کی بی بیاں جو تمہارے صلب سے ہیں"۔ آیت کے اس آخری فقرے کے بارے میں امام نے راوی سے کہا کہ تم منکر سے سوال کرو کہ کیا رسول خداؐ کے لئے جائز ہے کہ وہ خلیفہ حسن و حسین سے کرسکیں ، اگر وہ ہاں کہے تو یقیناً جھوٹ بولتا ہے اور وہ کہے نہیں تو یہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ حضرت فاطمہ کے بطن سے جو فرزند ہیں ، سبھی فرزندان رسول ہیں اور انہیں خدا ہی نے صلب پیغمبر سے قرار دیا ہے ، اس طرح فرزندان رسول خداؐ کی ماں حضرت فاطمہ ہیں اس لئے آپ کی کنیت ام ابیھا قرار پائی ۔

حوالہ جات
۱ ۔ اسد الغابہ ٥ ص ٥٢٠
۲ ۔ استیعاب ج٢ ص ٧٥٣
۳۔ صحیح ترمذی ٢ ص ٣١٩؛ نیز ملاحظہ فرمائیے : صحیح حافظ بن حیان ج۱۵ ص ۴۰۳ح۶۹۵۳؛ ذخائر العقبیٰ ص ۴۰
۴۔ ذخائر العقبیٰ ص٢٦
۵۔ اعراف /۱۵۷
۶۔ اعراف /۱۵۸
۷۔ نزھۃ المجالس ج۲ ص ۲۲۸

مقالات کی طرف جائیے