مقالات

 

غدیر ؛ دامن کی دھجیاں

ادیب عصر مولانا سید علی اختر رضوی شعور گوپال پوری

واقعۂ غدیر ابتداء سے انتہاتک انتہائی حساس ہے اور ہونا بھی چاہئے ،نبوت کا تسلسل اپنی معراج حاصل کر رہاتھا ،الٰہی نظام ہدایت خوبصورت موڑ لے رہاتھا ،گذشتہ شریعت کی بہاروں کا عطر نچوڑا جارہاتھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ نفاق اور دوغلے اسلام کے پاؤں میں زنجیر پہنائی جا رہی تھی ،گلے میں طوق ڈالا جا رہاتھا ۔
لیکن سازشوں کی آنتیں بھی بڑی لمبی ہوتی ہیں ،وہ خارجی رکاوٹوں کو محسوس کر کے داخلی بھول بھلیاں تعمیر کرنے لگ جاتی ہیں ،اسی لئے قرآن میں اسے نفاق کہا گیاہے ۔
آپ نے چوہے کاسوراخ دیکھا ہوگا ،اگر نہیں دیکھا ہو تو دیکھئے ،کھیت کے منڈیروں ،خام کمروں اور نسبتاً بلند ٹیلوں پر آڑے ترچھے پر پیچ سوراخوں کو اچھی طرح ملاحظہ کیجئے، راستوںمیں نکلے راستوں کو سمجھنے کی کوشش کیجئے ،اندر ہی اندر نکل بھاگنے کی مختلف تدبیروں کا جائزہ لیجئے ،آپ کو نفاق سمجھ میں آجائے گا ۔''نفق '' لغات اضداد میں ہے ،چوہے کا اپنے سوراخ میں داخل ہونا اور سوراخ سے باہر نکلنا ۔اسی کی اضافت جب دین کے ساتھ کی جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں :دل میں کفر چھپاکر زبان سے اسلام کا اقرار کرنا ۔
منافق اپنی موقع پرستی اور ریاکاری سے بگڑے حالات میں بھی مفاد کے راستے نکال ہی لیتاہے۔
ذرا اعلان غدیر کی طرف بھی نظر اٹھائیے !خاتم الانبیاءؐنے ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ مجمع کے سامنے سوال کیا :الست اولی بکم من انفسکم''کیا میں تمہارے نفسوں پر تم سے زیادہ با اختیار نہیںہوں ''؟یہ سوال بڑاہی جامع اور بلیغ تھا ،اس سوال کی پنہائیوں میں وہ تمام اختیارات آجاتے ہیںجو خدا نے اپنے نبی کو دینی اور دنیاوی اعتبار سے عطا فرمائے ہیں۔نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرنی چاہئے ،نبی کی مکمل اور بھرپور اطاعت کرنی چاہئے،اپنے تمام جذبات و احساسات آپ کی مقدس شخصیت کی نذر کر دینا چاہئے ، اس کے بعد نبی کے حکم کے آگے تمام ارمانوں کا نذرانہ پیش کرنا چاہئے ،نبی پر قولی ،عملی ،فکری ،نفسیاتی ،اخلاقی ،جمالی غرض کسی قسم کی سبقت نہیں کرنی چاہئے ،نبی کا احترام باپ سے زیادہ کرنا چاہئے ،اس کے معنوی برکات کی طرف ہر لمحہ نگراںرہنا چاہئے ،نبی کا معتمد بننے کی ہر ممکن سعی کرنی چاہئے کیونکہ نبی کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے ۔وہ وحی الہی کا پابند اور معصوم ہوتاہے ،اپنی قوم کا خیر خواہ ہوتاہے ،وہ کوئی بات خلاف حق نہیں کہتا ،ا س کی مخالفت پوری انسانیت کے ساتھ غداری کے مترادف ہے ۔
یہ اور اس جیسے بہت سے حقائق و مفاہیم جو قرآن کی روشنی میں متعین ہوتے ہیں ،ان کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں سے مستعار سوال کا جواب خاتم الانبیاءؐمانگ رہے تھے ،ان تمام افراد سے جو خوش قسمتی سے حاجی بھی تھے اور صحابی بھی۔
اور انہیں ہمہ گیر مفاہیم کو سامنے رکھتے ہوئے سارے مجمع نے بیک زبان کہا :بلی یا رسول اللہ !...''ہاں!ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ ہمارے نفسوں پر مکمل اختیار رکھتے ہیں ،آپ ہمارے مولا ہیں،بالکل اسی طرح مولا ہیں جس طرح خدا ہمارا مولا ہے ۔ہم آپ کے پوری طرح پابند ہیں،ہماری زندگی آپ کے حوالے ہے''۔
اس اقرار کے بعد آپ نے اعلان فرمایا :من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم و ال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ''جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں ، خدایا! اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو اسے دشمن رکھے، اس کی نصرت کرنے والے کی نصرت کر اور اسے خوار کرنے والے کو ذلیل و خوار کردے''۔
ظاہر ہے کہ اس اعلان کا مطلب یہ تھاکہ جو کچھ خدا کی جانب سے میرے اختیارات تھے ،جو کچھ قرآن کی روشنی میں میری حیثیت تھی وہ پوری طرح اب علی کی طرف منتقل ہو گئی ہے ،اب ان کے معتمد بننے کی کوشش کرنا ،میری ہی طرح ان کا احترام کرنا ،ان کو نمائندۂ الہی سمجھنا ،اپنے جذبات و احساسا ت کا نذرانہ انہیں کی بارگاہ میں پیش کرنا ،ان کے معنوی برکات کی طرف ہر لمحہ نگراں رہنا ،ان کی مخالفت پوری انسانیت کے ساتھ غداری ہے ۔
اس اعلان کو قلب و نظر میں راسخ کرنے اور ذہن و حافظے میں پوری طرح محیط رکھنے کے لئے آپ نے محض زبانی اقرار پر اکتفا نہ کرکے عملی اقرار کا اہتمام فرمایا ۔اپنی جانشینی و نیابت کی رسم تاج گذاری کے بطور عمامۂ سحاب اپنے ہاتھوں علی کے سر پر باندھا ۔ پھر دو خیمے نصب فرمانے کا حکم دیا ،ایک میں خود جلوہ فرماہوئے ،دوسرے میں علی کو بٹھایا اور تمام افراد کو منصب ولایت کی تہنیت پیش کرنے کا حکم دیا ۔
تاریخ و سیرت کی کتابوں میں اس موقع کی والہانہ منظر کشی کی گئی ہے ،زید بن ارقم کا بیان ہے کہ لوگ ٹوٹے پڑتے تھے ،تہنیت پیش کرنے کے لئے ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کر رہے تھے ،تین روز تک یہ مبارکباد ی کا سلسلہ جاری رہا ۔اس نشاط افروز تقریب کی گہماگہمی کی وجہ سے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نماز یں ایک ساتھ ادا کی گئیں۔(١)
خاص طور سے چند مشائخ قریش کے الفاظ تہنیت ملتے ہیں:بخ بخ لک یا بن ابی طالب لقد اصبحت مولای و مولا کل مومن و مومنة''مبارک ہو مبارک ہو اے ابوطالب کے فرزند !یقینا آپ میرے اور تمام مو من و مومنہ کے مولا ہوگئے''۔(۲)
سیرت کی کتابوں میں الفاظ کا اختلاف ہے لیکن مفہوم سب کا ایک ہی ہے ،کہیں ہے : ھنیئا ًلک یابن ابی طالب اصبحت و امسیت مولا کل مومن و مومنة۔(۳)
کہیں ہے: پس عمر اور ابو بکر نے کہا:امسیت یابن ابی طالب مولی کل مومن و مومنة۔(٤ )
کہیں ہے:ھنیاًلک یاابالحسن !اصبحت مولی کل مسلم ۔(٥)
کسی کتاب میں ہے :طوبی لک یا علی !اصبحت مولی کل مومن ومومنة۔ (۶)
سید محمود شیخانی ''الصراط السوی فی مناقب آل النبی ''میں اس واقعہ تہنیت شیخین کو براء بن عاذب کی سند سے نقل کرکے کہتے ہیں کہ ذہبی کی نظر میں یہ حدیث حسن و صحیح ہے۔ تمام جمہور اہل سنت اس کی صحت پر متفق ہیں۔(۷)
یہ واقعہ جس قدر ایمان افروز ہے اسی قدر عبرت انگیز بھی ہے ،ٹھیک ستر٧٠ دن کے بعد ادھر آفتاب رسالت غروب ہوا اور ادھر نبوت کی تمنائیں گونگے کا خواب بن گئیں،تہنیت کے فقرے راکھ کا ڈھیر بن گئے ،خود سپردگی کی باتیں برف کی سل بن گئیں۔
ظاہر ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ مجمع کی بات اسقدر آسانی سے ہضم ہونے والی نہ تھی ،درمیان کے ستر٧٠ دنوں میں سازشوں کے اس قدر قوی جال بنے گئے کہ جس میں فکر و نظر اور عقائد کے عقابی پرندے بھی پھنس کر وہ گئے ۔اس جال میں پھنسنے سے جو بچ گئے ان کی تعداد انگلیوں پر گنے جانے کے قابل ہے ۔ائمہ معصومینؑ نے بارہ یا تیرہ اصحاب رسول سے زیادہ کی نشاندہی نہیں کی ہے ،اگر اس سازش کا عمومی تجزیہ کیاجائے تو بات یہی سمجھ میں آئے گی کہ علی کو مولانا کہنے والے ان میں کیڑے نکالنے لگے ،اسلام کی ہمدردی کی دہائی دینے لگے ،اپنے زعم ناقص میں ایمان کی بہی خواہی کے نام پر علی کی وقعت و عظمت کم کرنے کی سعی کرنے لگے ،ان کا شرعی احترام خاک میں ملانے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملانے لگے ۔
ابن ابی الحدید معتزلی کی شرح نہج البلاغہ دیکھنے سے اس کا تھوڑا بہت خاکہ جو ہمارے ذہنوں میںمرتسم ہوتاہے وہ انتہائی مضحکہ خیز اور عبرتناک ہے ،مثلاًعلی میں شوخی ہے ، دعابة ہے ،وہ کسی بات کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیتے ،ان میں بچپنا ہے ،انہوں نے اپنی جانثاری و فداکاری سے تمام عرب کو اپنا دشمن بنا لیاہے ،ان کا اقتدار گڑے مردے اکھاڑے گا ،اسلام کو نقصان پہونچے گا ،ادھر چند مشائخ قریش سیاسی ہوابنارہے تھے ، سنجیدگی سے سادہ لوحوں کو شیشے میں اتار رہے تھے ،ادھر مقتولین کے ورثاء ان کی ایماء پر مظاہرۂ نفرت کی تمام حدیں پھلانگ رہے تھے ۔دشنام طرازی ،الزام تراشی ،یاوہ گوئی و اتہام کے ڈھیر لگا رہے تھے...۔(۸)
نتیجہ جو کچھ ہوا سب کے سامنے ہے ،غدیر میں علی کو مولانا کہنے والے مولانا پرطعن و تشنیع کو فیشن کی طرح برت کے اسلام و ایمان کو بیخ و بن سے اکھاڑنے میں مصروف ہوگئے ۔کچھ لوگ شعوری طور پر اپنے مفادات کے لئے ایسا کر رہے تھے اور کچھ سادہ لوح محض فیشن میں یہ گھنائونی حرکت کررہے تھے ،افتراق امت کا افسوسناک چکر چلا ،مخلص مومنین کا ولولہ سرد پڑا ،تبلیغ و اشاعت دین رجعت قہقہری کے شکنجے میں پڑگیا ۔حقیقی مولانا کے مقابلے میں مصنوعی مولانا کی بن آئی ،لوگ نمائندۂ شریعت پر طنز کر کے غیر شعوری طور پر شریعت کو ٹھوکروں میں لینے لگے ،ان کا ایمان مغز کے بجائے چھلکوں پر مطمئن ہو گیا،دین کی حقیقی قدریں معدوم ہونے لگیں،علم و دانش کی ریڑھ ماری جانے لگی ،من مانے قرآنی مطالب بازار میں رائج ہوگئے ۔
اس المیہ کا سب سے اہم ارتکاز تھا مولا علی کی تحقیر و تذلیل ۔کیونکہ اگر مولا علی لوگوں کی نظر سے گر گئے تو ان کی بات بے وقعت ہوجائے گی ،ان کا استحقاق راستے کی دھول بن جائے گا ،کوئی ان کی طرف توجہ نہ دے گا ...پھر اپنے لئے میدان صاف ہوجائے گا ۔ اور ہوا بھی ایسا ہی لیکن حضرت علی کا احترام ختم کر کے دین کو بے وقعت کیاگیا ،شریعت کو توجہات سے پرے پھینک دیاگیا،ایمان کا جنازہ نکال دیاگیا۔
انسان کوئی بات قبول کر نے سے پہلے یہ دیکھتاہے کہ کون کہہ رہاہے اور کیاکہہ رہاہے ۔ان دونوں رخوں میں کون کہہ رہاہے کی زیادہ اہمیت ہے، کیاکہہ رہاہے کی بات ثانوی ہے۔اگر قائل کو نظروں سے گرادیاجائے تو قول لامحالہ بے وقعت ہوجائیگا ، حضرت علی کو لوگوں نے اس قدر نظروں سے گرانے کی کوشش کی تھی کہ آپ کی ہربات نظر انداز کی جانے لگی تھی ،دین و شریعت کا نقصان ہورہاتھا ،معارف و حقائق کے اس بھیانک زیاں کے پیش نظر آپ نے لوگوں کے فکر و نظر کی اصلاح فرمائی کہ قائل کو مت دیکھو، قول دیکھو۔
اس تحقیر کا نمایاں ترین پہلو کعبہ میں نظر آیا ،جب حالت طواف میں حضرت علی کے لئے ایک اعرابی نے کہا کہ وہ کیا فیصلہ کریں گے ۔منظر ایسا ہی بھیانک تھا کہ خود حضرت عمر جواس بازیگری کے مرکزی کردار تھے ،بھڑک اٹھے ،جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑا اور کہنے لگے :تیری ماں تیرے ماتم میں روئے تو جانتا نہیں وہ تمام مومن و مومنہ کے مولا ہیں ، جس کے وہ مولا نہیں وہ مومن نہیں ۔(۹)
مولا علی کا وہ المیہ عہد بہ عہد ہمارا مقدر ہوچکا ہے ،آج بھی علماء کو مولانا کہاجاتاہے ، وہ ذمہ دار شریعت ہیں ،نائب امام ہیں ،دین و شریعت کے معاملے میں عوام ان کے محتاج ہیں ،ان کے احترام سے دین و شریعت محترم ہوتے ہیں ،ان کاوقار بلند کیاجاتاہے تو احکام خداو رسول کی وقعت دلوں میں جاگزیں ہوتی ہے ،ان کو اہمیت دی جاتی ہے تو ائمہ کے آثار پروان چڑھتے ہیں،قرآن کی نظر میں وہ خدا کی روشن نشانیاں ہیں ،رسول کی زبان میں درخشاں ستارے ہیں ،اپنے عہد کے عقائد و اعمال کے ذمہ دار ہیں ،ان کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے افضل ہے ،ان کے وجود سے دین کے قصر ثابت و استوار ہیں...۔لیکن ان کی افادیت اسی وقت ترویج پاسکتی ہے جب ان کا احترام دلوں میں جاگزیں ہو ،شعیرة اللہ سمجھ کے عظمت کا مظاہرہ کیاجائے اور ان کی عزت کی جائے ۔ ان پر تنقید و طعن و تشنیع کا رویہ اپنانے سے تنفر کی فضا پیدا ہوتی ہے ۔اگر وہ سماج کی نظر سے گر جائیں تو معنوی قدر و قیمت ختم ہوجائے گی ،سماج کا روحانی دیوالیہ ہوجائے گا، تمام عبادتیں قطعی بے روح ہوکے رہ جائیں گی ۔
ایشیاء میں برطانوی سامراج کا تین سو سال معنوی لحاظ سے انتہائی بھیانک رہاہے ، اسے اپنے پیر جمانے میں صرف اسلام ہی سے مزاحمت کا سامنا تھا ،وہ جہاں بھی سبزہ زار دیکھ رہے تھے وہاں اسلام ہی تھا۔عرب ممالک ،افریقہ کے ترقی پذیر علاقے،ایران ،افغانستان اور غیر منقسم ہندوستان ۔انہوں نے بڑی باریکی سے ان حالات کے داخلی پہلوئوں کا مطالعہ کیا اور دور رس حملہ آور حکمت عملی اپنانے لگے ،ان کے حملے کا سب سے مضبوظ محاذ علماء ہی تھے ،عیسائیوں نے دیکھا کہ مسلمان کی اکثریت جاہل ہوتے ہوئے بھی چوکنا ہے ،وہ زندگی کے آثار و مظاہرات سے مالامال ہے ،اس کے پاس غیر متزلزل ثقافت ہے ،پوری زندگی میں بندگی کا رچائو ہے اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ان کا علماء سے رابطہ ہے ،وہ علماء کا احترام کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں جنگی حکمت عملی کا ایک انداز تو یہ تھا کہ براہ راست علماء کو زیر کرنے کی سعی کی جاتی ،لیکن اس سے عوام بھڑک اٹھتی اور اسلام و عیسائیت کی سیدھی ٹکر عیسائیت کے سارے کس بل نکال دیتی ۔اس چالاک و عیار قوم نے غدیر کے بھیڑیوں کا نسخہ استعمال کیا ،انہوں نے بظاہر علماء سے رابطہ قائم کیا اور ان کی کمزور یوں کو عوام میں اچھالا ، عوام کے فکر و نظر میں دین و سیاست کا الگ الگ تصور بٹھایا ،حاکمیت سے علم کا تعلق ختم کیا، علم اور اقتدار کے الگ الگ گھروندے بنائے ،پروپیگنڈے کے ذریعے کچھ مصنوعی علماء عوام کے سامنے پیش کر دئیے کہ اشتباہ کا فائدہ انہیں کو ہوگا ۔
ظاہر ہے کہ یہ تمام کریت منافقین غدیر ہی کی جھولی سے حاصل کئے گئے ہیں ،اب تو علماء کی ناقدری ترقی پسندی کی علامت بن گئی ہے ،شعر و ادب کا ہیجان انگیز مفہوم تذلیل علماء ہی ہے ،ایران کے ملا ،برصغیر کے مولوی ،شیخ ،واعظ ،امام ،الم غلم ،الا بلا نہ معلوم کیا کیا۔ آج ضرورت ہے غدیر کی طرف حقیقی بازگشت کی ،ہم جس کے مولا ہونے کا اقرار کررہے ہیں ،جنہیں مولانا کہہ رہے ہیں ،ان کی روحانی برتری بھی تسلیم کریں ،ان کا احترام کریں ،ان سے رابطہ قائم کریں ،ان سے لو لگائیں تاکہ تمام زندگی منور ہوسکے ۔

حوالجات
١۔کتاب الولایة ، طبری
٢۔مرآة المومنین ص ٤١؛ جامع البیان طبری ج٣ ص ٣٢٨؛ الصواعق المحرقہ ؛ الفصول المہمہ ص ٢٥؛ نظم درر السمطین ص ١٠٩
٣۔المصنف ج١٢ ص ٧٨ح١٢١٦٧
٤۔حافظ احمد بن عقدہ کی کتاب الولایة
٥۔ابو محمد احمد عاصمی کی کتاب زین الفتی
۶۔شہر ستانی کی الملل والنحل مطبوع بر حاشیہ الفصل ج١ ص ٢٢٠
۷۔واضح رہے کہ مشائخ قریش خاص طور سے شیخین کی تہنیت کے الفاظ کو جن ائمہ حدیث و تفسیر و تاریخ نے اپنی کتابوں میں لکھاہے ، ان کا احاطہ آسان نہیں ہے ، ان کا سلسلہ اسناد ابن عباس ، ابو ہریرہ ، براء بن عاذب اور زید بن ارقم تک پہونچتاہے ۔علامہ امینی نے ٦٠ مورخین کے اسماء قلمبند کئے ہیں جنہوں نے خاص طور سے شیخین کی تہنیت کے الفاظ کو نقل کیاہے ۔ ملاحظہ ہو : غدیر ؛ قرآن ، حدیث اور ادب میں ج١ ص ٣١٣۔٣١٥
۸۔شرح ابن ابی الحدید ج١ ص ١٣٢خطبہ ٢٦؛ ج٢ ص ٢٠ خطبہ ٦٦ ۔ خود عمر بن خطاب نے ابن عباس سے یہ جملہ کہاجو یقینا مضحکہ خیز ہے: انا واللہ ما فعلنا ہ عن عد اوة و لکن استصغرناہ ، و حسبنا ان لا یجتمع علیہ العرب و قریش لما قد و ترھا''خدا کی قسم ! ہم نے یہ کام دشمنی میںانجام نہیں دیا بلکہ جب ہم نے علی کو کم سن دیکھا تو سوچا کہ عرب و قریش ان کی گردن پر موجود خون کی وجہ سے ان کی بیعت نہیں کریں گے ''۔ ابن عباس نے اس کا منھ توڑ جواب دیتے ہوئے فرمایا: کان رسول اللہ یبعثہ فینطح کبشھا فلم یستصغرہ افتستصغرہ انت و صاحبک ''رسول خداؐ تو انہیں روانہ فرماتے تھے اور کم سن شمار نہیں کرتے تھے ، تم اور تمہارے دوست انہیں کم سن شمار کرتے ہو''۔(کنز العمال ج٦ ص٣٩١ ( ج١٣ ص ١٠٩ ح٣٦٣٥٧) ) .... ایک دوسری روایت میں ہے کہ عمر نے ابن عباس سے کہا: یا بن عباس ما اظن صاحبک الا مظلوما ''اے ابن عباس ! تمہارے صاحب کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ وہ مظلوم ہیں''۔ابن عباس بولے : واللہ ما استصغرہ اللہ حین امرہ ان یاخذ سورة براء ة من ابی بکر''خدا کی قسم ! خدا نے انہیںاس وقت کم سن شمار نہیں کیا جب اس نے حکم دیا کہ ابوبکر سے سورۂ برأ ت لے لو''۔(شرح نہج البلاغہ ، ابن ابی الحدید ج٦ ص ٤٥خطبہ ٦٦)
۹۔الریاض النضرة ج٣ص١١٥؛ذخائر العقبیٰ ص٦٨؛وسیلة المآل ص١١٩باب ٤؛مناقب خوارزمی ص١٦٠ح ١٩١

مقالات کی طرف جائیے